Home Darul Ifta تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی...

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی ؒ کا فتویٰ

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی ؒ کا فتویٰ

سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب! تراویح پر اجرت یا ہدیہ وغیرہ کو جب ناجائز کہوگے تو بغیر اجرت کے پڑھانے والا ملتا ہی کہاں ہے اب؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حضرت مفتی محمد رفیع عثمانیؒ تحریر فرماتے ہیں:امامت کی تنخواہ لینا تو جائز ہے مگر تراویح میں قرآن سنانے کی اجرت لینا حرام ہے۔ جو حافظ اجرت لے کر قرآن سناتا ہو اس کو تراویح پڑھانے پر مقرر نہ کریں، کسی اور نیک حافظِ قرآن کا انتظام کر لیں، کوئی دوسرا حافظ بغیر اجرت کے نہ ملے تو ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ﴾ سے آخر تک کی سورتیں تراویح میں باجماعت پڑھ لیا کریں، اجرت دینا لینا کسی حال میں جائز نہیں۔ [فتاویٰ دارالعلوم کراچی] فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here