ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے امام نہیں ملےگا

مفتی ندیم احمد

اسلامی معاشرے میں مسجد اور امام کا کردار بہت اہم رہاہے، اگر امام مسجدوں سے صحیح نہج پر دینی خدمات انجام دےتو ہر محلہ اور محلّے کا ہر فرد دین دار بن سکتا ہے، لیکن نہایت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ نہ مسجدانتظامیہ کو اس کی فکر ہے، نہ ائمہ کو۔ انتظامیہ پنج وقتہ جماعت اور جمعہ کے ایک رسمی سے بیان پر خوش ہے اور ائمہ بہ طور پیشہ وقت گزار رہے ہیں، الا ما شاء اللہ۔ خطیر رقم سے بنائی گئی مسجد کی بڑی اور عالی شان عمارتیں چند منٹوں کے لیے آبادی ہوتی ہیں اور بس۔ مساجد اور صالح و باصلاحیت ائمہ مسلمانوں کی اہم دینی ضروریات میں سے ہیں،ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فایدہ اٹھانے کے لیے ان کی ضروریاتِ زندگی کا پوراخیال رکھنا امت پر ضروری ہے۔ ان کی اقتصادی اور معاشی حالت کو بہتر کیے بغیر ان سے توقعات وابستہ کرنا دیوانے کے خواب سا ہے۔

اکثر مسجدوں کا حال یہ ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ائمہ و موذن اور خدام کا حق الخدمت اتنا کم طے کیا جاتا ہے جتنا ٹرسٹی صاحب اپنی فیملی کے ساتھ کسی اچھے ہوٹل میں بیٹھ کر ایک دو وقت کا کھانا کھا جاتے ہیں۔ پھر ایک مرتبہ تنخواہ طے ہو جانے کے بعد سالہا سال اس میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔ وقتافوقتاًمہنگائی کی شرح بڑھتی رہتی ہے اور یہ تنخواہیں وہیں کی وہیں رہتی ہیں۔اس تنخواہ سے ان کی بنیادی ضرورتیں بہ مشکل پوری ہوتی ہیں، اگر کوئی غمی خوشی کا موقع پیش آجائے تو کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔

مختصر یہ کہ مساجد کے ائمہ ،مؤذن اور خدام کی تنخواہیں ان کی صلاحیتوں ، ضرورتوں اور مہنگائی کی شرح کو سامنے رکھتے ہوئے طے ہونی چاہئیں اور وقتاً فوقتاً ان میں معقول اضافہ بھی کیا جانا چاہیے ۔ورنہ وہ دن دور نہیں کہ قیامت کی ایک نشانی اور رحمۃ للعالمین ﷺ کی یہ پیشین گوئی آپ کے ذریعے سچ ثابت ہو جائےگی کہ ’لوگوں کو کوئی نماز پڑھانے والا نہیں ملےگا‘۔

ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے

’ابوداود‘ میں ہے؛حضرت خرشہ بن حر فزاریؓکی بہن حضرت سلامہ بنت حرؓکہتی ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انھیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے۔ عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ “إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ:‏‏‏‏ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ”.[ابوداود]

افضل شخص کو آگے بڑھانا اس میں داخل نہیں

یہ الفاظ دراصل آخری زمانے میں ظہورِ جہل و فسق سے کنایہ ہیں، مطلب یہ ہے کہ قربِ قیامت میں ایسے جاہلوں اور ایسے نااہل لوگوں کا غلبہ ہوگا کہ کوئی امامت کے لائق نہیں ہوگا، امامت سے ہر کوئی اپنے آپ کو بچانا چاہےگا، ایک دوسرے سے کہےگا کہ تم نماز پڑھاؤ میں اس کا اہل نہیں، دوسرا کہےگا کہ نہیں تم پڑھاؤ میں اس لایق نہیں۔ واضح رہے کہ کوئی شخص اگر کسی کو افضل و اولیٰ سمجھ کر امامت کے لیے آگے بڑھائے اور خود نماز پڑھانے سے گریز کرے، تو وہ اس میں داخل نہیں، کیوں کہ وہ تو دوسرے کو افضل جان کر اپنے کو امامت سے پیچھے ہٹا رہا ہے۔[مظاہرحق جدید]

کوئی نماز پڑھانے والا نہ ملےگا

’ابنِ ماجہ‘ میں ہے؛ حضرت خرشہ کی بہن سلامہ بنت حرؓکہتی ہیں کہ میں نے حضرت نبی کریم ﷺکو ارشاد فرماتے ہوئےسنا: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، لیکن انھیں کوئی امام نہیں ملے گا جو نماز پڑھائے۔ ‏عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّأُخْتِ خَرَشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ:‏‏‏‏ “يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ”.[ابن ماجہ] غلبۂ جہل کے علاوہ مستقل ائمہ کی ناقدری بھی اس کا سبب ہو سکتی ہے، اس سے ڈرنا چاہیے۔

کام زیادہ لینا اور اجرت کم دینا

اکثر مساجد میں ائمہ، مؤذن اور خدام سے کام زیادہ لیا جاتا ہے اور اجرت بہت کم دی جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل دے دو۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ “أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ”.[ابن ماجہ] حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (یعنی یہ حدیثِ قدسی ہے): تین آدمی ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں لڑوںگا: (۱)ایک وہ شخص جس نے میرا واسطہ دے کر عہد کیا، پھر بےوفائی کی (۲)دوسرے وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی (۳)تیسرے وہ شخص جس نے کسی مزدور کو کام پر رکھا ،اس سے کام پورا لیا اور مزدوری نہ دی۔ ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ “ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:‏‏‏‏ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ. [بخاری]

سابق مفتیِ اعظم گجرات، حضرت مفتی سید عبدالرحیم لاجپوریؒ تحریر فرماتے ہیں:مزدوری پوری نہ دینے کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں کہ اس کی مزدوری مار لے اور پوری نہ دے، بلکہ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ جتنی اجرت اس کا م کی ملنی چاہیے اتنی نہ دے اور اس کی مجبوری سے فایدہ اٹھائے کہ کم سے کم اجرت پر کام لے لے۔فقہاے کرام رحمہم اﷲ نے تصریح کی ہے: ویعطی بقدر الحاجۃ والفقہ والفضل ان قصر کان اﷲ علیہ حسیباً یعنی متولی اور مدرسے کے مہتمم کو لازم ہے کہ خادمانِ مساجد و مدارس کو ان کی حاجت کے مطابق اور ان کی علمی قابلیت اور تقویٰ وصلاح کو ملحوظ رکھتے ہوئے وظیفہ و مشاہرہ (تنخواہ) دیتے رہیں، باوجود گنجائش کے کم دینا، بری بات ہے، اور متولی و مہتمم خدا کے یہاں جواب دہ ہوں گے۔[فتاویٰ رحیمیہ]

تنخواہ لینے والے کو امامت کا ثواب ملےگا؟

بعض لوگوں کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ امام نے جب امامت کی تنخواہ لے لی تو اسے ثواب کیوں کر ملےگا؟ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: امامت کی تنخواہ لینا جائز ہے، اگر یہ نیت ہے کہ اگر مجھ کو اس سے زیادہ کہیں روپیہ ملا تو میںاس کو چھوڑ کر اس کو اختیار کرلوںگا، تب تو ثواب نہ ملے گا، اور اس کو اجرتِ محضہ کہا جائے گا، اور اگر یہ نیت رہے کہ زیادہ کے لیے بھی اس کو نہ چھوڑوںگا، تو ثواب ضائع نہ ہوگا، اور اس کو اجرت نہ کہا جائے گا، بلکہ نفقۂ حبس وکفایت، مثلِ رزق قاضی کہا جائے گا۔ [امدادالفتاوی]

تنخواہ لینے والا امام بہتر ہے یا نہ لینے والا

البتہ اگر کوئی للہ امامت کرے اور اہل بھی ہو تو سونے پہ سہاگا۔ مفتیِ اعظم گجرات، سیدی حضرت مفتی احمد خانپوری دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں: امام اعلم، اقرء اور اورع ہونا چاہیے یعنی شرعی مسائل کا علم زیادہ رکھتا ہو اور قرآن شریف صحیح پڑھتا ہو اور متبعِ شریعت و پابندِسنت ہو، اب اگر دو آدمی مذکورہ اوصاف میں برابر ہیں اور ان میں سے ایک تنخواہ لیتا ہےجب کہ دوسرا نہیں لیتا تو اس صورت میں جو تنخواہ نہ لیتا ہو تو اس کو امام بنانا بہتر ہے۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اﷲ! اجَعَلْنِیْ اِمَامَ قَوْمِی، قَالَ اَنْتَ اِمَامُھُمْ وَاقْتَدِ بِاَضْعَفِھِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذَّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی اَذَانِہٖ اَجْرًا. رواہ احمد و ابوداؤد والنسائی۔[مشکوۃ شریف] ثم یدخل فی کونه خیاراً ان لا یأخذ اجراً۔ [مرقاۃ] باقی اگر کسی امام میں امامت کے لیے مطلوبہ اوصاف مفقود ہیں یا کمی ہے، تو محض اس بنا پر کہ وہ تنخواہ نہیں لیتا، اس کو بہتر نہیں کہہ سکتے۔[محمودالفتاویٰ مبوب]

[کالم نگار دارالافتا، نالاسوپارہ، ممبئی کے مفتی ہیں]

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here