تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور دارالعلوم دیوبند کا قدیم اور جدیدفتویٰ
سوال:تراویح پر حافظ صاحب کو ہدیہ وغیرہ کےنام سے کچھ لینے دینے میں کیا حرج ہے؟ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ سو سال پرانا ہو چکا ہے، اب تو بہت سارے علما نے تراویح پر دیے جانے والی رقم کو ہدیہ، انعام اور اکرامیہ کہہ کر جائز بتایا ہے۔ اگر یہ ناجائز ہی ہے تو پھر وعظ و امامت پر اجرت کیسے جائز ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:مسلمان کو چاہیے کہ جذبات سے پَرے ہو کر اہلِ حق کے فتاویٰ کو تسلیم کرے۔ دارالعلوم دیوبند کے مفتیِ اول سے لے کر موجودہ مفتیانِ کرام تک سب تراویح پر اجرت، معاضہ یا ہدیے کے لین دین کو ناجائز کہتے ہیں۔دارالعلوم دیوبند کے مفتیِ اول، حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ تحریر فر ماتے ہیں:اجرت پر قرآن شریف پڑھنا درست نہیں ہے اور اس میں ثواب نہیں ہے اور بہ حکم المعروف کالمشروط جن کی نیت لینے دینے کی ہے وہ بھی اجرت کے حکم میں ہے اور نا جائز ہے،اس حالت میں صرف تراویح پڑھنا اور اجرت کا قرآن شریف نہ سننا بہتر ہے، اور صرف تراویح ادا کر لینے سے قیامِ رمضان کی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔[فتاویٰ دارا لعلوم دیوبند] ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: وعظ پر اجرت لینے کو متاخرین حنفیہ نے جائز قرار دیا ہے، جیسا کہ ردا لمحتار میں ہے:و زاد بعضهم الخ، اور اس کے علاوہ قرآن خوانی ، نمازِجنازہ ، عیدین اور تراویح کی نماز پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، اور مشہور قاعدہ المعروف کالمشروط کے اعتبار سے مذکورہ اجرت کو صدقہ نام دینا مفیدِ حلت نہیں ہے اور اسے جائز قرار دینے والے اور حرام امور کو رائج کرنے والے بدعتی اور گنہ گار ہیں،اقتدا کے لائق نہیں ہیں اور فسق کے نام کے زیادہ حق دار ہیں۔[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند] [ماخوذ از فقہِ رمضان]
رہی یہ بات کہ یہ فتویٰ سو سال پرانا ہے، پھر تو اور بھی افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ اب تک اس سے ناواقف ہیں یا جان بوجھ کر اس کے خلاف کر رہے ہیں۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ آج بھی یہی ہے، موجودہ مفتیانِ کرام کی طرف سے ایک مفصل فتویٰ ’معاوضہ علی التراویح‘ کے نام سے مستقل رسالے کی صورت میں شائع کیا گیا ہے، اس کی پی ڈی ایف بھی دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






