Home Dept of Islamic Studies Articles تیسواں پارہ اپنی تاثیر اور فصاحت و بلاغت ہر لحاظ سے بے...

تیسواں پارہ اپنی تاثیر اور فصاحت و بلاغت ہر لحاظ سے بے مثال اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے

قرآن کا پیغام (پارہ:۳۰)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن کا تیسواں پارہ﴿عَمَّ﴾ اپنی تاثیر اور فصاحت و بلاغت ہر لحاظ سے بے مثال ہے،یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے،اس میں ۳۷؍ سورتیں ہیں۔

سورۃ النبأ والنازعات

کائنات کا نظام اور قیامت کا قیام:پارے کا آغاز سورۃ النبا سے ہوتا ہے، جو﴿النَّبَاِ الْعَظِيْمِ۝﴾ زبردست واقعے یعنی قیامت کے بارے میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے سوال کیا ہے کہ وہ کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟ پھر اپنی قدرت کے ۹؍ ثبوت پیش کیے ہیں: (۱)زمین کا بچھونا (۲)پہاڑوں کی میخیں (۳)جوڑوں کی تخلیق (۴)نیند کا سکون (۵)رات کا لباس (۶)دن کی معاش (۷)سات مضبوط آسمان (۸)سورج کی روشنی اور (۹)بارش کے ذریعے غلّے کی پیداوار۔ ان سب کے ذریعے یہ سمجھایا گیا ہے کہ جو رب یہ عظیم نظام چلا رہا ہے، اس کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ قیامت کا دن فیصلے کا دن ہے جہاں سرکشوں کا ٹھکانہ جہنم اور متقیوں کے لیے باغات اور کامیابی ہوگی۔ اس سورت کا اختتام اس ہول ناک منظر پر ہوتا ہے کہ کافر حسرت سے کہے گا:﴿يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا؀﴾ کاش! میں مٹی ہوجاتا۔

فرعون کا قصہ: سورۃ النازعات میں فرمایا: ﴿وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا۝﴾قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافروں کی روح سختی سے کھینچتے ہیں۔آگے حضرت موسیٰؑاور فرعون کا قصہ اجمالاً بیان کیا ہے تاکہ دنیوی سرداروں کو سبق ملے کہ فرعون جیسا طاقت ور بھی اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ نہ سکا، تو تم کیسے بچو گے؟

سورۃ عبس و التکویر و الإنفطار

انسانی قدر و قیمت اور کائنات کا بکھرنا:سورۃ﴿عَبَسَ﴾ ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی، جب حضرت نبی کریم ﷺ مکّے کے سرداروں کو دعوت دے رہے تھے اور ایک نابینا صحابی (حضرت عبداللہ ابن ام مکتومؓ) وہاں آ گئے:﴿اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى۝﴾ ۔ اس سورت نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ہدایت چاہنے والا غریب، ان مغرور سرداروں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

قیامت کی تصویر کشی: سورۃ التکویر اور سورۃ الانفطار میں قیامت کے مابعد الطبیعیاتی مناظر بیان کیے گئے ہیں۔ سورج کا لپیٹا جانا، ستاروں کا جھڑنا، پہاڑوں کا چلنا، حاملہ اونٹنیوں کا چھوڑ دیا جانااور سمندروں کا آگ بن جانا؛ یہ سب اس لیے ہوگا تاکہ انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے کیے کا جواب دے سکے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں کسی دوسرے کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا، اور تمام تر حکم اس دن اللہ ہی کا چلے گا۔

سورۃ المطففین و الإنشقاق

ناپ تول میں کمی: سورۃالمطففین کی پہلی آیت ہے:﴿وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ۝﴾، اس میں ان لوگوں کو تباہی کی وعید سنائی گئی ہے جو لیتے وقت پورا لیتے ہیں اور دیتے وقت ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ سورت واضح کرتی ہے کہ دین صرف سجدوں کا نام نہیں بلکہ دیانت داری ایمان کا حصہ ہے۔

نامۂ اعمال کا ملنا: سورہ الانشقاق میں بتایا گیا کہ جب قیامت برپا ہوگی تو جس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا اس کا حساب آسان ہوگا، اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوشی مناتا ہوا واپس آئے گا۔ اور جسے پیٹھ کے پیچھے سے ملے گا وہ موت کو پکارےگا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔

سورۃ البروج والطارق

اصحاب الاخدود: سورۃ البروج میں ان مومنین کا ذکر ہے جنھیں ایمان لانے کی پاداش میں آگ کی خندقوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ سورت مسلمانوں کو تسلّی دیتی ہے کہ دنیا کی عارضی تکلیف کے بدلے جنت ان کا انتظار کر رہی ہے، جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہیںگے۔

انسانی حیثیت: سورۃ الطارق میں نطفے سے ہونے والی انسانی تخلیق کے عمل سے استدلال کیا گیا:﴿خُلِقَ مِنْ مَّاۗءٍ دَافِقٍ۝﴾ یعنی جس اللہ نے انسان کو ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا ہے، وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔

سورۃ الأعلی و الغاشیۃ و الفجر

تزکیۂ نفس اور ابدی کامیابی: سورۃ الاعلیٰ میں فرمایا:﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى۝وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى۝﴾ فلاح اس نے پائی ہے جس نے اپنا تزکیہ کیا اور اپنے رب کا نام لیا، اور نماز پڑھی۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتا ہے جب کہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔

جنتی و جہنمی: سورۃ الغاشیہ میں قیامت کوسب پر چھا جانے والی کہا گیا ہے:﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِـيَةِ۝﴾۔ اس میں دو گروہوں کا ذکر ہے؛ایک جن کے چہرے ذلیل ہوںگے یعنی جہنمی اور دوسرے جن کے چہرے تروتازہ اور اپنی محنت پر خوش ہوںگے یعنی جنتی۔

نفسِ مطمئنہ: سورۃ الفجر میں قومِ عاد، ثمود اور فرعون کی ہلاکت کا ذکر کر کے انسان کو مال کی محبت سے بچنے کی تاکید کی گئی اوریہ خبر دی گئی کہ قیامت میں نفسِ مطمئنہ سے کہا جائےگا: آج تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی، شامل ہوجا میرے نیک بندوں میں، اور داخل ہوجا میری جنت میں۔

سورۃ البلد و الشمس و اللیل

دو راستے: سورۃ البلد میں ارشاد فرمایا: ﴿وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ۝﴾ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو راستے دکھائے ہیں، مشکل راستہ گھاٹی کا ہے، جس کا مطلب غلاموں کو آزاد کرنا، بھوکے، یتیم رشتےدار یا مسکین کو کھانا کھلانا اور صبر و رحم کی وصیت کرنا ہے۔

کامیابی و بربادی: سورۃ الشمس میں گیارہ قسمیں کھانے کے بعد فرمایا: ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىهَا۝﴾جس نے اپنے نفس کو برائیوں سے پاک کیا وہ کامیاب رہا اور جس نے اسے گناہوں تلے دبا دیا وہ برباد ہو گیا۔

انصاف کا نظام: سورۃ اللیل میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال دینے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نیکی کا راستہ آسان کر دیتا ہے:﴿فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى۝﴾، اور بخل کرنے والے کے لیے برائی کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے: ﴿فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى۝﴾۔

من سورۃ الضحیٰ إلی الناس

سورۃ الضحیٰ، سورۂ الم نشرح اور سورۂ کوثر ان تین سورتوں میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص محبت کا اظہار ہے۔سورۃالتین میں انسانی تخلیق ﴿اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۝﴾ کا ذکر ہے۔سورۃ العلق قرآن مجید کی پہلی وحی ہے جس میں پڑھنے اور قلم کے ذریعے علم حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔سورۃ القدر میں شبِ قدر کی فضیلت کا بیان ہے۔سورۃ البینہ،سورۃ الزلزال، سورۃ القارعہ اور سورۃ الہمزہ میں حساب اور پھر ثواب یا عذاب کاذکر ہے۔ سورۃ العادیات اور سورۃ التکاثر میں مال و اولاد کی ہوس اور کثرت کی دوڑ کی مذمت کی گئی ہے۔ سورۃ العصر بتاتی ہے کہ تمام انسان خسارے میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور حق و صبر کی تلقین کی۔ سورۃ الفیل اورسورۂ قریش میں بیت اللہ کی حفاظت اور قریش پر اللہ کے احسانات کا ذکر ہے۔ سورۃ الماعون میں ریا اور یتیموں کی بددعا سے ڈرایا گیا ہے۔ سورۃ الکافرون میں دین کے معاملے میں کسی بھی سمجھوتے سے انکار کیا گیا ہے۔سورۂ نصر میں فتح و نصرت کی خبر ہے۔ سورۂ لہب میں ابولہب کا ذکر ہے۔سورۃ الاخلاص توحید کا قلعہ ہے۔ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں انسان کو ہر قسم کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here