تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی تھانویؒ کا فتویٰ
سوال:مفتی ندیم احمد صاحب! تراویح پڑھانے پر اجرت نہیں ہدیہ دیا جاتا ہے، ہدیہ کے ناجائز ہونے پر کیا دلیل ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حضرت مولانا ظفر احمد تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں:جو شخص مسجد کا امام معین نہیں اس کو محض تراویح سنانے پر کچھ روپیہ لینا ناجائز ہے، اور اگر امامِ مسجد ہے تو اس کو محض تنخواہ ِمعینہ کا لینا جائز ہے، تراویح سناکر اس سے زیادہ لینا ناجائز ہے، خواہ کسی غرض کے لیے لیا جائے۔ رہا یہ عذر کہ لوگ محض خوشی سے ہدیۃً دیتے ہیں ، تراویح کا عوض نہیں دیتے، سراسر غلط تاویل ہے، اگر ہدیہ بہ طیبِ نفس ہے عوضِ تراویح نہیں تو اور ایّام میں کیوں نہیں دیتے؟ اور بدون تراویح سنائے کیوں نہیں دیتے؟ [امدادالاحکام]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






