ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
نوٹ: رسول اللہ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے چالیس حدیثیں میری امت تک پہنچائیں،اس سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ ’جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے‘۔ایک روایت میں ہےکہ ’قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا‘۔ایک روایت میں ہے کہ ’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے فقیہ و عالم بنا کر اٹھائیں گے‘۔ ایک روایت میں ہے کہ ’اسے فُقہا وعُلماکے زمرے میں اٹھایا جائے گا‘۔[الاربعین النوویۃ]اسی بشارت کے حصول کے لیے حج و عمرہ کے موضوع پر یہ چہل احایث جمع کی گئی ہیں، آپ بھی اِنھیںدوسروں تک پہنچائیں اور اس بشارت کے مستحق بنیں!
سب سے افضل عمل
[۱]رسول اللہﷺ سے دریافت کیا گیا؛ اے اللہ کے رسولﷺ! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پر ایمان لانا۔ سائل نے دریافت کیا: پھر کون سا عمل افضل ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ سائل نے عرض کیا: پھر کون سا عمل افضل ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: حجِ مبرور (یعنی مقبول حج)۔ [بخاری]
سابقہ تمام گناہوں کی معافی
[۲]رسول اللہﷺ کا ارشادہے:اسلام لانے سے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، دار الکفرسے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اسی طرح حج کرنے سے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔[مسلم][۳]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے حج کیا اور اس میں کوئی فحش یا گناہ کا کام نہیں کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے گئے۔[ترمذی]
حج و عمرے کا ثواب
[۴]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ اور حجِ مقبول کا بدل جنت ہی ہے۔ [ترمذی]
ہر قدم پر ثواب
[۵]رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:حاجی کا اونٹ کوئی قدم نہیں اٹھاتا اور کوئی ہاتھ نہیں رکھتا، مگر اللہ تعالیٰ اس (حاجی) کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، اس سے ایک گناہ مٹا دیتا ہے، ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔[شعب الایمان]
پیدل حج کا ثواب
[۶]حضرت عبد اللہ بن عباسؓنے سخت بیماری کی حالت میں اپنی اولادکو بلا کر جمع کیا اور ان سے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے مکہ مکرمہ سے پیدل حج کیا،اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں یہاں تک کہ مکہ واپس آجائے، اور ہر نیکی حرم کی نیکی کے برابر ہوتی ہے۔ دریافت کیا گیا: حرم کی نیکی سے کیامراد ہے؟ ارشاد فرمایا: ہر نیکی پر ایک لاکھ نیکیاں۔[الترغیب]
حج میں فوت ہونے والا
[۷]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص حج کے ارادے سے نکلا اور مر گیا(یعنی گھر واپس نہ آسکا) ، اس کے لیے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور جو عمرے کی نیت سے نکلا اور مر گیا اس کے لیے قیامت تک عمرےکا ثواب لکھا جاتا ہے، جو جہاد کے لیے نکلا اور مر گیا اس کے لیے قیامت تک غازی کا ثواب لکھاجاتا ہے۔[الترغیب]
حج کی برکت
[۸]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:حاجی کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اس کی بھی جس کے لیے وہ دعا کرے۔ [کشف الاستار] [۹]ایک شخص عرفات میں رسول اللہﷺ کے ساتھ کھڑا تھا، اچانک وہ سواری سے گرا اور مر گیا، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے بیری کے پانی سے غسل دو اور اُنھی کپڑوں (احرام) میں کفنا دو اور اس کا سر مت ڈھانپو، کیوں کہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوئے اٹھے گا۔ [بخاری]
حج میں خرچ کرنے کا ثواب
[۱۰]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:حج میں مال خرچ کرناثواب کے اعتبار سے جہاد میں مال خرچ کرنے سے سات سو گُنا بڑھا ہوا ہے۔[الترغیب]
چار سو لوگوں کی سفارش
[۱۱]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک حاجی کو اپنے خاندان کے۴۰۰ ؍لوگوں کے لیے شفاعت کا اختیار دیا جائےگا۔ [کشف الاستار]
پے در پے حج و عمرے کا ثواب
[۱۲]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:حج اور عمرے پے درپے کیا کرو، کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جیسے آگ کی بھٹّی لوہے سونے اور چاندی کے میل کو ختم کر دیتی ہے، اور حجِ مقبول کا بدلہ صرف جنت ہی ہے۔[ترمذی]
عورتوں و کمزوروں کا جہاد
[۱۳]حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انھوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ!ہم جہاد کو سب سے بہترعمل سمجھتی ہیں تو کیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: (عورتوں کے لیے) سب سے افضل جہاد حجِ مقبول ہے۔ [بخاری] [۱۴]حضرت ام سلمہؓ کی روایت میں ہے،رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حج کرنا ہر ضعیف و کمزور کا جہاد ہے۔ [ابن ماجہ]
تلبیہ پر بشارت
[۱۵]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:کوئی بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے والااور تکبیر کہنے والا نہیں، مگر یہ کہ اسے بشارت دی جاتی ہے۔ دریافت کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا جنت کی بشارت؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں۔[مجمع الزوائد] [۱۶]رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو محرم بھی رضائے الٰہی کی لیےدن بھر تلبیہ کہتا رہے،یہاں تک کہ سورج غروب ہو، تو سورج اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہوگا اور وہ (گناہوں سے) ایسا (پاک صاف) ہو جائے گا، جیسا اسے اس کی والدہ نے جنا تھا۔ [ابن ماجہ]
تلبیہ اور قربانی کی فضیلت
[۱۷]رسول اللہﷺ سے دریافت کیا گیا؛ کون سا حج افضل ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جس میں تلبیہ ( لبیک) کی کثرت ہو اور خون بہایا جائے (یعنی قربانی کی جائے)۔[ترمذی]
حجرِ اسود کی گواہی
[۱۸]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:رُ کنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے نور کو بجھا دیا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بجھاتا تو ان سے مشرق سے مغرب تک سب کچھ روشن ہو جاتا۔[ترمذی] [۱۹]رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ پتھر (حجرِ ا سود) قیامت کے دن آئے گا اور اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہوگی جس سے وہ گفتگو کرے گا، جس کسی نے بھی اس کو حق کے ساتھ چوما ہوگا، اس کے متعلق یہ شہادت دے گا۔[ترمذی]
طواف کا ثواب
[۲۰]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے سات چکر لگائے اور اس درمیان کوئی لغو بات نہ کرے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے ایک غلام آزاد کیا۔[مجمع الزوائد][۲۱]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے پچاس مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوگیا جیسے اس کی ماں نے ابھی جنا ہو۔[ترمذی]





