مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی

ندیم احمد انصاری عاملؔ

نوجوانوں کی صدا ہے وہ شکیبِؔ قاسمی
جس کے دل میںرات دن ہے سوز و سازِ قاسمی

مسکراہٹ اس کے رخ کی باقی رکھنا اے خدا
جس کے دل میںجاگزیں ہے فکرِ انورؔ، قاسمیؔ

اُس کے خوابوں کی زمیں ہموار کر دے جلد تو
کتنے، کیسوں کی دعا ہے وہ شکیبِ قاسمی

خواب ہے سفیانؔ کا سالمؔ کی بھی ہے وہ دعا
طیّب و قاسمؔ کا جزو ہےوہ شکیبِ قاسمی

تیرے کردار و عمل کی جاگتی تصویر ہے
پر شکوہ دارالعلومِ دیوبندی قاسمی

کام کرنا ہے غنیمت اس سے کس کو ہے فرار
کام لینا بھی ہنر ہے اے شکیب قاسمی

دل نہیں سیراب ہوتا، تیری فکریں دیکھ کر
قاسمیت ہے سراپا اے شکیبِ قاسمی

دی قلم میں بھی توانائی مِرے رب نے تجھے
ہے خطابت تو وراثت اے شکیبِ قاسمی

دایرے تیرے رخِ پُر نور پر گو پڑ گئے
ہوگی روشن یہ سیاہی روزِ محشر قاسمی

کر رہا ہوں میں ثنا خوانی تو بس یہ سوچ کر
قدرتِ رب کا تو مظہر ہے شکیبِ قاسمی

علم و عرفاں تیرا زیور، خوش مزاجی بھی تری
ہو گیا عاملؔ تو قایل اے شکیبِ قاسمی

‎20 محرم 1441ھ، 20 ستمبر 2019ء، بعد نمازِ جمعہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here