Home Darul Ifta تراویح پر اجرت اور بریلوی علما کا فتویٰ

تراویح پر اجرت اور بریلوی علما کا فتویٰ

تراویح پر اجرت اور بریلوی علما کا فتویٰ

سوال:مفتی صاحب! آپ نے خود ہی سب کی طرف سےلکھ دیا، ورنہ نام بتائیں کہ بریلوی علما میں سے کون تراویح پر اجرت کو ناجائز کہتا ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:  یہ تمام باتیں ایک صفحے کے فتوے پر نہیں لکھی جا سکتیں، تفصیل کے لیے فقہِ رمضان کا حوالہ دیا گیا تھا۔
مولانا مفتی امجد علی قادری صاحب تحریر فرماتے ہیں:آج کل اکثر رواج ہو گیا ہے کہ حافظِ قرآن کو اجرت دے کر تراویح پرھواتے ہیں، یہ ناجائز ہے،دینے والا اور لینے والا دونوں گنہ گار ہیں۔اجرت صرف یہی نہیں کہ پیش ترمقرر کر لیں کہ یہ لیںگے یہ دیںگے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے-اگر چہ اس سے طے نہ ہو ا ہو-یہ بھی نا جائز ہے کیوں کہ المعروف کا المشروط (معروف مشروط کے حکم میں ہے)۔ ہاں اگر کہہ دیں کہ کچھ نہیں دوںگا یا نہیں لوںگا، پھر پڑھے اور حافظ صاحب کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں ہےکہ الصریح یفوق الدلالۃ.[ بہارِ شریعت]۔فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here