ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کی سب سے قیمتی متاع اس کی حریت، آزادی اور خودداری ہے، جس کے بغیر انسانیت کی معراج اور روح کی بلندی کا تصور بھی محال ہے۔ اسلام نے انسان کو موروثی غلامی، طبقاتی استحصال اور جبری تسلط کے اندھیروں سے نکال کر مساوات و حریت کے نور سے روشناس کرایا ہے۔ آزادی محض ایک قانونی یا سیاسی حق کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں، فکری ارتقا اور اخلاقی بلندی کی بنیادی شرط ہے۔ اس کے برعکس جب بھی کسی معاشرے میں زور زبردستی کے ذریعے انسان کی گردن میں غلامی کا طوق ڈالا گیا یا فرد نے خود جبر کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ذلت کو اپنا مقدر مان لیا تو نہ صرف وہ معاشرہ زوال پذیر ہوا بلکہ انسانیت کی روح بھی مسخ ہو کر رہ گئی۔ زیرِ نظر مضمون میں اسی حساس موضوع کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اسلام، عقل، معیشت اور نفسیات کی روشنی میں انسان کو غلامی سے محفوظ رکھنے اور اس لعنت پر راضی نہ ہونے کے اصول اور فکری منہاج کیا ہیں۔
حقیقی آزادی
حقیقی آزادی بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لانا ہے۔ اسلامی شریعت میں کسی انسان کو اس کی آزادی سے محروم کرنا، اس کی خرید و فروخت کرنا یا اسے اپنی ملکیت میں لینا سخت ترین گناہ ہے۔ قرآن مجید نے نوعِ انسانی کے بنیادی احترام اور پیدائشی مساوات کا اعلان کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ انسانیت میں تمام افراد برابر ہیں:﴿يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ﴾ اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمھیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔ [الحجرات] جب تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، تو کسی انسان کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرے؟
آزاد انسان کو غلام بنانے پر وعیدِ شدید
اللہ تعالیٰ نے آزاد انسان کو غلام بنانا نہایت سنگین جرم قرار دیا ہے: حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں قیامت کے دن تین آدمیوں کا دشمن ہوں گا: ایک وہ جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر اسے توڑ دے، دوسرے وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی، تیسرے وہ شخص جس نے کسی مزدور سے پورا کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہ دی۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ: “ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ”. [بخاری] غلام بنانے سے انسان کی بنیادی شرعی اہلیت (Legal Capacity) متاثر ہوتی ہے۔ کسی کو غلام بنانے کا مطلب اس کی ذات، محنت اور زندگی پر زبردستی قبضہ کرنا ہے، جو حقوق العباد کی شدید ترین پامالی اور غصب کی بدترین شکل ہے۔
غلامی اور ذلت پر راضی رہنا
اسلام جہاں کسی پر ظلم کرنے اور اسے غلام بنانے سے منع کرتا ہے، وہاں مظلوم کو بھی یہ درس دیتا ہے کہ وہ ذلت اور جبر کو اپنا مقدر نہ سمجھے بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھائے۔حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد:شہیدوں کے سردار حمزہ بن عبد المطلب ہیں، اور وہ شخص جو کسی جابر حکمران کے سامنے کھڑا ہوا، اسے برائی سے روکا اورنیکی کا حکم دیا اور حکمراں نے اسے قتل کر دیا۔ عن ابن عباس قال، قال رسول اللہ ﷺ: سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ یوم القیامۃ: حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ، فَنَهَاهُ وَ أَمَرَهُ ، فَقَتَلَهُ.[معجمِ اوسط طبرانی] حضرت حذیفہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے۔ صحابہؓنے عرض کیا : اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : اپنے آپ کو ایسی مصیبت سے دو چار کرے جسے جھیلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ” لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ “، قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ ؟ قَالَ: “يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ “. [ترمذی]
ذلت پر قناعت کرنے والوں کی مذمّت قرآن میں
قرآن مجید نے ان لوگوں کی سخت مذمت کی ہے جو حالات یا جابر حکمرانوں کا بہانہ بنا کر ذلت اور بے بسی کی زندگی پر راضی رہتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:
﴿اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا﴾ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو بولے : تم کس حالت میں تھے ؟ وہ کہنے لگے : ہم تو زمین میں بےبس کردیے گئے تھے۔ فرشتوں نے کہا : کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ؟ لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ نہایت برا انجام ہے۔ [النساء] نفسیاتی و سماجی علوم کے مطابق طویل عرصے تک جبر و غلامی پر خاموش رہنے سے انسان میں ’سیکھی ہوئی بے بسی‘ (Learned Helplessness) پیدا ہو جاتی ہے۔ انسان اپنی سوچنے سمجھنے اور جدوجہد کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسلام اس کے برعکس انسان میںغیرت، شجاعت اور خودداری پیدا کرتا ہے۔
جدید دور میں غلامی کی نئی شکلیں
ہمارے زمانے میں اگرچہ روایتی اور جسمانی غلامی کا قانونی خاتمہ ہو چکا ہے، لیکن جدید دور میں یہ چند نئی صورتوں میں موجود ہے، جس سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے: (۱) معاشی غلامی (Economic Exploitation): غریب افراد یا قوموں کو شدید سود اور قرضوں میں جکڑ کر ان کا معاشی استحصال کرنا۔ کم اجرت دینا، بنیادی انسانی سہولیات سے محروم رکھنا اور اوور ٹائم کا پیسہ نہ دینا بھی ایک طرح کی معاشی غلامی ہے (۲)فکری و ثقافتی غلامی (Intellectual & Cultural Slavery):اپنی تہذیب، زبان اور دینی اقدار کو پست سمجھنا اور غالب و ظالم اقوام کی بلا چوں و چرا تقلید کرنا۔حضرت حذیفہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم لوگ ہر ایک کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمھارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو، اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ” لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا “. [ترمذی]حضرت عبد اللہ بن مسعودؓفرمایا کرتے تھے:تم میں سے کوئی شخص إِمَّعَة(اندھی تقلید کرنے والا) نہ بنے۔ لوگوں نے پوچھا: اے عبدالرحمن! إِمَّعَة(اندھی تقلید کرنا) کیا ہے؟ انھوں نے کہا: وہ یہ کہے کہ میں تو بس لوگوں کے ساتھ ہوں، اگر وہ ہدایت پر ہوئے تو میں بھی ہدایت پر رہوں گا، اور اگر وہ گمراہ ہوئے تو میں بھی گمراہ ہو جاؤں گا! خبردار! تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے نفس کو اس بات پر پکّا کر لے کہ اگر سارے لوگ بھی کفر (گمراہی) اختیار کر لیں، تو بھی وہ کفر نہ کرے۔قال عبد اللہ: لاَ يَكُونَ أَحَدُكُمْ إِمَّعَةً، قالوا: وما الإمعةُ يا أبا عبدِ الرحمنِ؟ قال: يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا مَعَ النَّاسِ، إِنِ اهْتَدَوْا اهْتَدَيْتُ، وَإِنْ ضَلُّوا ضَلَلْتُ، أَلاَ لَيُوَطِّنَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ عَلَى أَنَّ كَفَرَ النَّاسُ أَن لايَكْفُرَ.[معجمِ کبیر طبرانی]
خلاصۂ مضمون
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام کی پوری تاریخ اور اس کا چشمۂ فیضِ ہدایت اس بات کا پرزور تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی ذہنی، جسمانی، معاشی یا فکری غلامی کو قبول نہ کرے۔ آزادی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت ایمان کی حفاظت کے مترادف ہے۔ جدید دور کے بدلتے ہوئے تناظرات میں اگرچہ طوق و زنجیر کی ظاہری شکلیں بدل چکی ہیں، لیکن معاشی استحصال اور فکری و ثقافتی تقلید نے غلامی کے نئے اور خطرناک روپ دھار لیے ہیں۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ اور بالعموم نوعِ انسانی قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنائے، اپنی خودی کو بیدار کرے، اور ظلم و جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے استقامت اور شجاعت کا پیکر بن جائے۔






