عید الاضحی کے دن قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتدا کا ثواب

    مولانا ندیم احمد انصاری

    عید الاضحی میں صبحِ صادق سے لے کر نمازِ عید تک کچھ نہ کھانا پینا فرض و واجب تو نہیں لیکن مسنون و مستحب ہے۔ ماہِ ذوالحجہ کے عشرۂ اول یعنی ابتدائی دس دنوں میں نفلی روزوں کی بڑی ترغیب احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور عید کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے فقط عید کی نماز تک کھانے پینے وغیرہ سے رکے رہنے اور قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتدا کرنے پر پورے دن کے روزے کے ثواب کی امید کی جا سکتی ہے۔عید الاضحی میں جس شخص کو قربانی کرنی ہوتی ہے اس کے لیے اپنی قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتدا کرنا افضل اور حدیث سے ثابت ہے۔ جو لوگ قربانی نہ بھی کر رہے ہوں، ان کے لیے بھی اس دن کھانے کی ابتدا اپنے نہیں تو کسی اور کے سہی، لیکن قربانی کے گوشت سے کرنی چاہیے۔

    رسول اللہ ﷺ کا مبارک عمل

    حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضرت نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر نہ نکلتے اور عید الاضحی کے دن نماز سے واپس آنے تک کچھ نہ کھاتے۔ ‏‏‏‏ (ابن ماجہ)

    ماہِ ذی الحجہ کے دس روزے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، ان دنوں میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے نفلی روزوں کے برابر اور ایک رات میں قیام کا ثواب شبِ قدر کے قیام کے برابر ہے۔(ترمذی، ابن ماجہ)اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی چار چیزیں ترک نہیں فرماتے تھے؛ ۝۱عاشورا کا روزہ۝۲ ذو الحجہ کے دس روزے۝۳ہر ماہ کے تین روزے اور۝۴ فجر سے قبل کی دو رکعت۔(سنن نسائی)

    عیدین میں روزے کی ممانعت

    ابوعبید (ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام) کہتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید الاضحی کی نماز میں شریک ہوئے۔ انھوں نےخطبے سے پہلے نماز پڑھی، پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو ! رسول اللہ ﷺ نے تم کو ان دونوں عیدوں کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؛ ان میں سے ایک تو روزوں سے افطار کا دن ہے (یعنی رمضان عید) اور دوسرا وہ دن ہے جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عیدِ قرباں)۔ (بخاری)

    عشرہ کیسے مکمل ہوگا؟

    علامہ تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں کہ عید الاضحی کے دن نمازِ عید پڑھنے تک امساک کرنا اور کچھ نہ کھانا مستحب ہے۔ پھر حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ یہ امساک ہر شخص کے لیے مسنون و مستحب ہے، خواہ وہ قربانی کر رہا ہو یا نہ کر رہا ہو، اور یہی اصح (زیادہ صحیح) ہے۔ پھر عید الاضحی کے دن نماز اور قربانی سے قبل کچھ نہ کھانے کا جو استحباب ہے اس کی حکمت بہ ظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس دن (جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دعوت کا عام دن ہے) سب سے پہلے قربانی ہی کا گوشت تناول کیا جائے، گویا ایک طرح سے اللہ کی ضیافت میں شرکت مقصود ہے۔ (درسِ ترمذی)اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ یہ تھوڑے سے وقت کا امساک بھی مستقل روزے کے درجے میں ہے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت پر عمل تب ہی ممکن ہے جب دس ذو الحجہ کی دسویں تاریخ کو بھی روزہ رکھا جائے اور اس تاریخ میں با قاعدہ صبحِ صادق سے مغرب تک روزہ رکھنا بالاتفاق ممنوع ہے۔ اب اگر دسویں تاریخ کی نمازِ عید تک امساک کو مستقل روزے کے درجے میں شمار کیا جائے تو دس کا عدد مکمل ہو جائے گا، ورنہ نہیں۔ (دیکھیے درسِ ترمذی)

    خلاصۂ تحریر

    اس روز سب اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں، اس لیے مستحب یہ ہے کہ اولاً ہر شخص دعوت یعنی قربانی سے کھائے۔ حقہ، پان، چائے وغیرہ کچھ اس سے پہلے نہ کھائے پیے۔ یہی حضور اکرم ﷺ کا معمول تھا۔ اور یہ حکم اصالۃً اس کے لیے ہے جو قربانی کرے۔ تاہم اگر ابتداء ً کوئی اور شے کھا لی، تب بھی گناہ نہیں ہوگا۔ صرف خلافِ اولیٰ ہوگا۔ بعض فقہا نے تبعاً اس حکم میں اس شخص کو بھی داخل کیا ہے جو قربانی نہیں کرتا (یعنی نہیں کر سکتا)۔ (دیکھیے فتاویٰ محمودیہ مخرج)

    (مضمون نگار الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا کے ڈیریکٹر ہیں)

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here