Home Darul Ifta تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا...

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا سید زوال حسین نقشبندیؒ کا فتویٰ

تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مولانا سید زوال حسین نقشبندیؒ کا فتویٰ

سوال:مفتی ندیم احمد صاحب! تراویح کا امام بھی دیگر فرائض کے امام کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ محنت کرتا ہے، تو پھر اس کا معاوضہ ناجائز کیوں ہے؟ اور اگر پہلے سے کچھ طے نہ کیا جائے تو کیا حکم ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:حضرت مولانا سید زوار حسین نقشبندیؒتحریر فرماتے ہیں :کسی شخص کو تراویح کی جماعت گھر یا مسجد میں پڑھانے کے لیے اجرت دے کر مقرر کرنا مکروہ (تحریمی) ہے، اس لیے کہ (تراویح کا) امام اجرت پر مقرر کرنا جائز نہیں ہے، اور لینے والا اور دینے والا دونوں گنہ گار ہیں، اجرت صرف یہی نہیں کہ پیش تر مقرر کر لیں کہ یہ کچھ دیںگے، بلکہ اگر معلوم ہو کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو، یہ بھی درست نہیں ہے۔ ۔۔پس جو کچھ حسبِ رواجِ عرف دیتے ہیں اور حافظ بھی لینے کے خیال سے پڑھتا ہے، اگرچہ زبان سے کچھ نہیں کہتا، تو درست نہیں ہے، اور اسی پر فتویٰ ہے۔[عمدۃ الفقہ] فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here