Home Darul Ifta اُدھار دیے ہوئے مال پر زکوٰۃ

اُدھار دیے ہوئے مال پر زکوٰۃ

اُدھار دیے ہوئے مال پر زکوٰۃ

سوال: حضرت مفتی ندیم صاحب دامت برکاتہم! ایک آدمی نے کچھ مال لوگوں کو قرض پر دیا، اس کی رقم آنا باقی ہے، کیا اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی؟ اور اگر رقم ملنے کی امید نہ ہو تو کیا حکم ہوگا؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:جو مال لوگوں کو ادھار دیا ہے اور اس کی قیمت ان لوگوں کے ذمّے باقی ہے ، اس واجب الادا رقم میں بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، بہ شرط یہ کہ قیمت وصول ہونے کی توقع ہو، اگر کسی وجہ سے اس مال کے وصول ہونے کی امید نہ ہو جیسے وہ فرار ہو گیا ہو یا دیوالیہ ہو گیا ہو یا سامان واپس کرنے سے انکار کرتا ہو تو اس صورت میں ان پیسوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔[دیکھیے کتاب الفتاویٰ] یعنی کسی نے قرض کے طور پر کسی کو رقم دی تو جہاں سے رقم ملنے سے بالکل مایوسی ہو گئی ہو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں، اگر آیندہ کبھی مل جائے تو صرف اسی سال کی زکوٰۃ دینی ہوگی جس سال ملی ہے۔ ہاں اگر بالکل مایوسی نہ ہوئی ہو بلکہ دونوں احتمال ہوں کہ ملے یا نہ ملے تو اس کی زکوٰۃ مؤخر کر سکتے ہیں، لیکن جب ملے اس وقت پچھلے سالوں کی زکوٰۃ بھی دینی ہوگی۔[دیکھیے فتاویٰ عثمانی]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here