Home Darul Ifta تراویح پڑھانے والے کو ہدیہ بھی نہیں دے سکتے، اس کی کیا...

تراویح پڑھانے والے کو ہدیہ بھی نہیں دے سکتے، اس کی کیا دلیل ہے؟

تراویح پڑھانے والے کو ہدیہ بھی نہیں دے سکتے، اس کی کیا دلیل ہے؟

سوال: حضرت مفتی ندیم احمد دامت برکاتہم! تراویح پڑھانے والے کو جو کچھ دیا جاتا ہے وہ تو لوگ اپنی خوشی سے دیتے ہیں، کوئی پہلے نہ طے کرتا ہے نہ اس پر کوئی جبر کیا جاتا ہے۔ ہدیہ تو کوئی بھی کسی کو بھی دے سکتا ہے، پھر اسے ناجائز کہنے کی کیا وجہ اور کیا دلیل ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن نعمان بن مقرن کے یہاں مہمان تھا، رمضان کا مہینہ آیا تو ایک آدمی ان کے پاس حضرت مصعب بن زبیرؓکی طرف سے دو ہزار درہم لے کر آیا اور کہا: امیر آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر قابلِ احترام قاری کو اپنی طرف سے یہ ہدیہ دیا ہے، آپ اس مہینے میں اپنی ضروریات ان پیسوں سے پوری کیجیے۔ حضرت عمرو نے فرمایا: امیر کو ہماری طرف سے سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ اللہ کی قسم! ہم نے قرآن کو دنیا حاصل کرنے کے لیے نہیں پڑھا ہے، یہ کہہ کر وہ رقم اسے واپس کردی۔ [مصنف ابن ابی شیبہ: 7821]حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن معقلؒنے لوگوں کو رمضان میں تراویح پڑھائی، عیدا لفطر کے دن عبید اللہ بن زیاد نے ان کی طرف ایک جوڑا اور پانچ سو درہم بھیجے، انھوں نے یہ چیزیں واپس کردیں اور فرمایا: ہم قرآن پر اجرت نہیں لیتے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ:7822] فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here