Home Dept of Islamic Studies Articles ساتواں پارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارا ایمان صرف زبانی نہ رہے...

ساتواں پارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارا ایمان صرف زبانی نہ رہے بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے

قرآن کا پیغام (پارہ:۷)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

ساتواں پارہ (وَاِذَا سَمِعُوْا) قرآن مجید کے ان حصوں میں سے ہے جو احکامات (فقہ) اور عقائد (توحید و رسالت) کا ایک خوب صورت سنگم ہے۔ اس میں سورۃ المائدہ کا آخری حصہ -جو مدنی دور کے اختتام پر نازل ہوا-اور سورۃ الانعام کا ابتدائی حصہ -جو مکی دور میں نازل ہوا-شامل ہے۔

عیسائیوں کا مثبت رویہ اور قبولِ حق:پارے کی ابتدا اس نفسیاتی و جذباتی کیفیت سے ہوتی ہے جو حق کے متلاشیوں پر طاری ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ (سچّے نصرانی) اس وحی کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوئی تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے چھلک پڑتی ہیں۔ یہ آنسو اس خوشی اور اعتراف کے ہوتے ہیں کہ انھوں نے سچائی کو پا لیا۔ وہ دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ اللہ کے نزدیک اصل چیز دل کی نرمی اور حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔

قَسموں کے مسائل اور سماجی تربیت: اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس پارے میں لغو اور پختہ قسموں کے درمیان فرق واضح کیا اور فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمھاری بے ارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا، لیکن پختہ قسموں پر مواخذہ کرے گا(جب کہ ان کو توڑ ڈالو)۔ اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے، جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو۔ یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اور جس کو اتنی استطاعت نہ ہو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمھاری قَسموں کا کفارہ ہے، جب تم قَسم کھا لو اور اسے توڑ دو۔ اور تمھیں چاہیے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو ۔

شراب و جوا جیسی معاشرتی برائیوں کا جڑ سے خاتمہ: سورۃ المائدہ میں شراب اور جوئے کو ’رِجس‘ (گندگی) اور’عملِ شیطان‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس پارے میں وہ مشہور آیت ہے جس نے عرب کے معاشرے میں شراب کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت کی وجہ یہ بتائی کہ شیطان ان کاموں کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان بغض اور دشمنی ڈالنا چاہتا ہے اور انھیںں ذکرِ الٰہی اور نماز سے روکتا ہے۔ یہ آیات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کامیابی صرف ان چیزوں سے بچنے میں ہے۔

حالتِ احرام میں شکار کے احکام:آگے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی آزمائش کا ذکر کیا ہے کہ حالتِ احرام میں شکار سامنے ہونے کے باوجود اسے نہ پکڑنا تقوے کا امتحان ہے۔ خشکی کا شکار حرام ہے جب کہ سمندری شکار کو حلال رکھا گیا ہے۔ یہ احکامات نظم و ضبط اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام اور مائدہ کا نزول: اس پارے کا ایک بڑا حصہ حضرت عیسیٰؑکے گرد گھومتا ہے (۱) معجزات: اللہ تعالیٰ نے انھیں جو معجزات دیے (مٹی کے پرندے میں جان ڈالنا، نابینا کو بینا کرنا، کوڑھی کو شفا دینا اور مُردوں کو زندہ کرنا)، ان سب کے ساتھ ﴿بِاِذْنِیْ﴾ (میرے حکم سے) کی تکرار ہے تاکہ واضح رہے کہ وہ خدا نہیں بلکہ اللہ کے بندے اور رسول تھے (۲) المائدہ: حواریوں نے ایمان کی مضبوطی اور دلی اطمینان کے لیے آسمان سے کھانے کے دسترخوان کا مطالبہ کیا۔ حضرت عیسیٰؑنے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جسے قبول کر لیا گیا، لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا گیا کہ اب اگر کسی نے کفر کیا تو اسے سخت عذاب دیا جائے گا (۳) عقیدۂ تثلیث کی تردید: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰؑسے تمام انسانوں کے سامنے سوال کرے گا کہ کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ اس پر حضرت عیسیٰؑکی لرزہ خیز عاجزی اور ان کا یہ جواب کہ -اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو ضرور علم ہوتا-یہ عیسائیوں کے غلط عقائد کی مکمل نفی کرتا ہے۔

سورۃ الأنعام

پارے کے آخری تہائی حصے سے سورۃ الانعام کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ سورت اپنے اسلوب میں بہت جلال والی ہے اور بہ راہِ راست مشرکینِ مکہ کے اعتراضات کا جواب دیتی ہے۔

تخلیقِ کائنات اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت:سورت کا آغاز اس اعلان سے ہوتا ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے زمین و آسمان بنائے اور اندھیرے اور روشنی کو پیدا کیا،﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ﴾۔ یہاں’ظلمات‘ (اندھیروں) کو جمع اور ’نور‘ کو واحد استعمال کیا گیا ہے، جو اس طرف اشارہ ہے کہ گم راہی کے راستے بہت ہیں لیکن حق کا راستہ صرف ایک ہے۔

منکرینِ حق کی نفسیات:آگے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں، اگر ان کے پاس کوئی فرشتہ بھی آ جاتا یا کوئی لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اترتی، تب بھی یہ اسے جادو کہہ کر مسترد کر دیتے۔ ان کا اصل مسئلہ دلیل کی کمی نہیں بلکہ تکبر اور ہٹ دھرمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلی قوموں کی ہلاکت کا تذکرہ کر کے تنبیہ کی ہے کہ وہ لوگ ان سے زیادہ طاقت ور تھے، لیکن جب انھوں نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انھیں مٹا دیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مناظرہ:یہ پارہ حضرت ابراہیمؑکے اس مشہور واقعے پر تفصیلی روشنی ڈالتا ہے جہاں وہ اپنی قوم کو عقل کے ذریعے سمجھاتے ہیں۔ وہ ستارے کو دیکھتے ہیں، پھر چاند کو، پھر سورج کو۔ ہر ایک کے ڈوبنے پر وہ فرماتے ہیں کہ میں ڈوب جانے والوں (زوال پذیر چیزوں) سے محبت نہیں کرتا۔ یہ دراصل ایک عقلی استدلال تھا کہ جو چیز خود کسی قانون کی پابند ہے اور غائب ہو جاتی ہے، وہ خدا نہیں ہو سکتی۔ آخر میں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنا رخ اس کی طرف کر لیا جس نے ان سب کو پیدا کیا۔ یہ واقعہ توحید کی فطری پکار کی بہترین مثال ہے۔

اللہ تعالیٰ کی نشانیاں: پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونوںکا ذکر ہے کہ (۱) وہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اس میں سے زندگی نکالتا ہے (۲) وہ صبح کے وقت اندھیرے کو چاک کر کے روشنی نکالتا ہے (۳) اس نے ستاروں کو اس لیے بنایا ہے تاکہ انسان خشکی و تری کے اندھیروں میں راستہ پا سکے (۴) آسمان سے پانی برسانا اور اس سے ہر طرح کے باغات، کھجور کے خوشے، انگور، زیتون اور انار پیدا کرنا بھی اس کی قدرست کا کرشمہ ہے۔ یہ تمام مثالیں دے کر اللہ تعالیٰ انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ان چیزوں میں غور کرے اور پہچانے کہ ان کا خالق کون ہے؟

شرک کی نفی اور توحید:اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس عقیدے کی سختی سے تردید کی ہے کہ جنات اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں یا اس کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ان سب سے پاک ہے؛:وہ زمین و آسمان کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں تو اس کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ ہر چیز کا خالق اور نگراں ہے۔

خلاصۂ کلام:قرآن مجید کا یہ پارہ ہمیں درجِ ذیل امور سکھاتا ہے: (۱) اخلاق و قانون: ہمیں اپنی زبان (قَسموں) کا پاس دار ہونا چاہیے اور نشہ آور چیزوں سے دور رہنا چاہیے (۲)انبیا علیہم السلام کی سیرت: تمام انبیا کا پیغام ایک ہی تھا (توحید)۔ حضرت عیسیٰؑاور حضرت ابراہیمؑکے واقعات ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں (۳) فکری بیداری: ہمیں کائنات کے نظام، بدلتے موسموں اور نباتات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھنا چاہیے تاکہ ہمارا ایمان صرف زبانی نہ رہے بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے (۴)نظریں اس کو نہیں پا سکتیں، وہ سب نظروں کو پاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here