تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا فتویٰ
سوال:مفتی ندیم احمد صاحب! تراویح پڑھانے والا تو للہ ہی پڑھتا ہے، کوئی بھی پہلے سے معاوضہ یا اجرت طے نہیں کرتا کہ اتنا اتنا لوںگا، بعد میں اگر کوئی کچھ ہدیۃً پیش کرے تو اس میں ممانعت کی کیا وجہ ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حکیم الامتحضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں:بعض حفاظ کی عادت ہے کہ اجرت لے کر قرآن مجید سناتے ہیں۔ طاعت پر اجرت لینا حرام ہے،اسی طرح دینا بھی حرام ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے پہلے سے مقرر نہیں کیا، اس لیے یہ معاوضہ نہیں ہوا، جواب یہ ہے کہ گو پہلے سے نہیں ٹھہرایا، نیت تو دونوں کی یہی ہے، اور نیت بھی مرتبۂ خطرہ و خیال میں نہیںبلکہ مرتبۂ عزم میں، اگر کسی طور سے یہ معلوم ہو جائے کہ یہاں کچھ وصول نہ ہوگا تو ہر گز ہرگز وہاں پڑھیں ہی نہیں اور فقہ کا قاعدہ ہے کہ معروف مثل مشروط کے ہے۔ جب اس کا رواج ہو گیا اور دونوں کی نیت یہی ہے تو بلاشک وہ معاوضہ ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ صاحب! بلااجرت پڑھنے والا تو ہم کو ملتا نہیں اور اجرت دے کر سننا جائز نہیں تو پھر قرآن کیوںکر سنیں؟ جواب یہ ہے کہ پورا قرآن سننا فرض نہیں، ایک امرِ مستحب کے لیے مرتکب حرام کا ہونا ہرگز جائز نہیں۔ ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ﴾سے تراویح پڑھ لو، ایسی حالت میں قرآن مجید کا ختم سننا ہی ضرور نہیں۔[اصلاح الرسوم] فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی





![روزے میں بام [Balm]یا وکس [Vicks]وغیرہ لگانا](https://afif.in/wp-content/uploads/2026/03/20-Roze-mein-Balm-ya-Vicks-lagana-100x70.jpg)
