Islam aur Fasadaat, Nadeem Ahmed Ansari

islam-aur-fasadatاسلام اور فسادات

ندیم احمد انصاری

(خادم الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا)

کُل عالم میں آج مختلف جہتوں سے مختلف النوع فساد برپا ہیںلیکن جب بھی کہیں اس قسم کے واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہیںتو بلاسوچے سمجھے اور قبل از تحقیق ہی، نہ صرف ملزم بلکہ مجرم، اسلام اور مسلمانوں کو بتلایا جاتا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نعوذ باللہ من ذٰلک اسلام فساد اور دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے اور اسلام کے ماننے والے فسادی اور دہشت گرد ہوتے ہیںاور پھر اس کے سدِ باب اور روک تھام کے نام پر مسلمانوں سے ہر ناروا عمل کو روا رکھا جاتا ہے، بلکہ ان پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ یہ باتیں کچھ ڈھکی چھپی نہیںبلکہ آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہیں اور عیاں را چہ بیاں۔ ہر آنکھ انھیں دیکھتی اور کان اسے سنتے ہیں، اور پھر اغیار تو کیا بعض ہمارے اپنے ’’شانتی پسند مسلمان‘‘ بھی اپنے ’’وسیع ذہنوں‘‘ میں یہ وہم پالنے لگتے ہیں کہ واقعی اس فساد کو برپا کرنے والے مسلمان ہی ہیں، یا بالفاظِ دیگر مسلمان ہی اس قسم کے کام انجام دیتے ہیں تو آئیے ہم اس پر کچھ گفتگو کریں کہ فساد اصالۃً ہے کیا؟ اور اسلام میں فساد اور فسادیوں کے متعلق کیا فرامین دیے گئے ہیں؟

فساد کے اصل معنی ہیں: ’’کسی بھی چیز کا حدِّ اعتدال سے تجاوز کرنا۔‘‘ خواہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ۔ یہ اصلاً ’’صلاح‘‘ کی ضد ہےاور نفس، بدن اور ہر اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے، جو حالتِ استقامت سے نکل چکی ہو۔ (المفردات القرآن)

فساد کی تاریخ کے متعلق جستجو کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ حضرتِ انسان۔ جیسا کہ ابوالبشر کے بیٹے قابیل اور ہابیل کا واقعہ مشہور ہےاور جسے قرآن پاک میں اس طرح بیان کیا گیا:

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآَخَرِ، قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ، قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ۔

اے نبی! ان کو آدم کے دو بیٹوں، ہابیل اور قابیل کے حالات، جو بالکل سچے ہیں، پڑھ کر سنادو کہ جب ان دونوں نے بارگاہِ الٰہی میں ایک ایک نیاز وقربانی پیش کی تو ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اب قابیل ہابیل سے کہنے لگا کہ میں تجھ کو قتل کردوں گا۔ اس نے (جواباً) کہا کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں ہی کی نیاز قبول فرمایا کرتا ہے۔ (المائدہ: ۲۷)

آگے فرمایا :

فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ، فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۔

آخر اس کے یعنی قابیل کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تواس (قابیل) نے اسے (ہابیل کو) قتل کردیااور وہ خسارہ پانے والوں میں ہوگیا۔ (المائدہ: ۳۰)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہاں قابیل کا جو انجام بتلایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فساد برپا کرنا کتنا مذموم فعل قرار دیا گیاہے۔ اسی لیے ہدایت فرمائی گئی:

لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا، ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔

زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلائو، اگر تم صاحبِ ایمان ہوتو سمجھ لو کہ یہ بات تمھارے حق میں بہتر ہے (کہ تم امن وامان بنائے رکھو)۔ (الاعراف: ۸۵)

نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا، وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا۔

جوشخص کسی کو ناحق قتل کرے گایعنی بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ (شریعت وقانون کے مطابق) لیا جائےیا ملک میں خرابی پیدا کرنے کی سزا دی جائے تو یہ (اتنا بڑا گناہ ہے کہ) گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو ایک انسان کی بھی جان بچالےتو (یہ اتنی بڑی نیکی ہے کہ) گویا اس نے سارے انسانوں کو زندگی بخش دی۔ (المائدہ: ۳۲)

اب قارئین خود ہی غور فرمائیں کہ اسلام کس صلاح وفلاح کی تعلیم دیتا ہے اور دشمنانِ اسلام اسے کس طرح کے ناپاک اتہامات سے متہم کرتے ہیں۔ آئے دن مذہب کے نام پر جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے ہیں، اس پر بھی اسلام نے حکمت کے تحت اس طرح قدغن لگائے ہیں:

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ۔

جن کی یہ (اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار کرنے والے) اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں، انھیں برا نہ کہو ورنہ وہ بے سمجھے زیادتی کرکے ،اللہ تبارک وتعالیٰ کو برا کہیں گے۔ (الانعام: ۱۰۸)

یہ ہے اصل اسلام اور اسلام کا مقدس پیغام، جو کہ انسانیت کی فلاح وبہبود کی راہ ہموار کرتا اور آپسی انتشار کو ختم کرتا ہے اور عالم میں امن وشانتی قائم کرنے میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔

یہ بھی خیال رکھیں کہ اصل فساد وبگاڑ انسان کے باطن میں ہوتا ہے، اور جو ظاہر داری کرتے ہیں، وہ اپنے دل کو ان بیماریوں سے ہمیشہ علیل رکھتے ہیں اور موقعہ پاتے ہی فساد کو ہوا دیتے ہیں، ایسے لوگ ہرگز امن وشانتی کے پیامبر نہیں ہوسکتے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ فساد برپا کرنے والے ملک وحکومتیں اور سیاسی پارٹیاں ہی سب سے زیادہ امن وامان کے راگ الاپتی ہیں، جیسا کہ ایک بھرے بازار میں کسی چور اچکّے نے کسی کے گلے سے سونے کی چین چھین کر چلاتے ہوئے بھاگنا شروع کیا، کہ چور! چور! جس سے لوگوں کو یہ لگے کہ یہ شخص کسی چور کو پکڑنے کے لیے بھاگ رہا ہے، چور شاید آگے گیا ہے اور اس طرح اس چور کو بھاگنے اور بچ کر نکلنے کا موقعہ مل گیا۔ آج یہی حال ہمارے معاشرے، شہروں، پورے ملک، بلکہ پورے عالم کا ہے۔

ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بلاتحقیق کسی کو متہم نہ کیا جائےاور اصل حقیقت تک پہنچنے کی سعی کی جائےاور ساتھ ہی خود کو ہر ایسے قول وعمل سے دور رکھا جائے، جو ہم پر لوگوں کی انگلیاں اٹھنے کا باعث بنیں۔ ہم اللہ واحد وقہار کے حضور دست بہ دعا ہیں کہ ہمارے محلوں، شہروں، ملک اور تمام عالم کو ہر قسم کے فساد اور فسادیوں سے حفاظت میں رکھے۔ آمین

[email protected]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here