Home Darul Ifta حرام مال پر زکوٰۃ

حرام مال پر زکوٰۃ

حرام مال پر زکوٰۃ

سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ! اگر کسی کے پاس حلال مال کے ساتھ کسی کا کچھ حرام مال بھی ہو تو کیا زکوٰۃ کے حساب میں اسے بھی شمار کریںگے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:مالِ حرام کے سلسلے میں اصل حکم تو یہ ہے کہ اگر اصحابِ مال تک رسائی ممکن ہو تو ان کو واپس کیا جائے، یہ ممکن نہ ہو تو کُل مال فقرا پر خرچ کر دیا جائے اور صدقہ و ثواب کی نیت بھی نہ کی جائے، لیکن وہ اس کی حلال کمائی سے ممتاز و مشخص ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں اس لیے کہ زکوٰۃ تو اس مال میں ہے جس کا وہ مالک ہو اور یہ شخص اس مال کا مالک ہی نہیں، لیکن یہ حرام مال حلال مال کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہو گیا کہ حساب و کتاب محفوظ نہیں رہا یہاں تک کہ اس کی تمیز ممکن اور باقی نہ رہی تو گویا اس مال کا استہلاک ہے، استہلاک کی وجہ سے امام ابو حنیفہؒکے نزدیک وہ اس مال کا ضامن قرار پاتا ہے اس لیے اس مال پر اب اس کی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے اور جب وہ اس مال کا مالک ہو گیا تو ظاہر ہے اب اس پر اس کی زکوٰۃ بھی واجب ہوگی ۔ [جدید فقہی مسائل]
بہ الفاظِ دیگر اگر کسی شخص کے حلال وجائز مال کے ساتھ حرام مال کی آمیزش اس طرح ہو گئی جیسے رشوت یا بینک انٹرسٹ یا انشورینس کے ذریعے حاصل ہونے والی اضافی رقم ، تو حرام علاحدہ و ممتاز ہو یا اس کا حساب اس طرح محفوظ ہو کہ اس کی علاحدگی ممکن ہو نیز مالِ حرام کا مالک شخص متعین ہو اور اس کو پہنچانا ممکن ہو تو اس کو واپس کردے، ورنہ بلانیتِ صدقہ فقرا پر خرچ کر دے۔ اور اگر مالِ حرام نہ علاحدہ ہو نہ اس کا حساب ممکن ہو تو پورے مال کی زکوٰۃ ادا کر دے، کیوں کہ امام ابوحنیفہؒکے نزدیک مالِ حرام کے مالِ حلال کے ساتھ مخلوط ہو جانے کی وجہ سے اس پر ملکیت ثابت ہو جاتی ہے اور چوں کہ احکامِ شرعیہ کی تعیین میں اس قول کے مطابق زیادہ آسانی اور زکوٰۃ کے مسئلے میں فقرا کے لیے نفع ہے ، اس لیے فقہا نے اس کو اختیار کیا ہے ۔ [دیکھیے جدید فقہی مسائل: 1/216,217، کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند] فقط [دیکھیے: فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here