Home Dept of Islamic Studies Articles انیسواں پارہ یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی پکڑ سے کوئی...

انیسواں پارہ یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی پکڑ سے کوئی قوم محفوظ نہیں، جب کہ وہ اپنے اخلاق کھو بیٹھے

قرآن کا پیغام (پارہ:۱۹)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن کا واضح پیغام عربی زبان میں: قرآن مجید کا انیسواں پارہ ﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ﴾ تین سورتوں؛ سورۃ الفرقان، سورۃ الشعراء اور سورۃ النمل پر مشتمل ہے۔ اس پارے میں قرآن مجید کے بارے میں یہ عظیم الشان گواہی دی گئی ہے کہ یہ ﴿نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ؀﴾ اسے امانت دار فرشتے حضرت جبریلؑ لے کر اترے ہیں اور ﴿بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ؀﴾ یہ واضح عربی زبان میں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کا پیغام مبہم نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے واضح اور دوٹوک ہے۔یہ پارہ دعوتِ دین کے اسالیب، انبیاے کرام علیہم السلام کی جدوجہد اور منکرین کے نفسیاتی رویوں کا ایک عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا ہے۔

منکرین کے اعتراضات: اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی امید نہیں رکھتے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ’تکبر‘ ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً ڔ﴾کفارِ مکہ کہتے تھے کہ قرآن ایک ہی بار میں مکمل کیوں نازل نہیں ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے نازل کیا گیا تاکہ حضرت نبی کریمﷺ کے دل کو ڈھارس ملے اور اسے ترتیب کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں میں اتارا جا سکے۔ یہ نکتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تربیت ہمیشہ تدریجی [Step by step] ہونی چاہیے۔

عباد الرحمن کی مثالی زندگی:اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت سے جن بندوں کا ذکر ﴿عِبَادُ الرَّحْمٰنِ﴾ کے طور پر کیا ہے، ان کی زندگی کے بارہ سنہرے اصول یہاں بیان فرمائے ہیں: (۱)وقار اور عاجزی: وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے، ان کی چال میں سادگی اور انکساری ہوتی ہے (۲) حلم اور برداشت: جب جاہل لوگ ان سے بدتمیزی یا فضول بحث کرتے ہیں تو وہ جواب میں جاہلانہ رویہ نہیں اپناتے بلکہ سلام کہہ کر خاموشی سے گزر جاتے ہیں (۳)شب بیداری: ان کی راتیں بستروں پر نہیں بلکہ سجدوں اور قیام میں گزرتی ہیں، وہ خلوت میں اپنے رب سے تعلق جوڑتے ہیں (۴)خوفِ آخرت: اتنی عبادت کے باوجود وہ غرور نہیں کرتے بلکہ دعا کرتے ہیں: اے رب! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا، کیوںکہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے(۵) اعتدال پسندی: وہ مال خرچ کرتے وقت نہ تو فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی۔ وہ توازن [Balance] کے قائل ہیں (۶) توحیدِ کامل: وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاجت روا نہیں مانتے (۷) حرمتِ انسانیت: وہ کسی جان دار کو ناحق قتل نہیں کرتے (۸)پاک دامنی: وہ زنا اور فحاشی کے قریب بھی نہیں جاتے (۹)توبہ کی اہمیت: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو گناہ کر بیٹھے لیکن توبہ کر لے اور نیک عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو بھی نیکیوں سے بدل دیتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیمی کی انتہا ہے (۱۰) سچّائی: وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے (۱۱) غور و فکر: جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ اندھوں اور بہروں کی طرح نہیں گرتے بلکہ عقل و شعور سے کام لیتے ہیں (۱۲) نسلوں کے لیے دعائیں: وہ صرف اپنی نجات نہیں مانگتے بلکہ اپنی نسلوں کی اصلاح کی دعا کرتے ہیں کہ ان کی اولاد ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے۔

سورۃ الشعراء

عبرت کا سامان: سورۃ الشعراء کا بڑا حصہ انبیاے کرام علیہم السلام کے واقعات پر مبنی ہے، جس کا مقصد حضرت نبی کریمﷺ کو تسلّی دینا اور کفار کو خبردار کرنا تھا۔ اس سورت میں سات مرتبہ یہ معنی خیزز تکرار [Repetition] ہے:﴿اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝﴾ یقیناً ان سب چیزوں میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ۔

حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا معرکہ:اس واقعے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰؑنے فرعون کو دعوت دی تو اس نے انھیں ’احسان فراموش‘ کہا (کیوںکہ حضرت موسیٰؑکی پرورش اس کے گھر میں ہوئی تھی)۔ حضرت موسیٰؑنے کمالِ حکمت سے جواب دیا کہ وہ پرورش دراصل فرعون کے اس ظلم کا نتیجہ تھی کہ اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کروا دیا تھا۔ یہ مناظرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق بات کہنے کے لیے کسی کے دنیوی احسان سے بےجادبنا نہیں چاہیے۔جب فرعون نے حضرت موسیٰؑسے پوچھا:﴿وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ؀﴾رب العالمین کیا ہے؟ تو آپ نے فلسفیانہ بحث کے بجائے کائنات کی مادّی حقیقتوں یعنی آسمان، زمین اور مشرق و مغرب کے نظام کو بہ طور گواہ پیش کیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام ایسا دین ہے جو انسان کو اندھی تقلید کے بجائے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کی توحید: حضرت ابراہیمؑکا اپنی قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرنا؛ وہ مجھے کھلاتا ہے، پلاتا ہے، شفا دیتا ہے، دراصل ایک نفسیاتی علاج تھا۔ انھوں نے بتایا کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو انسان کی ہر ضرورت پوری کرے، نہ کہ وہ جو خود حرکت نہ کر سکے۔

سورۃ النمل

چیونٹیوں کی گفتگو: اس سورت کی آیت نمبر ۱۸؍ میں ’النمل‘ یعنی چیونٹی لفظ آیا ہے، یہی لفظ اس سورت کا نام رکھ دیا گیا ہے،اس آیت میں چیونٹیوں کی گفتگو نقل کی گئی ہے۔ یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو دنیا کی بہترین نعمتوں اور طاقت سے بھی نوازا ہے۔

حضرت سلیمانؑاور ہدہد کا واقعہ: حضرت سلیمانؑکو حضرت داودؑکی وراثت ملی تھی،انھوں نے کہا : اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے، اور ہمیں ہر ضرورت کی چیز عطا کی گئی ہے، یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کا کھلا ہوا فضل ہے۔ حضرت سلیمانؑکا لشکر جنّوں، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھا۔ ہدہد کا غائب ہونا اور پھر ملکہ سبا کی خبر لانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات میں کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں ہے۔ حضرت سلیمانؑنے جب ملکہ سبا کا تخت منگوایا تو ان کے ایک درباری -جس کے پاس کتاب کا علم تھا-نے پلک جھپکنے میں وہ تخت پیش کر دیا۔ یہ واقعہ ’علم‘ کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

ملکہ سبا کا ایمان لانا: ملکۂ سبا (بلقیس) جب حضرت سلیمانؑکے محل میں داخل ہوئی: ﴿فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ۭ﴾ تو اس نے فرش کو پانی سمجھ کر اپنے پائنچے چڑھا لیے حالاںکہ وہ شیشہ تھا۔ حضرت سلیمانؑنے سمجھایا کہ جیسے یہ شیشہ حقیقت میں پانی نہیں ویسے ہی تم جن ستاروں یا سورج کو پوجتی ہو وہ حقیقت میں خدا نہیں بلکہ مخلوق ہیں۔ اس عقلی دلیل نے بلقیس کا دل جیت لیا اور وہ ایمان لے آئی۔

قومِ لوط کا انجام: قومِ لوط میں ہم جنس پرستی کی لعنت عام تھی، پھر ہوا یہ کہ لوطؑاور ان کے گھر والوں کو بچا لیا گیا-سوائے ان کی بیوی کے- وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی: ﴿فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ۡ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِيْنَ؁﴾۔ اور ان پر ایک زبردست بارش برسائی، چناںچہ بہت بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسی: ﴿وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ۚ فَسَاۗءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ ؀﴾۔

خلاصۂ کلام: انیسواں پارہ دراصل ایک مومن کو اس کے خالق، اس کے نفس اور اس کے معاشرے کے ساتھ تعلقات کو درست کرنے کا مکمل ضابطہ فراہم کرتا ہے۔ یہ پارہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ اللہ کی پکڑ سے کوئی قوم محفوظ نہیں جب کہ وہ اپنے اخلاق کھو بیٹھے۔ قومِ ثمود کا پہاڑوں میں تراشیدہ گھر بنانا یا قومِ عاد کی جسمانی قوت انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہ سکی۔ آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور سائنس عروج پر ہے، یہ پارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے اور حقیقی ترقی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے پاک ہو۔ اگر ہم عباد الرحمن کے راستے پر چلیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں عزت اور کامیابی سے ہم کنار فرمائیںگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here