Home Dept of Islamic Studies Articles جین زی (Gen Z) کو سمجھنے اور ان کے ساتھ بہتر تعلق...

جین زی (Gen Z) کو سمجھنے اور ان کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرنے کا چیلنج

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

جین زی (Generation Z) سے مراد وہ انسانی نسل ہے جو تقریباً۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان میں پیدا ہوئی۔ یہ انسانی تاریخ کی پہلی وہ نسل ہے جو مکمل طور پر ڈیجیٹل دور اور انٹرنیٹ کے سائے میں بڑی ہوئی ہے۔ ان کے بچپن اور لڑکپن کا آغاز سمارٹ فون، سوشل میڈیا اور برق رفتار معلومات کے زيرِ اثر ہوا۔ اسی لیے ان کی سوچ، ترجیحات، مزاج اور دنیا کو دیکھنے کا زاویہ پچھلی تمام نسلوں (ملینیئلز اور جنریشن ایکس وغیرہ) سے مختلف ہے۔ آج والدین، اساتذہ اور سرپرستوں کو سب سے بڑا چیلنج اس نسل کو سمجھنے اور ان کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرنے میں پیش آ رہا ہے۔ اکثر اوقات جب پرانے تربیتی طریقوں اور تحکمانہ انداز کو اس نسل پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں دوری، بغاوت اور ذہنی کشمکش جنم لیتی ہے۔ جین زی کے ساتھ مؤثر برتاؤ کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کی نفسیاتی ساخت کو سمجھا جائے اور پھر اس کی روشنی میں قرآن و سنت کے آفاقی مشفقانہ اصولوں کو مشعلِ راہ بنایا جائے۔

جین زی کی نفسیاتی ساخت اور بنیادی خدوخال

جین زی کی شخصیت کی تشکیل میں چند نمایاں عوامل بنیادی کردار ادا کرتے ہیں:

(۱)فوری تسکین اور عدمِ برداشت(Instant Gratification) : اس نسل کا شعور اس دور میں پروان چڑھا ہے جہاں معلومات کا سیلاب ہے۔ ہر وقت اسکرین کے سامنے رہنے کی وجہ سے ان کے ارتکاز کی صلاحیت نسبتاً کم ہو گئی ہے۔ طویل مدتی منصوبوں کے بجائے وہ شارٹ کٹ اور فوری نتائج کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اس رجحان کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ سست روی اور بیوروکریٹک تاخیر کے شدید مخالف ہیں۔ وہ مسائل کا حل فوری اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرتے وقت اہداف کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا اور فوری فیڈ بیک دینا موثر ثابت ہوتا ہے۔

(۲) عقلیت اور منطق کی تلاش (Search for Authenticity): یہ نسل آن لائن دنیا کی بدولت اتنی باشعور ہو چکی ہے کہ وہ اندھی تقلید یا محض بڑوں کے کہے ہوئے کو سچ ماننے سے گریز کرتی ہے۔ وہ ہر بات کے منطقی شواہد اور عملی دلیل مانگتی ہے۔ منافقت، بناوٹ اور کھوکھلے دعووں کو بہت جلد بھانپ لیتی ہے۔ جین زی اسی کو قبول کرتی ہے جو اپنی خامیوں کے ساتھ سچا اور شفاف رویہ اختیار کرتا ہے۔

(۳) ذہنی صحت کی حسّاسیت (Mental Health Awareness): پچھلی نسلوں کے برعکس یہ نسل محض روایتی کامیابی کے حصول کے لیے اپنی ذہنی یا جسمانی صحت کو داؤ پر لگانے کی قائل نہیں، وہ ہر وقت کام میں جُتے رہنے کے رجحان کو رد کرتی ہے۔ اگرچہ ان میں ڈپریشن اور اینگزائٹی کے تناسب میں اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے ذہنی مسائل پر کھل کر بات کرنے کو معمول کا حصہ بنایا ہے اور اس سے جڑے سماجی خوف کو کم کیا ہے۔

(۴) مساوات کی خواہش (Egalitarian Mindset): یہ جنریشن رنگ، نسل، جنس اور عقیدے کے امتیازات سے بالا تر ہو کر سوچتی ہے، وہ ایک ایسے معاشرتی ڈھانچے کی خواہاں ہے جہاں ہر فرد کو برابر کے حقوق ملیں۔ روایتی باس (Boss) کلچر یعنی جہاں صرف حکم چلایا جاتا ہے، یہ نسل اسے قبول نہیں کرتی۔ وہ ایسے قائدین کو پسند کرتی ہے جو اچھے مینٹور ہوں۔

جین زی سے برتاؤ: قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسلام ایک فطری مذہب ہے جو ہر دور کے انسانی مزاج اور نفسیات کا احاطہ کرتا ہے۔ قرآن مجید اور سیرتِ طیبہ میں نوجوانوں کی تربیت اور ان سے برتاؤ کے جو اصول بتائے گئے ہیں، وہ جین زی کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں:

(۱)نرمی، شفقت اور جذبات کا احترام:سخت گیری ہمیشہ دوری کا باعث بنتی ہے، جب کہ نرمی اور شفقت دلوں کو جوڑتی ہے۔ جین زی کی حسّاس نفسیات کے لیے سخت دباؤ کے بجائے نرمی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر (اے پیغمبر) آپ نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے، لہٰذا ان کو معاف کردیجیے اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجیے اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ (آل عمران) اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا راز نرمی، درگزر اور مشورے میں بتایا ہے۔ نوجوانوں کو فیصلوں میں شامل کرنا ان کی عزتِ نفس کی بالیدگی کا باعث بنتا ہے۔

(۲)پیار، منطق اور نصیحت کا انداز: قرآن مجید میں حضرت لقمانؑ کا اپنے بیٹے سے گفتگو کا اسلوب نوجوانوں سے بات کرنے کی ایک شاہکار مثال ہے: اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقین جانو شرک بڑا بھاری ظلم ہے‘۔ (لقمان)حضرت لقمان نے بچے کو ’میرے بیٹے ‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انھوں نے پہلے محبت کا رشتہ قائم کیا اور پھر عقلی بنیاد پر بات سمجھائی کہ شرک ایک بڑا ظلم ہے۔ جین زی سے بات کرتے وقت الفاظ کا انتخاب عمدہ اور اندازِ گفتگو شفیق ہونا چاہیے۔

(۳)سننا اور دلائل کے ساتھ اصلاح کرنا: جب نوجوان اپنی بات یا شک و شبہے کا اظہار کریں تو انھیں رعب کے ذریعے خاموش کرانے کے بجائے ان کا موقف سننا چاہیے ۔ حضرت ابو امامہؓسے روایت ہے، ایک نوجوان حضرت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجیے! لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: میرے قریب آجاؤ! وہ آپ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اپنی ماں کے لیے ایسا پسند کرو گے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں ایسا کو پسند کروگے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی بہن کے حق میں اسےپسند کرو گے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں اسے پسند کرو گے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر پوچھا: کیا تم اپنی خالہ کے حق میں اسے پسند کروگے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کبھی نہیں،میں آپ پر قربان جاؤں۔آپ نے فرمایا: لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے بدن پر رکھا اور دعا کی: اے اللہ ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔(مسند احمد) اس واقعے میں حضرت نبی کریم ﷺ نے نوجوان کی بالکل فحش بات پر بھی غصہ نہیں کیا بلکہ اسے قریب بٹھایا، اس کی نفسیات کے مطابق معقول سوالات و جوابات سے اس کا ذہن بدلا اور اس کی تسلّی فرمائی اور آخر میں اس کے لیے دعا بھی کی۔

(۴)آسانیاں پیدا کرنا اور خوشخبری دینا: سخت قوانین مسلط کرنے سے نوجوان دین سے اور بڑوں سے دور ہو جاتے ہیں۔حضرت انسؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا : (دین میں) آسانی کرو، سختی نہ کرو، اور لوگوں کو خوشخبری سناؤ، انھیں (ڈرا ڈرا کر) متنفر نہ کرو۔ (بخاری)

(۵)صلاحیتوں کا اعتراف اور اعتماد کرنا:حضرت نبی کریم ﷺ نے نو عمر صحابہؓکو بڑی بڑی ذمّےداریاں دیں تاکہ ان میں قیادت اور خود اعتمادی کی صلاحیتیں ابھر سکیں۔ مثال کے طور پر آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو محض اٹھارہ برس کی عمر میں ایک عظیم لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ اسی طرح حضرت زید بن ثابتؓکو عبرانی زبان سیکھنے اور سرکاری خطاطی کی ذمّے داری سونپی۔

والدین اور اساتذہ کے لیے رہنما نکات

جین زی کے ساتھ روزمرہ زندگی میں کام کرنے اور ان کی بہتر تربیت کے لیے مندرجہ ذیل حکمتِ عملی اپنانی چاہیے:

(۱)’ہمارے زمانے میں؍ ہمارے ٹائم پر‘ جیسے تقابل سے پرہیز کریں۔ ہر دور کے حالات اور تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ پچھلی نسلوں کا موجودہ حالات سے موازنہ کرنا جین زی میں بیزاری پیدا کرتا ہے۔

(۲)ڈیجیٹل دنیا کو کوسنے کے بجائے سمت متعین کریں: ٹیکنالوجی کا مکمل بائیکاٹ ممکن نہیں ہے۔ نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں میں دلچسپی لیں، ان کے ساتھ مل کر مثبت مواد کا انتخاب کریں اور سائبر دنیا کے خطرات سے دوستانہ ماحول میں انھیں آگاہ کریں۔

(۳)نجی طور پر اصلاح: جین زی اپنی عزتِ نفس کے معاملے میں بہت حسّاس ہے، کسی کے سامنے ان پر تنقید کرنے کے بجائے تنہائی میں پیار سے غلطی کا احساس دلائیں،نصیحت اسی کو کہتے ہیں، سب کے سامنے تو فضیحت ہوتی ہے۔

(۴)مانیٹرنگ کے بجائے مینٹورشپ (Mentorship over Monitoring): جاسوس بن کر ان پر نظر رکھنے کے بجائے رہنما بننے کی کوشش کریں، جب ان کے اندر یہ اعتماد پیدا ہو جائےگا کہ وہ اپنی غلطی کا اظہار بغیر ڈر کے آپ کے سامنے کر سکتے ہیں تو وہ خود ہی آپ سے مشورہ کرنے لگیںگے۔

خلاصۂ مضمون

آج کی گلوبل اور ڈیجیٹل دنیا میںجین زی کو محض ایک روایتی ضابطے کے تحت کنٹرول کرنے کا نظریہ ناکام ہوچکا ہے۔ یہ نسل بغاوت یا گمراہی کی علامت نہیں، بلکہ ایک نئے، تیز رفتار اور انتہائی حسّاس فکری دور کا ناگزیر استعارہ ہے۔اگر والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ذمّے داران نے بروقت اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا اور جبر و استبداد یا محض روک ٹوک یا ڈانٹ ڈپٹ کا پرانا ہتھکنڈا جاری رکھا تو ہم اس قیمتی سرمائے کو کھو بیٹھیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم نے قرآن و سنت کی ہدایات اور رحمۃ للعالمین ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپناتے ہوئے ان کے ساتھ مکالمے کے دروازے کھول دیے، ان کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوال ’کیوں‘ کا حکمت و شفقت سے جواب دیا، اور ان کے بے پناہ عزم و شعور کو مثبت سمت عطا کی تو یہی نو جوان نسل ڈیجیٹل فتینوں کے اس طوفان میں ایک مضبوط قلعہ ثابت ہوگی اور آنے والے دور میں فکری و عملی قیادت کا پرچم بلند کرکے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا ہراول دستہ بن کر ابھرے گی۔
فیصلہ اب آپ کا ہے کہ انھیں حریف بناتے ہیں یا حلیف؟

(مضمون نگار الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن میں کاؤنسلر ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here