Home Darul Ifta تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی...

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی سیدعبدالرحیم لاجپوریؒ کا فتویٰ

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی سیدعبدالرحیم لاجپوریؒ کا فتویٰ

سوال:مفتی ندیم احمد صاحب! جب فرض نمازوں کے امام کی تنخواہ جائز ہے تو تراویح کے امام کو کچھ لینا دینا کیوں جائز نہیں؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حضرت مفتی سید عبدالرحیم لاجپوریؒ تحریر فرماتے ہیں :یہ اشکال نہ ہونا چاہیے کہ مسجد کا مقرر امام بھی امام ہے اور تراویح کے لیے جو حافظ مقرر کیا گیا ہے وہ بھی امامِ تراویح ہے، تو مقررہ امام کی تنخواہ کیوں جائز اور امامِ تراویح کی اجرت کس بنا پر نا جائز؟ اصل مذہب یہ ہے کہ طاعات پر اجرت لینا دینا جائز نہیں ، مگر فقہا نے بقاےدین کو ملحوظ رکھ کر تعلیمِ قرآن، امامت ، اذان وغیرہ چند چیزوں کو مستثنیٰ کیا ہے اور ان پر اجرت لینے دینے کے جواز کا فتویٰ دیا ہے ، تراویح مستثنیٰ چیزوں میں شامل نہیں، اس لیے اصل مذہب کی بنیاد پر تراویح پر اجرت لینا دینا ناجائز ہی رہے گا، نیز تراویح کی ادایگی ختمِ قرآن پر موقوف نہیں ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ﴾ سے بھی پڑھی جاسکتی ہے اس لیے اس میں ضیاعِ دین بھی نہیں؛ لہٰذا تراویح کی قراءت مثلِ تلاوت مجردہ ہے، جس پر اجرت لینا نا جائز ہے۔[فتاویٰ رحیمیہ، ترتیبِ صالح] فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here