Home Dept of Islamic Studies Articles بیسواں پارہ ہمیں ایسی شخصیت بنانے کی کوشش کرتا ہے جو کائنات...

بیسواں پارہ ہمیں ایسی شخصیت بنانے کی کوشش کرتا ہے جو کائنات میں اللہ تعالیٰ کو پہچانے

قرآن کا پیغام (پارہ:۲۰)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا بیسواں پارہ﴿أَمَّنْ خَلَقَ﴾ تین اہم سورتوں سورۃ النمل، سورۃ القصص، اور سورۃ العنکبوت پر مشتمل ہے۔ یہ پارہ انسانی عقل کو جھنجھوڑنے، تاریخ سے سبق سیکھنے اور ایمان کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

فطرت کی گواہی:اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے سامنے﴿أَمَّنْ﴾ کے ذریعے پانچ ایسے سوالات رکھے ہیں جن کا جواب دینے سے انسانی عقل عاجز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بارش، باغات، زمین کے ٹھہراؤ، پہاڑوں کی میخوں اور میٹھے و نمکین پانی کے درمیان پردے کا ذکر کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کائنات کا نظام کسی ’اتفاق‘ کا نتیجہ نہیں، یہ تمام مظاہر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے پیچھے ایک ایسی ذات ہے جو حکیم بھی ہے اور قدیر بھی۔ہر آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ ۭ﴾کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ﴾ بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور تکلیف دور کردیتا ہے؟ یہ انسانی دل کی گواہی ہے، کیوںکہ سخت تکلیف میں ملحد بھی ان جانے میں کسی مافوق الفطرت ہستی کو پکار اٹھتا ہے۔

غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے: اس میں واضح کیا گیا:﴿لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ﴾ زمین و آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ یہ عقیدہ توحید کا ایک بنیادی ستون ہے جو انسان کو توہم پرستی اور غیر اللہ کے سامنے جھکنے سے بچاتا ہے۔

سورۃ القصص

حضرت موسیٰؑکی زندگی کے نفسیاتی پہلو:اس سورت میں حضرت موسیٰؑکی پیدائش کا واقعہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ امید کا پیغام ہے۔ ایک ماں کا اپنے جگر گوشے کو لہروں کے حوالے کر دینا اور پھر اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہونا یہ سکھاتا ہے کہ جب اسباب ختم ہو جائیں تو مسبب الاسباب (اللہ تعالیٰ) پر بھروسا کیسے کیا جاتا ہے۔ فرعون کے محل میں حضرت موسیٰؑکی پرورش یہ ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کی حفاظت کرنا چاہے اسے دشمن کے گھر میں بھی پال لیتا ہے۔ مدین کے سفر میں حضرت موسیٰؑکی مسافرت، کنویں پر لڑکیوں کی مدد اور پھر ایک نیک خاندان میں قیام، ایک مومن کے لیے ہجرت، عفت اور حیا کا پیغام ہے۔

قارون کا زوال اور مادّہ پرستی کا انجام:قارون کا قصہ مادہ پرستی [Materialism] کے خلاف ایک کھلی چارج شیٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قارون حضرت موسیٰؑکی قوم کا ایک شخص تھا، پھر اس نے انھیں پر زیادتی کی ، اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی چابیاں طاقت ور لوگوں کی ایک جماعت سے بھی مشکل سے اٹھتی تھیں۔ ایک وقت تھا جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اتراؤ نہیں، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور اللہ نے تمھیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو، اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو، اور جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے تم بھی دوسروں پر احسان کرو، اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش نہ کرو، یقین جانو اللہ تعالیٰ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔تو وہ کہنے لگا : یہ سب کچھ تو مجھے خود اپنے علم کی وجہ سے ملا ہے۔آج کے دور کے انسان کا بھی سب سے بڑا المیہ یہی ہے، وہ اپنی کامیابی کو اپنی محنت اور ذہانت کا نتیجہ سمجھتا ہے اور اللہ کے فضل کو بھول جاتا ہے۔ جب قارون اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ نکلا تو کم زور ایمان والے اسے دیکھ کر رشک کرنے لگے، لیکن جب زمین اسے نگل گئی تو انھیں لوگوں نے توبہ کی اور کہا: ﴿وَيْكَاَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ ۚ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۭوَيْكَاَنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ؀﴾اوہو ! پتا چل گیا کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہےتنگی کردیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ اوہو! پتا چل گیا کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاتے۔

سورۃ العنکبوت

آزمائش کا فلسفہ: سورۃ العنکبوت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایمان کوئی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ یہ کانٹوں کا راستہ ہے جس پر آزمائشیں لازمی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمایا:﴿اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۝﴾ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انھیں یوںہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے، اور ان کو آزمایا نہیں جائے ؟ آگے فرمایا: ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، لہٰذا اللہ ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنھوں نے سچائی سے کام لیا ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔ یہ آیت ہمیں ذہنی طور پر تیار کرتی ہے کہ زندگی میں آنے والی تکلیفیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نہیں بلکہ اس کی طرف سے ایک فلٹر [Filter] ہیں تاکہ کھرے اور کھوٹے کو الگ کیا جا سکے۔

مکڑی کا جالا- ایک عظیم تمثیل:اس سورت کا نام ’العنکبوت‘ (مکڑی) اس لیے رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں غیر اللہ کا سہارا لینے والوں کی مثال مکڑی کے گھر سے دی ہے۔ ارشاد فرمایا: ﴿مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاۗءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ ښ اِتَّخَذَتْ بَيْتًا ۭ وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ؀﴾ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالے بنا رکھے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جس نے کوئی گھر بنا لیا ہو، اور کھلی بات ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کم زور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جانتے۔ مکڑی کا جالا دیکھنے میں تو بہت پیچیدہ اور بڑا لگتا ہے، لیکن ایک ہلکی سی پھونک یا انگلی اسے مٹا دیتی ہے۔ اسی طرح وہ تمام باطل نظریات، جھوٹے سہارے اور مادی طاقتیں جن پر انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بھروسا کیا کرتا ہے وہ بھی مکڑی کے جالے کی طرح کم زور ہیں۔

آسمان و زمین کی تخلیق بےمقصد نہیں: پارے کے آخری حصے میں کائنات کی تخلیق کے متعلق فرمایا گیا: ﴿خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَـقِّ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ؀﴾ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو برحق (مقصد کے لیے) پیدا کیا ہے۔ درحقیقت اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔

حاصلِ کلام: بیسواں پارہ ہمیں ایک ایسی شخصیت بنانے کی کوشش کرتا ہے جو کائنات میں اللہ تعالیٰ کو پہچانے، تاریخ سے عبرت لے، مال و اقتدار کو عارضی سمجھے اور آزمائش کے وقت ثابت قدم رہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ فرعون کی طاقت اور قارون کی دولت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیچ ہے۔ اس پارے میں ایک بہت متوازن ہدایت یہ دی گئی ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک تو واجب ہے، لیکن اگر وہ شرک پر مجبور کریں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔ یہ ہمیں دین اور دنیا کے حقوق کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔ حضرت نوحؑ سے لے کر حضرت لوطؑ تک کے واقعات کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ حق کی دعوت دینے والوں کو ہمیشہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن فتح ہمیشہ صبر کرنے والوں کی ہوئی۔ حضرت شعیبؑکی قوم (اہلِ مدین) کا ذکر ہمیں معاشی انصاف اور ناپ تول میں درستگی کی اہمیت سکھاتا ہے، جو معاشرے کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here