Taaziya daari ki Ijaad, Haisiyat, Khurafaat aur Hukm, Nadeem Ahmed Ansari

taaziya-daari-ki-tareekh-au

تعزیہ داری کی ایجاد، حیثیت، خرافات و حکم

ندیم احمد انصاری(خادم الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا)

جو چیز رسول اللہﷺ کے زمانے میں نہیں تھی، حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عہنم کے زمانے میں نہیں تھی نیز جو منشاے قرآن و سنت کے موافق نہ ہو، وہ چیز کسی طرح جائز قرار نہیں دی جا سکتی، وہ بھی جب کہ اس میں بے شمار خرافات ضم ہو جائیں اور اسے جزوِ دین سمجھا جانے لگے تو اس صورت میں تو مباح کام بھی ناجائز قرار پاجاتا ہے، یہی کچھ حال محرم کے تعزیے کا ہے، جسے بعض طبقات میں مذہبی علامت کے طور پر سمجھا جانے لگا ہے، اس لیے اس سے حد درجے اجتناب کی ضرورت ہے۔
تعزیہ داری کی ایجاد
352ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ10 محرم کو حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کردی جائیں، بیع و شرابالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اوراعلانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کوپھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہلِ سنت دم بخوداورخاموش رہے کیوں کہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آیندہ سال353ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا،اہلِ سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکےچناں چہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیرِ عمل لانا شروع کردیا اور آج تک اس کا رواج ہندستان وغیرہ میں ہم دیکھ رہےہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔ ( تاریخ اسلام نجیب آبادی)
تعزیے بنانا اور اس میں معاونت کرنا
غیر ذی روح یعنی بے جان کی شبیہ بنانا اس وقت جائز ہے جب کہ اس پر کوئی مفسدہ یعنی خرابی مرتب نہ ہو، ورنہ حرام ہے اور تعزیے کے ساتھ جو معاملات کیے جاتے ہیں، ان کا معصیت و بدعت بلکہ بعض کا قریب بکفر ہونا ظاہر ہے، اس لیے اس کا بنانا بلاشک ناجائز ہوا اور چوں کہ معصیت کی اعانت معصیت ہے، اس لیے اس میں چندہ دینا اور فرش فروش سامانِ روشنی سے اس میں شرکت کرنا، سب ناجائز ہوگا اور بنانے والا اور اعانت کرنے والا دونوں گنہ گار ہوں گے۔(اغلاط العوام)
تعزیوں کی تعظیم کرنا
اس تعزیے کے آگے دست بستہ تعظیم سے کھڑے ہوتے ہیں، اس طرف پشت نہیں کرتے، اس پر عرضیاں لٹکاتے ہیں، اس کے دیکھنے کو زیارت کہتے ہیں اور اس قسم کے واہی تباہی معاملات کرتے ہیں، جو صریح شرک ہیں۔ ان معاملات کے اعتبار سے تعزیہ اس آیت کے مضمون میں داخل ہے: أتعبدون ما تنحتون (کیا ایسی چیز کو پوجتے ہو، جس کو خود تراشتے ہو)۔ تعزیے کی برائی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ اس کے لیے ایسے ایسے برتاؤ کرتے ہیں کہ شرع میں بالکل شرک اور گناہ ہیں۔بعض جہلا کا اعتقاد ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ تعزیے میں حضرت امام حسینؓ رونق افروز ہیں اور اسی وجہ سے اس کے آگے نذر و نیاز رکھتےہیں، جس کا ما أہل بہ لغیر اللہ میں داخل ہو کر کھانا حرام ہے۔(اغلاط العوام)
چند اصولی باتیں
محرم کے دنوں میں مسلمانوں کی کثیر تعداد ماتم کی مجلس اور تعزیے کے جلوس کا نظارہ دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتی ہے، اس میں کئی گناہ ہیں؛
(۱)ایک گناہ یہ کہ اس میں دشمنانِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور دشمنانِ قرآن کے ساتھ تشبہ ہے، حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے: من تشبہ بقوم فہو منہم یعنی جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت کی وہ اسی میں شمار ہوگا۔
(۲)دوسرا گناہ یہ ہے کہ اس سے ان دشمنانِ اسلام کی رونق بڑھتی ہے، دشمنوں کی رونق بڑھانا بہت بڑا گناہ ہے، ارشادِ نبویﷺ ہے: من کثر سواد  فہو منہم‘ جس نے کسی قوم کی رونق کو بڑھایا، وہ انھیں میں سے ہے۔
(۳) تیسرا گناہ یہ ہے کہ جس طرح عبادت دیکھنا عبادت ہے، اسی طرح گناہ کو دیکھنا بھی گناہ ہے۔
(۴)چوتھا گناہ یہ ہے کہ جس مقام پر غضب نازل ہو ایسی غضب والی جگہ جانا بہت بڑا گناہ ہے۔
محرم الحرام میں حضرت حسینؓ کی شہادت کی وجہ سے ماتم کرنا، کپڑے پھاڑنا اور مرثیے وغیرہ پڑھنا نہ صرف یہ کہ منع ہے بلکہ اس کا سننا بھی گناہ ہے، بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر محرم میں ماتم نہ کیا جائے بلکہ صرف سننے اور دیکھنے کی حد تک شرکت کی جائے تو کچھ حرج نہیں، یہ خیال محض غلط ہے، چوں کہ حدیث میں صاف موجود ہے: من کثر سواد قوم فہو منہم‘ جس نے کسی قوم کی جماعت کو زیادہ کیا (خواہ وہ عقیدۃً اسے برا سمجھتا ہو) قیامت کے دن وہ انھیں کے ساتھ ہوگا۔اس لیے جو لوگ ان شیعوں کی مجلس میں تماشے کی نیت سے چلے جاتے ہیں، یا کسی کو وہ لوگ خود بلاتے ہیں تو کسی جماعت کی تکثیر کرنا خواہ استہزاء ً ہو یا بطور تماشا یا دل جوئی وغیرہ کے ہو، غرض کسی بھی صورت سے ہو، ہر صورت میں بروئے قانونِ شریعت پوچھ ہوگی اور قیامت میں انھیں کے ساتھ حشر ہوگا، اس لیے نہ خود مجلس کرے اور نہ کسی کی [ایسی] مجلس میں جائے۔(اغلاط العوام)
تعزیوں پر چڑھاوا چڑھانا
بعض لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس میں شہیدانِ کربلا تشریف لاتے ہیں اور اسی لیے تعزیوں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں، ان پر عرضیاں ٹکاتے ہیں، یہ سب شرک ہے۔اس لیے اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور استطاعت رکھتا ہو تو ان تعزیوں کو توڑ ڈالنا چاہیے،کسی نے کہا تعزیہ توڑنا جائز نہیں ہے کیوں کہ اس میں حضرت حسینؓ کا نام لگا ہے، ایک صاحب نے خوب جواب دیا کہ گوسالہ سامری میں اللہ تعالیٰ کا نام تھا، چناں چہ ارشاد ہے: وقالوا ہٰذا الٰہکم و الٰہ موسیٰ۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کو کیوں کر توڑا؟(اغلاط العوام)
بعض نادان یوں کہتے ہیں کہ صاحب اس تعزیے کو حضرت امام عالی مقامؓ کے ساتھ نسبت ہو گئی اور ان کا نام لگ گیا، اس لیے تعظیم کے قابل ہو گیا، یہ بھی محض غلط ہے، چوں کہ نسبت کی تعظیم ہونے میں کوئی کلام نہیں مگر جب کہ نسبت واقعی ہو، مثلاً حضرت امام حسینؓ کا کوئی لباس ہو یا اور کوئی ان کا تبرک ہو، ہمارے نزدیک بھی وہ قابلِ تعظیم ہیں اور جو نسبت اپنی طرف سے تراشی ہوئی ہو، وہ ہرگز اسبابِ تعظیم سے نہیں، ورنہ کل کو کوئی خود امام حسینؓ ہونے کا دعویٰ کرنے لگےتو چاہیے کہ اس کی اور زیادہ تعظیم کرنے لگو، حالاں کہ بالیقین اس کو گستاخ و بے ادب قرار دے کر اس کی سخت توہین کے در پے ہو جاؤگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نسبتِ کاذبہ سے وہ شئی معظم نہیں ہوتی بلکہ اس کذب کی وجہ سے زیادہ اہانت کے قابل ہوتی ہے، اس بنا پر انصاف کر لو کہ یہ تعزیہ تعظیم کے قابل ہے یا اہانت کے؟(اغلاط العوام)
قرض لے کر تعزیہ بنانا
بہت [سے] ان دنوں میں تعزیہ بناتے ہیں اور بعضے اس کو اس قدر ضروی خیال کرتے ہیں کہ اگرچہ گھر میں کھانے کو نہ رہے یا بالکل بھی گھر میں نہیںبلکہ قرض ہی لینا پڑے،خواہ کچھ بھی ہو مگر تعزیہ ضرور بنے، یاد رکھو تعزیہ کا بنانا ہی بڑا گناہ ہے [تو اس کے لیے قرض لینا کیسے صحیح  ہو گا؟](اغلاط العوام:183)
[email protected]

  • 1
    Share
  • 1
    Share

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here