Home Darul Ifta تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا...

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا فتویٰ

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا فتویٰ

سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب! تراویح پر اجرت یا ہدیہ وغیرہ کے نام سے جو کچھ لیا دیا جاتا ہے، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب تو اس کے جواز کے قائل ہیں۔(کیا یہ صحیح ہے؟)
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: خدا جانے آپ نے کہاں اور کس سے یہ بات سن لی، ہمارے سامنے موجود ان کے فتاویٰ جو ’کتاب الفتاویٰ‘ کے نام سے شائع شدہ ہیں اس کی دوسری اور آٹھویں جلد میں تو حضرت موصوف نے اسے واضح طور پر ناجائز لکھا ہے۔ بلکہ اپنی ایک اور مشہور کتاب ’جدیدفقہی مسائل‘ میں سخت لہجے میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’ہمارے زمانے میں ایک عام رواج سا ہوگیا ہے کہ حفاظ صاحبان اپنے قرآن کی قیمت لگاتے پھرتے ہیں ،باضابطہ ایک رقم طے کرتے ہیںجو ان کو بہ طور اجرت نذرانے کے نام سے ختمِ تراویح پر دی جاتی ہے،بسا اوقات اس کے لیے طویل اسفار کرتے ہیں اور اپنے وطن ،شہر ،قریہ پر ایسی جگہ کو ترجیح دیتے ہیں جہاں زیادہ پیسے ملیں ،یہ انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے۔تراویح میں ختمِ قرآن شرعی ضرورت نہیں ہے،یہ محض ایک ایسی سنت ہے کہ تراویح کی ادایگی کے لیے یہی کافی ہے کہ ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ﴾ سے سورۃ الناس تک پڑھ کر نماز کی تکمیل کر لی جائے۔اگر لوگوں میں تعب وتھکن اور قرآن کی طرف سے بے توجہی ہو تو فقہا نے اسی کو بہتر قرار دیا ہے کہ تھوڑا ہی قرآن پڑھا جائے،تکمیل نہ کی جائے۔اب ظاہر ہے کہ ایک ایسی بات کے لیے قرآن فروشی کی کیوں کر اجازت دی جا سکتی ہے،اس لیے راقم الحروف کی رائے یہی ہے کہ ایسا کرنا ہرگزدرست نہیں۔یہ بات شریعت کی روح سے ہم آہنگ نہیں معلوم ہوتی کہ ایک سنت کے لیے-جس کا ترک کردینا بھی فقہا کی تصریحات کے مطابق حالات کے اعتبار سے قبیح نہیں-ایک نادرست عمل کوروا رکھا جائے اور اس کے لیے حیلے کی راہ دریافت کی جائے۔‘‘[ماخوذ ازجدید فقہی مسائل: 1/192-195، نیز دیکھیے کتاب الفتاویٰ: 2/415اور 8/135]ایسی صراحت کے باوجود ایک عالمِ دین کی طرف ایسی جھوٹی نسبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، توبہ کیجیے۔ فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here