روزے میں کان میں دوا یا تیل ڈالنا
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب حفظہ اللہ! کیا روزے کی حالت میں کان میں تیل یا دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:مشہور قول یہی ہے کہ روزے کی حالت میںکان میں دوا، دودھ، تیل یا پانی وغیرہ ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائےگا۔علامہ شامیؒ نے اس طرح روزے کے ٹوٹ جانے پر اتفاق نقل کیا ہے۔[الرد مع الدر]
بعض محققین کا کہنا ہے کہ کان میں سیّال دوا ڈالنے سے بعض حضرات کے نزدیک روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور بعض کے نزدیک نہیں ٹوٹتااور اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ کان سے آگے منھ کی طرف بالاجماع سوراخ نہیں مگر دماغ کی طرف سوراخ ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے، جن حضرات کے نزدیک سوراخ ہے ان کے نزدیک کان میں دوا ڈالنا ناقضِ صوم ہے اور جن کے نزدیک سوراخ نہیں وہ عدمِ نقض کے قائل ہیں۔[تحفۃ الالمعی]
حضرت مفتی محمد رفیع عثمانیؒ(سابق مفتیِ اعظم پاکستان) حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم(شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی)، حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ (جنرل سکڑیٹری فقہ اکیڈمی انڈیا) کی رائے یہ ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،البتہ بہتر یہ ہے کہ روزے کی حالت میں کان میں دوا نہ ڈالے، لیکن اگر کوئی ڈال لے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
’فتاویٰ دارالعلوم کراچی‘ میں اس بابت ایک مفصل فتویٰ موجود ہے، اس میںہے کہ مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کان کے اندر پانی، تیل یا دو ڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، اِلا یہ کہ کسی شخص کے کان کا پردہ پھٹا ہوا ہو اور وہ پانی ، تیل یا دو اوغیرہ اس کے حلق تک پہنچ جائے،البتہ اس کے باوجود اگر کوئی شخص قدیم جمہور فقہا کے قول کے مطابق خود احتیاط کرے اور روزے کی حالت میں کان کے اندر دوا ڈالنے کے بجائے افطار کے بعد تیل یا دو اوغیرہ ڈالے تو اس کے لیے ایسا کرنا بلا شبہ بہتر اور شبہ سے بعید تر ہوگا۔فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






