Home Darul Ifta اگر زیور ہو لیکن زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نقد نہ ہو

اگر زیور ہو لیکن زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نقد نہ ہو

اگر زیور ہو لیکن زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نقد نہ ہو

سوال: حضرت مفتی ندیم صاحب دامت برکاتہم! کسی کے پاس زیور تو ہے، لیکن اتنی رقم نہیں کہ اس کی زکوٰۃ ادا کر سکے تو وہ زکوٰۃ کیسے ادا کرےگا؟ اگر کسی سے قرض لے کر دے تو کیا حکم ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:زیور جس کی بھی ملکیت میں ہو اس پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے، اگر اس کے پاس زکوٰۃ کی ادایگی کے لیے نقد رقم موجود نہ ہو تو خود زیور کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں نکالےبلکہ اصل حکم تو یہی ہے کہ جس مال میں زکوٰۃ واجب ہو اسی مال کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ کے طور پر دیا جائے، لیکن اگر کوئی آدمی اس مال کے چالیسویں حصے کے بجائے اتنی قیمت زکوٰۃ کے طور پر دے دے تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ زکوٰۃ ایک فریضہ ہے، اس کا ادا نہ کرنے والا فاسق ہے اور مستحقِ عذاب وعقاب۔ اگر قرض لے کر زکوٰۃ ادا کرے، تب بھی ادا ہوجاتی ہے۔[دیکھیے محمودالفتاویٰ مبوب]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here