Jinhone apne upar zyadtiyaa ki hain, tum khuda ki rahmat na mayoos na hon

     

    جِنھوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں، تم خد اتعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں

    مولانا شاہد معین قاسمی

    چوبیسویں پارے یعنی سورہ ٔ زمر کی شروع کی آیات میں اللہ تعالی نے مجموعی طو رپہ آخرت کی زند گی اور قیامت کے روزایمان اور غیر ایمان والوںکے ساتھ ہونے والے معاملے کو بیان فرماتے ہوئے دین اسلا م کے برحق ہونے کی دلیلیں بیان فرمائی ہیںچناں چہ آیت: ۴۲ ؍ میں یہ فرمایا کہ موت کے وقت اللہ تعالی ہی روح قبض کرتے ہیںیہ تو مستقل طور پہ روح قبض کرنا ہے جب کہ نیند کے وقت بھی رو ح کو قبض کرلیتے ہیں اور جس طر ح ایک انسان مرنے کے بعد کوئی کام نہیں کرسکتا بے جان پڑا رہتا ہے اسی طرح نیند کی حالت میں بھی پڑارہتا ہے اب جس کی موت اللہ تعالی کو منظور ہوتی ہے وہ مرا کا مراہی رہ جاتاہے اور جس کی موت نہیں ہوتی اس کے بدن میں دوبارہ ایک متعین وقت کے لئے روح ڈال دیتے ہیں۔یہ بھی اللہ تعالی کی بہت بڑی قدر ت ہے جو لو گ غور کریں گے انہیں ضرور سمجھ میں جائے گا۔آیت: ۴۳؍ میں ان لوگوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ لوگوں کی عباد ت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے سفارش کردیں گے کہ انہیں یہ معلوم نہیںکہ اللہ تبارک وتعالی کے یہاں سفارش کرنے کا حق بھی اسی کو ہے جسے اللہ تعالی اجازت دیں۔اور جس کے لئے اجازت دیں ۔یعنی سفارش کی دو شرطیں ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی تمہارے اندر نہیں پائی جاتی نہ تم اس بات کے مستحق ہوکہ تمہار ے لئے کوئی سفارش کرے اور نہ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیںکہ یہ کسی کے لئے سفارش کریں ۔ آیت: ۴۵؍میں ایک عجیب بات یہ بیان فرمائی گئی کہ جب ان غیر مسلموں کے سامنے اللہ کا نا م آتا ہے تو پریشا ن ہوجاتے ہیں اور ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب اپنے بنائے ہوئے معبودوں کا نا م آتا ہے تو بہت خوش ہوتے ہیں حالا ں کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نا م لیا جا تا تویہ خوش ہوتے اور دوسروں کا نام آتا تو غمگین ہوتے یا یہ ہوتا کہ جب اللہ کانام لیاجا تاتو خوشی زیادہ ہوتی او ر جب دوسرے معبودوں کا نام لیا جاتا توخوشی کم ہوتی یاکم ازکم اللہ کے نام سے بھی خوش ہو تے اور دوسروں کے نا م سے بھی لیکن اللہ تعالی کے نام لئے جانے پہ تکلیف محسوس کرنا یہ اللہ سے دشمنی کے علاہ کچھ بھی نہیں جو عقل و انصاف کے بالکل ہی خلاف ہے ۔آیت :۴۷؍ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے صحیح دین کا انکار کرنے والے لوگوں کو قیامت کے دن اپنے کئے پر اتنا افسوس ہوگا کہ اگر ان کے پاس زمین کے سارے خزانے اور انہی جیسے دوسرے خزانے بھی مل جائیں تو سب کو اللہ تعالی کی خدمت میںپیش کرکے اللہ کے عذاب سے بچنا چاہیں گے ۔
    بخشش کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں: آیت: ۵۳،۵۴،۵۵، میں ایک خاص چیز یہ بیان کی گئی ہے کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا گنا ہ کرنے کے بعد بھی کسی بھی انسان کویہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اسے ہدایت نہیں ملے گی اور اللہ تعالی اسے معاف نہیںکریں گے بل کہ اگر مرنے سے پہلے پہلے وہ سچے دل سے توبہ کرلیتاہے،تو اللہ کی رحمت اسے ضرور حاصل ہوگی اور ہدایت کے اعلی درجے پہ بھی وہ پہنچ سکتاہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشرکین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے انہوں نے حاضرِ خدمت نبوی ہوکر کہا کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہر لحاظ سے ہمیں بھلا اور سچا معلوم ہوتاہے لیکن یہ بڑے یہ بڑے گناہ جو ہم نے کئے ہیں ان کا کفارہ کیا ہوگا؟ اس پہ والذین لایدعون مع اللہ الخ اور یہ آیت نازل ہوئی۔مسند احمد کی حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے ساری دنیا اور اس کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی خوشی اس آیت کے اترنے سے ہوئی ایک شخص نے سوال کیا جس نے شرک کیا ہو اسے بھی معاف کردیاجائے گا؟آپ نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو اسے بھی معاف کیا جائے گا یہی جملہ آپ نے تین بار فرمایا ۔مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک بوڑھا شخص لکڑی پہ ٹیک لگا کر آپ کے پاس آیا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی معاف کیا جائے گا؟اللہ تبارک وتعالی نے نبی ﷺ سے فرمایا کہ آپ میری طرف سے فرمادیں کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں تم خد اتعالی کی رحمت سے مایوس نہ ہویہ خیال مت کر وکہ ایمان لانے کے بعدبھی پچھلے گناہوں پہ پکڑہوگی صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالی بہت زیادہ مغفرت فرمانے والے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ تم ایمان لے بھی آ ؤاللہ تعالی سے توبہ کرکے ان کے احکام پہ چلنا شروع بھی کردو خالی ارادہ کر لینے سے نہیں ہو جائے گااس لئے اللہ کے صحیح دین کوقبول کرلو اور اور اس کے احکام پر چلناشروع کردوکہیںایسا نہ ہو کہ تم انتظار ہی میں رہو اور قیامت آجائے اور تم میں کا کوئی کہنے لگے کہ افسوس میری کوتاہی پہ جو میں نے اللہ تعالی کی شان میں ان کے حکموں کو نہ مان کرکی میں تو اللہ کے احکام پہ ہنستا ہی رہ گیا یا تم میں سے کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے دنیا میں ہدایت دیتے تو میں بھی پرہیز گار ہوجاتا لیکن ہدایت ہی نہیں ملی یا کوئی یہ کہے کہ کا ش مجھے دنیا میںدوبارہ جانے کا موقع ملتا تو میں اچھے عمل کرکے اللہ کے نیک بندوں میںشامل ہوجاتااور اللہ تعالی کی طرف سے یہ جواب ملے کہ ہاں تمہارے پاس دینا میں میری نشانیاں آئی تھیں لیکن تم نے جھٹلایا اور تکبر کیا۔ اللہ تبار ک وتعالی نے نبی ﷺ کے ذریعہ اس سوال کے جواب میں جوانداز اختیار فرمایا ہے وہ بڑا ہی پیارا اور جا ن لیواہے جن لوگوں نے یہ سوال کیاتھا ان کے جوجرائم تھے وہ انتہائی سنگین تھے ان کی سنگینی کا احساس فطری ہے لیکن اللہ تبارک وتعالی نے پہلا لفظ جو استعمال فرمایااس پہ غور کیا جائے اللہ تعالی نے فرمایاائے میرے بندو، اس جملے سے اللہ تعالی نے یہ بیان فرمادیا کہ تم نے جو کچھ کیا ہے یقینا وہ خود تمہاری ذات کے خلاف کسی بڑی زیادتی سے کم نہیں ہے لیکن اس سے تم میرے بندہ ہونے کے دائرسے نہیں نکل گئے میں نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تم کو اپنی طرف منسوب کیا ہے تم ہر حال میں میرے ہی ہو تمہیں میرے ہونے کا احساس ہوناچاہیے اور مجھ سے اچھا گمان رکھتے ہوئے میری رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوناچاہئے تمہارے لئے دروازے کھلے ہیں اگر میری طرح تم خود بھی اپنی ذات کو میری طرف منسوب کرتے ہو پھر دیر کرنے کی ضرورت نہیں فورا توبہ کرو اور میری راہ پہ چل پڑو۔ بلا شبہ ائے میرے بندو ،، میں اللہ تعالی نے دنیا جہان کے تمام انسانوں سے جس اپنائیت اور محبت کا اظہار کیا ہے اس کی بے پناہ شیرینی اور بے انتہا لطف کا بس احساس ہی کیا جاسکتاہے اس کے بیان کے لیے الفاظ کبھی کافی نہیں ہوسکتے ۔سچ کہا سرکار دوعالم ﷺ نے جو اللہ تعالی کے بعد تمام انسانوں سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں کہ مجھے اس آیت کے اترنے سے جتنی خوشی ہوئی سار ی دنیا اور اس کی چیزوں کے ملنے سے بھی اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ اور انہیں ہی خو شی کی اس کیفیت کا حق بھی تھا کاش اگر ہمیں بھی اس احساس کا ہزارواں حصہ بھی مل جائے تو زہے قسمت !۔اس آیت کے اند راس بات کی تعلیم ہے کہ جب ہم اپنے بچوں ،چھوٹوں ،ماتحتوں کو ان کی کسی غلطی کے بعد یا د کریں اور چاہے ان سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا ہو یا انہیں تنبیہ کرنی ہو تو الفاظ ِخطاب ایسے پیا ربھر ے ہونے چاہئیں جنہیں سنتے ہی مخاطب میں اپنائیت پیدا ہوجائے اور کی جانے والی نصیحت کو اپنے لیے خیر خواہی تصور کرنے لگیں۔
    آیت :۶۰ سے ۶۳؍ میں اللہ کے نبی سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کے دن جب آپ اللہ کے صحیح دین کا انکا ر کرنے والوں کو دیکھیں گے تو ان کے چہر ے کالے ہوںگے اور متکبر لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہے ہی لیکن دوسری طر ف پرہیز گار مسلمانوں کونجات ملے گی اور کسی قسم کی کوئی تکلیف ان کو نہیں ہوگی اللہ تبارک وتعالی ہر چیز کے نگہبان ہیں انہی کے پاس زمین وآسمان کے خزانے ہیں۔آیت :۶۴سے ۶۷؍ تک شرک کے خطرنا ک ہونے کو بیان کیاگیا ہے اوراس کے لئے دنیا میں اللہ کے سب سے بڑے فرماں بردار اورتوحید کے سب سے بڑے علمبردار محمد ﷺ کو یہ حکم ہو رہا ہے کہ آپ صاف یہ کہدیں کہ تم لو گ مجھ سے یہ کہتے ہوکہ میں اللہ کے علاوہ کسی کی عباد ت کروںتم نادان اور جاہل ہو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا آپ کے پاس اور آپ (ﷺ )کے پہلے کے ہر نبی کے پاس بھی وحی کردی گئی ہے کہ اگر آپ شرک کریں توآپ کو بھی بخشا نہیںجائے گا بل کہ سارے پچھلے کئے ہو ئے اعمال بھی برباد ہوجائیں گے اوران کا ثواب بھی ختم ہوجائے گا۔اس لئے آپ یہ کہدیجئے کہ میں تو صرف اللہ تعالی کی ہی عبادت کروں گا۔اور سچائی یہ ہے کہ اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی ان لوگوں نے ویسی قدر نہیں کی اللہ تعالی کی قدر یہ تھی کہ انہیں یکتا مانا جاتااور ان کے ساتھ کسی بھی چیز میں نہ انسان کو اور نہ دوسری کسی بھی مخلوق کو شریک ٹھہر ایاجاتا۔
    زمین اللہ کی مٹھی اور آسمان اللہ کے داہنے ہاتھ میں :
    اللہ تعالی کی قوت اور بڑائی کا حال تو یہ ہے کہ اتنی لمبی چو ڑی زمین جس کے چند گز کو بھی پورے انسان مل کر اٹھا نہیںسکتے قیامت کے دن وہی زمین پوری کی پوری اللہ تعالی کی مٹھی میں ہوگی اور سارے کے سارے آسمان ان کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوںگے اسی بات کو حضور ﷺ نے اس طرح بیان فرمایاکہ قیامت کے روز اللہ تعالی زمین کو ایک مٹھی میں اور آسما ن کو دائیںہاتھ میںلے لیںگے اور کہیں گے کہ کہاں گئے جبار ومتکبر ؟کہاں گئے زمین کے بادشاہ؟میں باد شاہ ہوں ۔
    آیت:۶۸؍ سے ۷۰؍ میںاللہ تبارک وتعالی نے قیامت سے پہلے اور اس کے قائم ہونے کے وقت کی چیزوں کا بیان فرمایا ہے پہلی بات تو یہ بیان فرمائی کہ ایک صور پھونکا جائے گا اور کچھ کے علاوہ آسمان وزمین کے سارے انسان ،جنات ،فرشتے اور ساری جاندار چیزیں بے ہوش ہو جائیںگی مگر اللہ تعالی جس سے چاہیں گے وہ بے ہوش نہیںہوںگے (شاید وہ حضرت جبرئیل ،میکائیل ،رضوان ِجنت اور جنت کی حوریں ہوں اور ہوسکتا ہے کہ موسی ؑ بھی بے ہوش نہ ہوں ۔ بحوالہ :بخاری ومسلم۔ شہید حضرات بھی بے ہوش ہو نے سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔از: بیہقی سعید ابن منصور وابو یعلی ودار قطنی وحاکم بحوالہ :تفسیر حقانی )…پھر اس کے بعد دوسر ا صور پھونکا جائے گا جس سے سب لوگ قبروں سے نکل کر کھڑے ہوجائیںگے پھر نئی زمین اور نیا آسمان ہوگا زمین اللہ کے نور سے چمکے گی پھر نامہ ٔ اعمال لائے جائیں گے اور حسا ب وکتا ب شروع ہوگا۔حسا ب وکتا ب کے بعد اللہ کے صحیح دین کا انکار کرنے والوں کو فرشتے جہنم کی طرف ہنکاکر لے جائیں گے جب وہ وہا ں پہنچ جائیں گے جہنم کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور جہنم کے داروغے ان سے ملامت کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے میں سے رسول نہیں آ ئے تھے جنہوں نے اللہ کی نشانیاں بتلاکر اللہ کے صحیح دین کی طرف بلاتے ہوئے اس دن کی ہولنا کی اور عذاب سے ڈرایا تھا ؟ وہ لوگ جواب دیںگے ہاں آئے تو تھے لیکن تقدیر میں یہی تھافرشتے کہیں گے جہنم میں داخل ہو جاؤاور وہا ں سے کبھی نکلنا میسر نہیں آئے گا۔
    جنتیوں کا استقبال :
    اس کے برخلاف جنتیوں کو جنت کی طرف لایا جائے گاجب وہا ں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھلے ہوئے ملیںگے فرشتے ان سے سلام کریں گے اور کہیں گے مبارک ہو! تشریف لائیں !آپ حضرات ہمیشہ یہیں تشریف رکھیںگے ساتھ ہی جنت میںداخل ہونے والے لوگ بھی اللہ کا شکر اد کرتے ہوئے یہ کہیںگے کہ شکر ہے اس خد ا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کردکھایا اورہمیںجنت کی زمین کا مالک بنایا ہم جہاںچاہیںرہیں۔ا س کے بعد آپ ﷺ سے یہ کہا جارہا ہے کہ آپ وہاںفرشتوں کودیکھیںگے کہ وہ اللہ کے عرش کو اٹھائے اللہ تعالی کی تسبیح اور پاکی بیان کررہے ہوں گے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوجائے گا اور پھر فرشتے اور جنتی لوگ سب مل کر کہیں گے الحمد للہ رب العالمین اور دربار برخواست ہوجائے گا۔
    اس کے بعد پارے کے آخرتک بیان کئے گئے مضامین کا خلاصہ کچھ اسطر ح ہے کہ سورہ ٔ مؤمن کی شروع کی آیتوں میں قر آن کریم کی عظمت بیان کی گئی ہے اور اس کاتعارف کرا یا گیا ہے اور جنت وجہنم سمیت آخرت کی دوسری چیزوں کا تذکرہ فرما کریہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جہنمی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے دوبارہ دنیا میں آنے کی درخواست کریںگے لیکن درخواست قبول نہیں کی جائیگی ۔بیچ بیچ میں کچھ دیگر نبیوں ؑکے واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خاص طور سے مشہو ر نبیوں میں حضرت موسی ؑ کے حالات کسی قدر تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں جس میں ایک مؤمن شخص کی لمبی نصیحت کا بھی بیان ہے جس نے حضرت موسیؑ کی تائید میں اپنی قوم کو کی ہے ،فرعون کی اس بیوقوفی کا بھی بیان ہے جس میں اس نے اپنے وزیر ہامان سے آسمان کے قریب تک ایک گھر بنانے کا حکم دیاتھا ،انسان کو بہتر سے بہتر اند از میں بنانے اور پیدا کرنے کا تذکر ہ ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسانوں کے بدن کے حصے سے گواہی لی جائیگی اور وہ بولیں گے ،استقامت کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور دعوت کی اہمیت اور اس میں آنے والی پریشانیوں پہ صبر کی بھی نصیحت فرمائی گئی ہے ۔
    ��

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here