Home Dept of Islamic Studies Articles چھٹا پارہ عقائد کی پختگی، قانونی حدود کے نفاذ اور بین الاقوامی...

چھٹا پارہ عقائد کی پختگی، قانونی حدود کے نفاذ اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے

قرآن کا پیغام(پارہ:۶)

مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)

قرآن مجید کا چھٹا پارہ ﴿لَا يُحِبُّ اللّٰهُ﴾ سورۃ النساء کی آیت: ۱۴۸؍ سے شروع ہو کر سورۃ المائدہ کی آیت ۸۲؍ پر ختم ہوتا ہے۔ اس پارے میں انسانی حقوق، سماجی انصاف، عقائد کی اصلاح اور سابقہ امتوں کے عروج و زوال کے اسباب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

سماجی اخلاقیات اور مظلوم کا حق: پارے کا آغاز ایک بہت ہی اہم اخلاقی اصول سے ہوتا ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ برائی کو زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتا، مگر اس سے جس پر ظلم ہوا ہو۔یہ آیت اسلامی معاشرت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اسلام غیبت، چغل خوری اور کسی کی عیب جوئی کو سخت ناپسند کرتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہے تو اسے یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ظالم کا نام لے کر اس کے ظلم کو بے نقاب کرے تاکہ انصاف حاصل کر سکے۔ یہ اظہارِ رائے کی آزادی اور حقِ احتجاج کی قرآنی سند ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دینے کی ترغیب بھی دی ہے تاکہ معاشرے میں انتقام کے بجائے عفو و درگزر کا جذبہ پیدا ہو۔

اہلِ کتاب کی کج رویاں اور حضرت عیسیٰؑکی حقیقت:اس پارے کا ایک بڑا حصہ بنی اسرائیل (یہود و نصاریٰ) کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ان خطاؤں کو گنوایا ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوئے: (۱) میثاق کی خلاف ورزی: انھوں نے اللہ سے کیے گئے پختہ وعدوں کو توڑ ڈالا تھا (۲) انبیاعلیہم السلام کا قتل: انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو شہید کیا (۳) حضرت مریمؑپر بہتان: یہودیوں نے حضرت مریمؑکی پاک دامنی پر حملہ کیا (۴)عقیدۂ مسیح: یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ بن مریمؑکو قتل کر دیا ہے، اور عیسائیوں نے انھیں خدا یا خدا کا بیٹا مان لیا۔ قرآن مجید نے ان دونوں انتہاؤں کی تردید کی اور فرمایا کہ انھوں نے نہ انھیں قتل کیا اور نہ سولی چڑھا سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ قیامت کے قریب ان کا نزول ہوگا اور تمام اہلِ کتاب ان پر ایمان لائیں گے۔

عقیدہ تثلیث کی تردید اور توحید کا پیغام:سورۃ النساء کے اختتام پر عیسائیوں کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ خدا ’تین‘ نہیں ہے، بلکہ وہ ’ایک‘ ہی ہے۔ حضرت عیسیٰؑاللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں عار محسوس کرنا تکبر ہے، اور تکبر کرنے والوں کا انجام جہنم ہے۔

سورۃ المائدہ

معاہدات اور ضابطۂ حیات: پارے کے وسط سے سورۃ المائدہ کا آغاز ہوتا ہے۔’مائدہ‘ کے معنی دسترخوان کے ہیں۔ اس سورت میں زیادہ تر حلال و حرام اور قانونی و تمدنی احکامات بیان ہوئے ہیں، مثلاً (۱) ایفاے عہد: پہلی ہی آیت میں حکم دیا گیا کہ اپنے معاہدوں کو پورا کرو۔ چاہے وہ اللہ سے کیے ہوں یا انسانوں سے (۲) شعائر اللہ کی حرمت: حج و عمرہ کے مناسک، حرم کی حدود اور مقدس مہینوں کا احترام لازم قرار دیا گیا (۳) تعاون کا سنہرا اصول: قرآن مجید نے یہاں ایک عالمگیر اصول دیاکہ نیکی اور تقوے کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو: ﴿تَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۠وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝﴾۔ اگر دنیا اس ایک اصول کو اپنا لے تو تمام فسادات ختم ہو جائیں۔

دین کی تکمیل اور حلال و حرام کے احکامات:اسی پارے میں میدانِ عرفات میں نازل ہونے والی وہ عظیم آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کے مکمل ہونے کی نوید سنائی: ﴿اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ﴾۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں کی تفصیل دی گئی ہے:(۱) مردار، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت، اور وہ جانور جسے اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو قطعی حرام ہیں (۲) شکاری جانوروں (کتوں، باز وغیرہ) کے ذریعے پکڑا گیا شکار حلال ہے،اس شرط کے ساتھ کہ ان کو سدھایا گیا ہو (۳)اہلِ کتاب کا ذبیحہ اور ان کی پاک دامن عورتوں سے نکاح کو حلال قرار دیا گیا تاکہ سماجی روابط کی راہ ہم وار ہو۔

طہارت اور جسمانی پاکیزگی:نماز کے لیے وضو کے چار فرائض (چہرہ دھونا، کہنیوں سمیت ہاتھ دھونا، سر کا مسح کرنا اور ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا) اسی پارے میں بیان ہوئے ہیں۔ تیمم کی رخصت بھی دی گئی تاکہ دین میں کوئی تنگی محسوس نہ ہو۔

عدل و انصاف کی آفاقی تعلیم:اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس حد تک نہ پہنچا دے کہ تم انصاف کرنا چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقوے کے قریب ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے بدترین دشمن کے ساتھ بھی عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

ہابیل و قابیل کا قصہ اور انسانی جان کی حرمت:اس پارے میں حضرت آدمؑکے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا گیا ہے جس میں قابیل نے حسد کی وجہ سے ہابیل کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کے تناظر میں اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی قدر و قیمت متعین کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کر دیا، اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا، اور جس نے ایک جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو زندگی بخشی۔ یہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا چارٹر ہے۔

معاشرتی جرائم کی سزائیں:آگےمعاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے ’حدود‘ کا ذکر کیا گیا ہے: (۱) محاربہ: اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والے اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کی عبرتناک سزا (۲) چوری: چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم تاکہ لوگوں کی املاک محفوظ رہیں (۳) قصاص: جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، اور زخموں کا برابر بدلہ۔ تاہم، معاف کر دینے کو صدقہ اور گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے۔

اہلِ کتاب کی ذہنی و اخلاقی پستی:پارے کے آخری حصے میں یہودیوں کی اس بدتمیزی کا ذکر ہے کہ وہ کہتے تھے اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور فرمایا کہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ ان کی اس سرکشی، سود خوری اور حرام مال کھانے کی عادت نے انھیں ذلیل کر دیا۔

حق کی پہچان:پارے کے اختتام پر نصاریٰ (عیسائیوں) کے اس گروہ کا ذکر ہے جو حق بات سن کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہوں میں لکھ لے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرکین ہیں، جب کہ سب سے زیادہ قریب عیسائی ہیں (کیوں کہ ان میں نرم دل علما اور درویش پائے جاتے ہیں)۔

حاصلِ کلام: چھٹا پارہ ہمیں ایک مکمل ضابطۂ اخلاق فراہم کرتا اور ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے ساتھ ساتھ انسانوں کے حقوق، عدل و انصاف، پاکیزہ رزق اور معاہدات کی پابندی ہی وہ راستہ ہے جو کسی قوم کو عروج عطا کرتا ہے۔ یہ پارہ ہمیں سابقہ امتوں کی غلطیوں سے بچنے اور قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی تاکید کرتا ہے اور عقائد کی پختگی، قانونی حدود کے نفاذ اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے، جو ایک زندہ اور متحرک مسلم معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here