قرآن کا پیغام (پارہ:۲۴)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا چوبیسواں پارہ ﴿فَمَنْ اَظْلَمُ﴾تین سورتوں پر مشتمل ہے: سورۃالزمر کا آخری حصہ، سورۂ غافریامؤمن مکمل، اور سورۂ فُصّلت(حم سجدہ) کا ابتدائی حصہ۔ یہ پارہ عقائد، تاریخ اور اخلاقیات کا ایک حسین امتزاج ہے۔
خود اپنا ذمّےدار: اللہ تعالیٰ نے نبی سے فرمایا: ہم نے لوگوں کے فایدے کے لیے تم پر یہ کتابِ برحق نازل کی ہے، اب جو شخص راہِ راست پر آجائے گاوہ اپنی ہی بھلائی کے لیے آئے گا، اور جو گم راہی اختیار کرےگا وہ اپنی گم راہی سے اپنا ہی نقصان کرے گا، اور تم اس کے ذمّےدار نہیں ۔
موت اور نیند کی مشابہت:ارشادفرمایا: وہ موت کے وقت روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو لوگ سو رہے ہوتے ہیں ان کی روحیں بھی عارضی طور پر قبض کر لیتا ہے۔ یہ کائنات کی ایک بہت بڑی نشانی ہے کہ روزانہ ہم نیند کی صورت میں ایک چھوٹی موت کا تجربہ کرتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا برحق ہے۔یہ عمل دراصل اس بڑے واقعے کا ایک چھوٹا ٹریلر [Trailer] ہے جو قیامت کے دن ہونا ہے۔
امید کی آیت:اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی دکھاتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ﴾کہہ دیجیے کہ اے میرے وہ بندو ! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے، یقیناً وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ یہ آیت گنہ گاروں کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ہے کہ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔
دو صور پھونکیں جائیںگے:اس سورت میں قیامت کے ہول ناک مناظر اور دو مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ﴾ اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں وہ سب بےہوش ہوجائیں گے، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، پھر دوسری بار صور پھونکا جائےگا تو وہ سب لوگ پل بھر میں کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ یہ کائنات کی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن اور ہیبت ناک لمحہ ہوگا۔
سورۂ غافر؍مؤمن
اللہ کی صفات اور حاملینِ عرش:سورۂ غافریا سورۂ مؤمن کا مرکزی موضوع دعوتِ حق اور اس کے مقابلے میں تکبر کا انجام بیان کرنا ہے۔ سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں:﴿غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ۙ ذِي الطَّوْلِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ﴾ جو گناہ کو معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا، بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس کے بعد بتایا گیا کہ عرشِ الٰہی کو اٹھانے والے اور اس کے گرد طواف کرنے والے فرشتے ہر وقت اہلِ ایمان کے لیے مغفرت کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ یہ اہلِ ایمان کے لیے نہایت اعزاز کی بات ہے کہ فرشتے ان کے لیے دعاگو ہیں۔
عظیم مردِ مومن کا قصہ: آگے آلِ فرعون کے ایک شخص کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:اور فرعون کے خاندان میں سے ایک مومن شخص جو ابھی تک اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بول اٹھا کہ کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے ؟ حالاںکہ وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے روشن دلیلیں لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہی ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑےگا، اور اگر سچا ہو تو جس چیز سے وہ تمھیں ڈرا رہا ہے اس میں کچھ تو تم پر آ ہی پڑےگی، اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا (اور) جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔یہ قصہ سکھاتا ہے کہ ہمیں حق کے لیے آواز اٹھانی چاہے، چاہے ہمارے سامنے فرعون جیسا متکبر بادشاہ ہی کیوں نہ ہوں۔
فرعون کا استکبار اور عبرت ناک انجام: فرعون نے اپنی طاقت کے نشے میں ہامان کو حکم دیا کہ ایک بلند عمارت بنائے تاکہ وہ آسمانوں کے راستوں تک پہنچ کر حضرت موسیٰؑکے خدا کو دیکھ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس تدبیر کو ناکام بنا دیا اور آخر کار آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا۔ قرآن مجید بتاتا ہے کہ انھیں دوزخ کی آگ پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور قیامت کے دن انھیں سخت ترین عذاب میں ڈالا جائے گا۔
سورۃ فُصِّلَت ؍حم السجدہ
قرآن سے اعراض کا رویہ:اس پارے کے آخری حصے میں سورۂ فصلت شروع ہوتی ہے، اس کے مضامین بھی دوسری مکی سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد کے اثبات اور مشرکین کی تردید پر مشتمل ہیں۔ کفارِ مکہ قرآن مجید سننا نہیں چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ اس رب کا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔
اعضا کی گواہی: قیامت کے دن جب مجرم اپنے گناہوں کا انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبانوں پر مہر لگا دےگا۔ پھر ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیںگی۔ جب وہ حیرت سے اپنے اعضا سے پوچھیںگے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ تو وہ جواب دیںگے کہ ہمیں اس اللہ نے بولنے کی قوت عطا کی، جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا۔
استقامت اور فرشتوں کی بشارت: آگے فرمایا کہ وہ لوگ جو توحید پر قایم اور آزمائشوں میں ثابت قدم رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے فرشتے بھیجتا ہے۔ یہ فرشتے انھیں تسلّی دیتے ہیں کہ نہ خوف کھاؤ اور نہ غم کرو بلکہ اس جنت کی خوش خبری لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔
برائی کا بدلہ بھلائی سے: تبلیغ کی فضیلت اور اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ﴾ اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے، اور یہ کہے کہ میں فرماں برداروں میں شامل ہوں۔ اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، تم بدی کا دفاع ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو، نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمھارے درمیان دشمنی تھی وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا جیسے وہ تمھارا جگری دوست ہو ۔
قرآن مجید- ہدایت وشفا: آیت:۴۴؍ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر ہم اس (قرآن) کو عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں کھول کھول کر کیوں نہیں بیان کی گئیں؟ یہ کیا بات ہے کہ قرآن عجمی ہے اور پیغمبر عربی ؟ کہہ دیجیے کہ جو لوگ ایمان لائیں ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا کا سامان ہے اور جو ایمان نہیں لاتے، ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے اور یہ ان کے لیے اندھیرے میں بھٹکنے کا سامان ہے۔
خلاصۂ کلام:یہ پورا پارہ انسانی زندگی کے تین بنیادی رخوں کی اصلاح کرتا ہے: (۱) عقیدہ: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرتِ کاملہ کو زمین و آسمان کی تخلیق سے ثابت کرنا (۲)امید اور توبہ: گنہ گار سے گنہ گار انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کی تلقین کرنا (۳)تاریخی سبق: فرعون اور قومِ عاد و ثمود کے قصوں سے یہ بتانا کہ مادّی طاقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔یہ پارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف اللہ کی بندگی، سچی توبہ اور حق پر استقامت میں ہے۔






