Home Dept of Islamic Studies یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی خاص نسل...

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی خاص نسل یا خاندان کے لیے وقف نہیں

قرآن کا پیغام(پارہ:۱)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ آخری کلام ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا۔ اس کی ترتیبِ توقیفی میں سب سے پہلے سورۃ الفاتحہ ہے اور پھر سورۃ البقرہ کی ابتدائی۱۴۱؍ آیات پر پہلا پارہ ﴿الۗمّۗ۝﴾ مکمل ہوتا ہے۔ یہ پارہ نہ صرف قرآنی تعلیمات کا دیباچہ ہے بلکہ انفرادی واجتماعی زندگی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ اخلاق بھی ہے۔

سورۃ الفاتحہ

قرآن کا دیباچہ: یہ سورت مکّی ہے یعنی یہ آپ ﷺ پر مکہ مکرمہ میں سورہ اقراء اور سورہ نون اور مزمل اور مدثر کے بعد نازل ہوئی تھی۔ نزول میں گو مؤخر ہے مگر قرآن مجید میں سب سے اول یہ سورت ہے اور اسی سے قرآن شروع ہوتا ہے اور اسی لیے اس کو ’فاتحہ‘ کہتے ہیں۔ اس مختصر اور سات آیتوں پر مشتمل چھوٹی سی صورت کو ایک مسلمان رات دن میں کم از کم سترہ مرتبہ دہراتا ہے اور جب وہ سنتیں پڑھتا ہے تو یہ تعداد اس سے بھی دوچند ہوجاتی ہے اور اگر کوئی فرائض وسنن کے علاوہ نوافل بھی پڑھتا ہے تو وہ اسے بےشمار مرتبہ دہراتا ہے ۔اس سورت میں اسلامی عقائد کے بلند اصول، اسلامی تصورِ حیات کے کلیات و مبادی اور انسانی شعور اور انسانی دل چسپیوں کے لیے نہایت ہی اہم اصولی ہدایات بیان کی گئی ہیں۔اس سورت کا ترجمہ یہ ہے: (۱)تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے (۲) جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے (۳)جو روزِ جزا کا مالک ہے (۴)(اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں (۵)ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما (۶)ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا (۷)نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی جن پر غضب نازل ہوا ہے اور نہ ان کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔

یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہدایت کا منبع صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور زندگی کا مقصد صرف اور صرف اس کی بندگی ہے۔یہ سورت قرآن کا دیباچہ اور خلاصہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، اس کی ربوبیت، رحمانیت اور روزِ جزا کی بادشاہت کا ذکر ہے۔ اس میں بندے کو اللہ تعالیٰ سے صراطِ مستقیم کی دعا مانگنا سکھایا گیا ہے، جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا اور ان لوگوں کے راستے سے پناہ مانگنا سکھایا گیا ہے جو گم راہ ہو گئے یا جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا۔

سورۃ البقرۃ

پہلے پارے میں موجود سورۃ البقرہ مدنی اور قرآن مجید کی سب سے طویل سورت ہے۔ اس کا نزول ہجرتِ مدینہ کے بعد ہوا، جس وقت مسلمانوں کو ایک نئی ریاست اور سماج کی بنیاد رکھنی تھی۔ اس لیے میں عبادات کے ساتھ ساتھ قوانین، معاشرت اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

تین قسم کے انسان:سورہ البقرہ کی ابتدا میں انسانوں کو ان کے رویوں کی بنیاد پر تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے:(۱) متقین (اہلِ ایمان): یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قایم کرتے ہیں، اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں اور سابقہ کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ ان کو کامیابی کی بشارت دی گئی ہے (۲) کفار: یہ وہ لوگ جو حق کو جاننے کے بعد بھی جان بوجھ کر اس سے انکار کرتے ہیں، ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے کیوںکہ انھوں نے خود کو ہدایت سے محروم کر لیا ہے (۳) منافقین: یہ سب سے خطرناک گروہ ہے جو زبان سے تو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دل میں کفر چھپائے رکھتا ہے۔ قرآن نے ان کے نفسیاتی امراض اور ان کی مصلحت پسندی کو کھول کر بیان کیا ہے۔

آدم علیہ السلام کی تخلیق اور انسان کی عظمت: پہلے پارے کا ایک نہایت اہم مضمون حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور زمین پر ان کی خلافت کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے جب انسان کی تخلیق کا ارادہ ظاہر کیا تو فرشتوں نے انسان کی ممکنہ خوں ریزی و فساد پر تشویش کا اظہار کیا تھا مگر اللہ نے آدمؑ کو ’اسماء‘ کا علم دے کر ان کی برتری ثابت کی۔ اس سے دو سبق ملتے ہیں:(۱) علم کی اہمیت: اس لیے کہ یہ انسان کی فرشتوں پر فضیلت کی بنیاد ہے (۲) خلافتِ الٰہیہ: انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ و نمایندہ ہے، اسے اپنی مرضی نہیں بلکہ اللہ کی مرضی چلانی ہے۔

بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی داستان: پہلے پارے کا نصف سے زیادہ حصہ بنی اسرائیل (حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد) کے قصوں پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں’عالمین‘ پر فضیلت بخشی تھی، ان پر منّ و سلویٰ اتارا، بادلوں کا سایہ کیا اور فرعون کے ظلم سے نجات دلائی مگر انھوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کر دی، اللہ تعالیٰ کے احکامات میں تاویلیں کیں، انبیاے کرام علیہم السلام کو شہید کیا اور مادیت پرستی اور دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گئے۔

گائے کا واقعہ: اس سورت کا نام ’البقرۃ‘ اس لیے ہے کہ اس میں گائے کا ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک قتل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، لیکن بنی اسرائیل نے حکم کی تعمیل کے بجائے غیر ضروری سوالات شروع کر دیے۔ اس طرح یہ واقعہ بتاتا ہے کہ دین میں غیرمفیداور غیر ضروری سوالات کرنا اور حکمِ الٰہی میں حجتیں تلاش کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور توحید کا مرکز: پہلے پارے کے آخری حصے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے۔ یہ حصہ اس لیے اہم ہے کہ یہاں سے امامت کی منتقلی کا اعلان ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑکو آزمائشوں میں مبتلاکیا اور پھر انھیں تمام انسانوں کا ’امام‘ مقرر کیا۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے مل کر خانۂ کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں اور دعا کی کہ ان کے ذریت میں وہ آخری رسول پیدا ہو جو لوگوں کے سامنے تلاوت، تزکیہ اور تعلیمِ کتاب و حکمت کا فریضہ انجام دے۔ یہاں یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ اب ہدایت کا مرکز بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں مکّہ مکرمہ ہوگا۔
عملی زندگی کے لیے رہنمائی (خلاصہ نکات):اس پہلے پارے کے مضامین پر غور کریں تو یہ چند بنیادی پیغامات سامنے آتے ہیں: (۱) ایمان بالغیب: مادّی دنیا سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور آخرت پر یقین ہی انسان کو حیوانیت سے نکال کر انسانیت کے درجے پر لاتا ہے (۲) نماز اور انفاق: اللہ تعالیٰ سے تعلق (نماز) اور بندوں سے تعلق (مال خرچ کرنا) دین کے دو بنیادی ستون ہیں (۳) صبر اور نماز سے مدد: اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب بھی زندگی میں مشکلات آئیں تو بے صبری کے بجائے نماز اور مستقل مزاجی سے کام لو (۴) کتاب اللہ سے ربط و تعلق: بنی اسرائیل کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے ’کتاب‘ (تورات) کے صرف ان حصوں پر عمل کیا جو ان کی خواہشات کے مطابق تھے اور باقی کو پسِ پشت ڈال دیا، اس لیے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ یہ روِش اختیار نہ کریں۔

خلاصۂ کلام:قرآن کا پہلا پارہ ہمیں ایک عظیم تاریخی پس منظر فراہم کرتا اور ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی خاص نسل یا خاندان کے لیے وقف نہیں، بلکہ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں ایک طرف حضرت آدمؑ کی توبہ سے امید دلاتا ہے تو دوسری طرف بنی اسرائیل کے عبرت ناک انجام سے ڈراتا ہے۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں ان منافقانہ رویوں سے بچنا ہوگا جن کا تذکرہ یہاں کیا گیا ہے اور ہمیں بھی تمام آزمائشوں میں حضرت ابراہیمؑ کی طرح کامل اطاعت و تسلیم کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here