Home Darul Ifta بیٹی کے لیے رکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ

بیٹی کے لیے رکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ

بیٹی کے لیے رکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ

سوال:السلام علیکم! استادجی! میری ساس کے پاس سونا ہے، لیکن وہ انھوں نے اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کی شادی کے لیے آدھا آدھا دینے کی نیت سے رکھ دیا ہے، تو پھر اس کی زکوٰۃکس پر فرض ہوگی؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! والدین اکثر اپنی بیٹی کے لیے زیور بنوا کر رکھتے ہیں، اگر وہ زیور لڑکی کی مِلک کردیاہے تو اُس پر زکوٰۃ بلوغ سے پہلے فرض نہیں ہے، نہ لڑکی پر نہ والدین پر، بالغ ہونے کے بعد خود لڑکی پرفرض ہوگی۔ اگر لڑکی کی مِلک نہیں کیا تو جس کی مِلک ہے اُس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔[دیکھیے محمودالفتاویٰ مبوب]
’فتاویٰ دارالعلوم کراچی‘ میں ہے:آپ کے پاس لڑکی کا جو جہیز ہے اگرلڑ کی کی شادی ابھی نہیں ہوئی ہے اور جہیز کا سامان آپ نے ابھی تک اُس کو نہیں دیا ہے تو وہ آپ کی ملکیت ہے، پس اس جہیز میں اگر سونا چاندی کا زیور اتنا ہے کہ اس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے تو آپ کے صاحبِ نصاب ہونے اور زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے وہی کافی ہے ، آپ اُس کی بھی زکوٰۃ ادا کریں اور جو نقد آپ نے جمع کیے ہیں اس کی بھی زکوٰۃ ادا کریں۔ اور اگر جہیز میں سونا چاندی بالکل نہیں ، تب بھی نقد روپے جو آپ کے پاس ہیں اگر وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم نہیں ہیں تب بھی آپ پر زکوٰۃ واجب ہے۔
’فتاویٰ دارالعلوم کراچی‘ ہی میں ہے:اپنے نابالغ لڑکوں یا لڑکیوں کے واسطے جو روپے یا زیورات یا کوئی اور مال الگ کر کے رکھا ہے تو اگر ان بچّوں کو بتا دیا ہے کہ میں نے تمھارا کر دیا ہے (اگر چہ اپنے ہی قبضے میں ہے) تب تو مالک وہ بچّے ہو گئے، اور اس مال پر زکوٰۃ واجب نہیں، اور اگر ان بچوں کو نہیں بتایا صرف دل میں نیت ( ہبہ کی) کی تھی تو وہ مال بچوں کی ملکیت میں نہیں آیا بلکہ حسبِ سابق باپ ہی کی ملکیت میں ہے اور اس پر زکوٰۃ بھی واجب ہے۔ فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here