Home Darul Ifta تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی...

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی احمد خانپوری مدظلہ کا فتویٰ

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی احمد خانپوری مدظلہ کا فتویٰ

سوال:تراویح پر اجرت، معاوضے یا ہدیے پر آپ نے جو کچھ لکھا ہے کیا آپ کے استاذ حضرت مفتی احمد خانپوری کی بھی وہی رائے ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:استاذی و مربی حضرت مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں:تراویح میں قرآن سنانے پر حافظ کو جو رقم ہدیے کے نام سے ملتی ہے وہ قاعدۂ فقہیہ: المعروف کالمشروطکے مطابق ناجائز ہے۔ [محمودالفتاویٰ مبوب: 3/92] فقہا نےالمعروف کالمشروط والے قاعدے کے پیشِ نظر تراویح پڑھانے والے کو ہدیے کے نام سے دی جانے والی رقم کو بھی لینے کی اجازت نہیں دی،پنج وقتہ نمازوں کا امام اگر تراویح پڑھاتا ہے اور اس کو بھی تراویح کی وجہ سے ہدیے میں کچھ پیش کیا جارہا ہے، تو نہیں لینا چاہیے۔[ایضاً: 3/94]  تراویح میں قرآن سنانے والے حفاظ کو اجرت دینا جائز نہیں ہے، اس لیے اس مقصد سے چندہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔[ایضاً: 3/101]ایک مستفتی نے پوچھا: تراویح پڑھانے پر اجرت لینا صحیح نہیں ہے، اسی طرح سے ہدیہ بھی صحیح نہیں ہے، تراویح پڑھانے والے نے کہہ دیا کہ میں ہدیہ قبول نہ کروںگا، لیکن جب تراویح ختم ہو گئی اور مسجد والے جبراً ہدیہ دیں تو اس کو لے کر اپنی ضروریات میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا: یہ کوئی شرعی اکراہ نہیں ہے، اس کو قبول نہ کرے، اپنے ہاتھ میں نہ لے۔[ایضاً: 3/94] بعض لوگوں نے تراویح سنانے سے قبل ہی کچھ دینے کے متعلق پوچھا کہ  حافظ صاحب کو متعین اجرت اور المعروف کالمشروطکے خلاف قرآن سنانے سے قبل ہی مثلاً ۲۸؍۲۹ شعبان کو کچھ رقم من جانب متولیانِ مسجد یا ذمّےداران کی طرف سے بہ طور ایک ماہ اور آمدورفت کے اخراجات دیا جائے، اب آیندہ پورا ماہ قرآن سنانے پر نہ جبر ہو نہ اکراہ ہو، وہ چاہے دس دن میں ختم کرے یا پورے ماہ میں ختم کرے، ختم کی تخصیص نہ ہو، تو اس صورت میں یہ اخراجات کا لینا دینا جائز ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ اجرت کبھی عمل سے پہلے بھی دی جاتی ہے، اس لیے آپ نے جو صورت تحریر فرمائی ہے وہ بھی اجرت ہی میں شمار ہوگی، اورالمعروف کالمشروطوالا فقہی قاعدہ یہاں بھی جاری ہوتا ہے، جب فقہا نے تراویح میں قرآن سنانے پر اجرت کو ناجائز قرار دیا ہے تو حفاظ حضرات کو اس کے لینے پر کیوں اصرار ہے؟ ان کوتو چاہیے کہ اس حکمِ شرعی پر پورے طور پر کاربند ہوں، اللہ تعالیٰ نے حفظِ قرآن کی نعمت ودولت سے مالامال کیااس کا تقاضہ یہی ہے کہ کسی نے لے لیا ہو تو واپس کردے۔[ایضاً: 3/113]جس کسی نے ماضی میں ایسی رقم لے لی اسے واپسی کا طریقہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگوں نے آپس میں چندہ کرکے وہ رقم آپ کے حوالے کی تھی اس کے لیے کسی ایک آدمی کو درمیان میں واسطہ بنایا ہوگا، جیسا کہ دستور ہے کہ عموماً مسجد کا متولی یا اَور کوئی ذمّےدار آدمی لوگوں سے جمع کرتا ہےاور وہ تراویح پڑھانے والے کو دیتا ہے، اب آپ جب وہ رقم لوٹائیں تو اس کے ہاتھ میں دے دیں، آپ کا ذمہ بری ہوجاوے گا۔[ایضاً: 3/101] ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: چوںکہ تراویح پڑھانے والے کو لوگ ہدیے کے نام سے بھی تراویح پڑھانے کی وجہ سے دیتے ہیں جو درحقیقت ہدیہ نہیں بلکہ معاوضہ ہے اور تراویح میں قرآن پاک سنانے پر اجرت ومعاوضہ لینا جائز نہیں ہے اس لیے زید کو چاہیے کہ یہ رقم اس کے دینے والوں ہی کو واپس کرے، کسی غریب کو دینے یا تعمیرِ مسجد میں لگانے سے اس کا ذمّہ بری نہیں ہوگا، بلکہ ایسی رقم تعمیرِ مسجد میں لگانا حرام ہے۔[ایضاً: 3/91]
العبد ندیم احمد عفی عن
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here