Home Dept of Islamic Studies Articles اللہ نے انسانی جان کو محترم بنایا ہے، اپنی جان لینا یا...

اللہ نے انسانی جان کو محترم بنایا ہے، اپنی جان لینا یا دوسروں کو قتل کرنا اللہ کے غضب کا باعث ہے

قرآن کا پیغام(پارہ:۵)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا پانچواں پارہ (والمحصنات) سورۃ النساء کے دوسرے حصے پر مشتمل ہے۔ یہ مدنی سورت ہے، اور اس کا بنیادی موضوع ایک ایسے اسلامی معاشرے کی تعمیر ہے جہاں کم زوروں کے حقوق محفوظ، خاندانی نظام مضبوط اور عدل و انصاف قایم ہو۔

عائلی زندگی اور نکاح کے ضوابط:پارے کا آغاز ان خواتین کے ذکر سے ہوتا ہے جن سے نکاح حرام ہے۔ اسلام نے خاندانی پاکیزگی کے لیے رشتوں کی حدود متعین کی ہیں۔ ’ محصنات‘ وہ عورتیں؛ جو پہلے سے نکاح میں ہوں، ان سے نکاح حرام ہے۔ اس کا مقصد نسب کی حفاظت اور خاندانی نظام میں انتشار کو روکنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مہر کو’فریضہ‘ (لازمی حق) قرار دیا ہے، یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ عورت کی معاشی حفاظت کی علامت ہے۔ قدیم دور کے رواج کے مطابق کنیزوں سے نکاح کے مسائل بھی بیان کیے گئے ہیں تاکہ معاشرے کے نچلے طبقے کو بھی عزت اور قانونی تحفظ مل سکے۔

معاشی معاملات:اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ معاشی نظام کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ کسی کا مال ناحق طریقے (جوا، سود، چوری، دھوکے) سے کھانا حرام ہے۔ معیشت کی بنیاد باہمی رضا مندی کی تجارت پر ہونی چاہیے۔

انسانی جان کی حرمت: اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کو محترم بنایا ہے، اپنی جان لینا یا دوسروں کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہے۔

کبیرہ گناہ اور بخشش: اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم بڑے (کبیرہ)گناہوں سے بچو گے تو وہ تمھاری چھوٹی غلطیوں کو معاف کر دے گا۔

وراثت کا قانون: وراثت میں مَردوں اور عورتوں کے حصے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کر دیے ہیں تاکہ انتقال کے بعد مال کی تقسیم پر جھگڑے نہ ہوں۔

مَرد و عورت کا معاشرتی مقام: آگے اسلامی خاندانی ڈھانچے کی بنیاد بیان کی گئی ہے۔ مرد کو عورت پر’قوام‘ بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب حاکمِ جابر نہیں بلکہ ایک محافظ اور ذمّےدار سربراہ ہونا ہے۔ نیز فرمایا کہ نیک عورتیں وہ ہیں جو فرماں بردار ہوں اور مرد کی غیر موجودگی میں اس کے گھر اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔

خاندانی صلح کا طریقہ: اگر میاں بیوی میں شدید اختلاف ہو جائے تو اسلام ’طلاق‘ سے پہلے ’اصلاح‘ کا موقع دیتا ہے۔ دونوں خاندانوں کے بڑے مل کر ایک ’حکَم‘ (ثالث) مقرر کریں، جو ان کے درمیان صلح کرائے۔

حقوق العباد کی جامع فہرست: آیت نمبر۳۶؍ اس اعتبار سے نہایت اہم کہ اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ دس حقوق بیان کیے ہیں: (۱) والدین (۲) قریبی رشتے دار (۳) یتیم (۴) مسکین (۵) قریبی پڑوسی (۶) اجنبی پڑوسی (۷) پہلو کا ساتھی (دوست، شریکِ سفر وغیرہ)(۸) مسافر (۹) ماتحت (ملازم؍غلام) (۱۰) اللہ تعالیٰ کی ذات (شرک سے پاک عبادت)۔

اخلاقی برائیاں؛ بخل اور دکھاوا:اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو مال ہونے کے باوجود بخل کرتے ہیں یا دوسروں کو بخل کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو ’ریاکاری‘ (دکھاوے) کے لیے خرچ کرتے ہیں، ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مردود ہے۔ آگے قیامت کے دن کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب ہر امت کا گواہ (نبی) لایا جائے گا، تب کافر تمنا کریں گے کہ کاش وہ مٹی میں مل جاتے۔

طہارت اور نماز:نماز کے لیے ذہنی اور جسمانی پاکیزگی ضروری ہے۔ابتدائی دور میں نماز کے وقت نشے سے روکا گیا بعد میں شراب مکمل حرام ہوئی۔ اگر پانی نہ ملے یا عذر کی وجہ سے اس کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کی اجازت دی گئی، جو دین کی آسانی کو ظاہر کرتا ہے۔

اہلِ کتاب کی روش اور شرک کی مذمت :آگے ان لوگوں کا ذکر ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تحریف کی اور ہدایت کے بدلے گم راہی خریدی۔اللہ نے واضح کر دیا کہ ’شرک‘ وہ گناہ ہے جسے اللہ کبھی معاف نہیں کرےگا، اس کے علاوہ وہ جسے چاہےگا معاف کر دےگا۔ شرک اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان ہے۔ آگے یہودیوں کے حسد کا ذکر ہے کہ وہ حضرت نبی کریم ﷺ پر اللہ کے فضل کو دیکھ کر کیوں جلتے ہیں۔

امانت، عدل اور اطاعت :آگے کی آیتوں میں سیاسی و سماجی نظام کی بنیاد فراہم کی گئی ہے: (۱) امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرنا فرض ہے(۲) جب بھی فیصلہ کرو، انصاف کے ساتھ کرو (۳)اللہ کی، رسول اللہﷺ اوراولی الامر کی اطاعت کرو۔ اگر کوئی تنازع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول (قرآن و سنت) کی طرف لوٹاؤ۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔

منافقین کی نفسیات اور طرزِ عمل: منافقین کا کردار اس پارے کا ایک بڑا موضوع ہے۔ (۱) وہ زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن فیصلے کے لیے ’طاغوت‘ (غیر اسلامی قوانین) کی طرف جاتے ہیں (۲) جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا مقصد صرف بھلائی تھا (۳) اللہ کے رسول ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے اعراض کریں اور انھیں مؤثر نصیحت کریں (۴) اللہ کی قسم کھا کر کہا گیا کہ کوئی شخص تب تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے تمام تنازعات میں حضرت نبی کریم ﷺ کو منصف تسلیم نہ کر لے۔

جہاد فی سبیل اللہ اور اس کے مقاصد :جہاد کا مقصد زمین پر فتنہ و فساد ختم کرنا اور مظلوموں کو نجات دلانا بتلایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان مظلوم مَردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے کیوں نہیں لڑتے جو مکّے میں پھنسے ہوئے دعائیں کر رہے ہیں کہ ’اے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں‘۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان کی چال ہمیشہ کم زور ہوتی ہے۔ مومن اللہ کے لیے لڑتا ہے اور کافر طاغوت کے لیے۔ جہاد سے ڈرنے والوں کو بتایا گیا کہ موت تو قلعوں کے اندر بھی آ جائےگی، پھر اللہ کی راہ میں جان دینے سے کیوں ڈرنا؟

قتلِ خطا، قتلِ عمد اور ہجرت: اگر کسی مومن سے نادانستہ طور پر دوسرے مومن کا قتل ہو جائے تو اس پر دیت (مالی جرمانہ) اور کفارہ واجب ہے۔ اسے ’قتلِ خطا‘ کہتے ہیں: جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے والے کا ٹھکانہ ہمیشہ کی جہنم اور اللہ کی لعنت ہے، اسے’ قتلِ عمد‘ کہتے ہیں۔ جو لوگ کفر کے غلبے والے علاقے میں رہ کر اپنے دین پر عمل نہیں کر سکتے انھیں ہجرت کا حکم دیا گیا، اس لیے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے۔ جو ہجرت کی راہ میں نکلے اور اسے موت آ جائے، اس کا اجر اللہ پر واجب ہو گیا۔

خوف اور قصر کی نماز: دورانِ سفر نماز کو قصر کرنے کی اجازت دی گئی، نیز میدانِ جنگ میں نماز ادا کرنے کا خاص طریقہ سکھایا گیا تاکہ عبادت بھی ہو اور دشمن سے دفاع بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز مومنوں پر ’مقررہ وقت‘ پر فرض ہے۔

عدل و انصاف کی گواہی اور منافقین کا انجام: آگے فرمایا کہ انصاف پر قایم رہنے والے بنو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے، چاہے وہ تمھارے اپنے خلاف ہو یا تمھارے والدین اور رشتے داروں کے خلاف۔ عدل میں کسی امیر کی رعایت نہ کی جائے اور نہ کسی غریب پر ترس کھا کر حق چھپایا جائے۔پارے کے اختتام پر منافقین کی مزید صفات بیان کی گئی ہیں۔

خلاصۂ کلام:یہ پارہ انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کا ضابطۂ اخلاق ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ اپنے گھر کے نظام کو عدل و محبت پر استوار کریں اور ہمیں ایسی امت بننے کی دعوت دیتا ہے جو صرف دعاؤں تک محدود نہ ہو بلکہ عملاً انصاف کی علَم بردار اور انسانیت کی خدمت گزار ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here