ماہِ شعبان ‘ جس سے لوگ غافل ہوتے ہیں

مولانا ندیم احمد انصاری

’شعبان ‘ اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے، یوں تو یہ پورا ہی مہینہ نفلی روزوںاورنفلی عبادات کے لیے متبرک اور فضیلت والاہے ، اس لیے کہ سرورِکائناتﷺ اس ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے، جیساکہ احادیث میں مروی ہے،اس کے علاوہ اس ماہ میں ایک مبارک و محمود رات ہے جسے ’شبِ براء ت‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

ماہِ شعبان کی اہمیت

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے آپ کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی مہینے میں (نفلی)روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ! آپﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ماہِ شعبان ، رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے ، جس سے لوگ غافل ہوتے ہیں، جب کہ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ میں یہ پسند کرتاہوں کہ جب میرے اعمال(اللہ کے حضورپیش)ہوں تو میںروزہ دار ہوں۔[نسائی ]

رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،رسول اللہﷺ سے پوچھا گیاکہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ کون ساہے ؟ آپﷺنے ارشاد فرمایا: شعبان کاروزہ، رمضان کی تعظیم کے لیے۔[ترمذی]اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیںکہ میں نے حضور اقدسﷺکو (رمضان کے علاوہ) شعبان سے زیادہ کسی ماہ میںنفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ شعبان کے اکثر حصّےمیں آپ روزے رکھتے تھے، بلکہ (قریب قریب )تمام مہینے کے روزے رکھتے تھے۔[بخاری ، مسلم] یہ ترقی کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کاتمام ماہِ شعبان کے روزوں کاذکر صاف بتلاتاہے کہ اس سے مبالغہ مقصود ہے۔ [خصائل نبوی]

شب براء ت

شب براء ت اسلام میں ایک مبارک رات ہے،جس کی فضیلت بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔’شب ِ براءت‘دولفظوں سے مرکب ہے؛(۱)شب اور (۲)برا ء ت۔’شب‘ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے ’رات‘ اور براء ت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے ’چھٹکارا‘۔ [اللغات الکشوری، والقاموس الوحید ]حدیث کے مطابق چوں کہ اس رات میں بے شمار گنہگار وں کی مغفرت اور مجرموں کی بخشش ہوتی ہے اور عذابِ جہنم سے چھٹکارا اور نجات ملتی ہے، اس لیے عُرف میں اس رات کا نام ’ شبِ براء ت‘ مشہور ہوگیا البتہ! حدیث شریف میں اس رات کا کوئی مخصوص نام نہیںآیا، بلکہ لیلۃ النصف من شعبان یعنی شعبان کی درمیانی شب کہہ کر اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ [الفضائل والاحکام للشہور والایام ]

شبِ براء ت اور قرآنِ حکیم

اللہ سبحانہ وتقدس کا ارشاد ہے: حٰمٓ، وَالْکِتَاب الْمُبِیْنِ، إنَّا أنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ، فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ أمْرٍحَکِیْمٍ، أمْراًمِنْ عِنْدِنَا إنَّاکُنَّا مُرْسَلِیْنَ۔ [الدخان:۵-۱]ترجمہ :قسم ہے اس کتابِ واضح کی ۔ہم نے اس کو اتاراایک برکت والی رات میں ، ہم ہیں کہہ سنانے والے۔ اسی میںجداہوتاہے ، ہرکام جانچاہوا حکم ہو کر ہمارے پاس سے ۔ ہم ہیں بھیجنے والے۔ [ازحضرت مولانا محمود الحسن ؒ ]

خلاصہ تفسیر

حٰمٓ(اس کے معنی اللہ ہی کومعلوم ہیں)، قسم ہے اس کتابِ واضح (یعنی قرآن )کی کہ ہم نے اس کو (لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر) ایک برکت والی رات (یعنی شبِ قدر) میں اتارا ہے، (کیوں کہ) ہم (بہ وجہ شفقت کے اپنے ارادے میں بندوں کو) آگاہ کرنے والے تھے۔ (یعنی ہم کو یہ منظور ہوا کہ ان کو مضرتوں سے بچانے کے لیے خیروشر پر مطلع کردیں۔ یہ قرآن کو نازل کرنے کا مقصد تھا۔ آگے اس شب کے برکات ومنا فع کابیان ہے کہ) اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم (صادر) ہو کر طے کیا جاتا ہے (یعنی سال بھر کے معاملات جو سارے کے سارے ہی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں، جس طرح انجام دینے اللہ کو منظور ہوتے ہیں، اس طریقے کو متعین کرکے ان کی اطلاع متعلقہ فرشتوں کو کرکے ان کے سپر د کردیے جاتے ہیں،چوں کہ وہ رات ایسی ہے، اور نزولِ قرآن سب سے زیادہ حکمت والاکام تھا، اس کے لیے بھی یہی رات منتخب کی گئی۔[معارف القرآن]

مختلف اقوال میں تطبیق

’لیلۃ مبارکۃ‘سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شبِ قدر ہے، جو رمضان المبارک میں ہے اور سورۂ قدر میں اس کی تصریح ہے۔[گلدستۂ تفاسیر،درس ترمذی] معلوم ہوا کہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس رات (جس کا مذکورہ آیتوں میں بیان ہوا)شبِ قدر ہی ہے البتہ عکرمہ ؒ اور مفسرین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ لیلۃ مبارکۃسے مراد’ شب براء ت‘ ہے ، جیسا کہ فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْم سے معلوم ہوتاہے، چناں چہ اس تفسیر پر اس آیت سے ماہِ شعبان کی پندرھویں رات کی خصوصیت سے بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ان اقوال کی تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہاں نزولِ قرآنی سے مراد حقیقۃً نزولِ قرآنی نہیں، بلکہ نزول کا فیصلہ مرادہے کہ ا س مبارک رات میںہم نے قرآن کو نازل کرنے کا فیصلہ کردیا تھا، پھر نزولِ حقیقی شبِ قدر میں ہوا۔شبِ براء ت میں امورِ محکمہ کے فیصلے ہوا کرتے ہیں، اس لیے ظاہرہے کہ شبِ براء ت میں اس کا بھی فیصلہ کیاگیا ہوگا، کیوں کہ قرآن شریف کے نازل کرنے سے بڑا امرِ محکم اور کون سا ہو سکتاہے ؟ یعنی شبِ براء ت میں حکم ہواکہ اس دفعہ رمضان میں جو شبِ قدر آئے گی اس میں قرآن نازل کیا جائے گا، پھر شبِ قدر میں اس کا وقوع ہوگیا، کیوں کہ عادۃً ہر فیصلے کے دو مرتبے ہوتے ہیں ، ایک تجویز، دوسرا انفاذ۔یہاں بھی دومرتبے ہو سکتے ہیں کہ تجویز تو شبِ براء ت میں ہوئی اور نفاذ لیلۃ القدر میں ہوا۔[بیان القرآن، اشرف التفاسیر]

یومِ شک کا روزہ

یومِ شک سے مراد تیس شعبان ہے ۔حضرت ابو ہریرہؓروایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھے،البتہ اگر کسی کو ان دنوں میں روزہ رکھنے کا معمول ہوتو وہ شخص روزہ رکھ سکتا ہے۔[بخاری، مسلم]

چاند کی تلاش

شعبان کے دنوں کا حساب رکھنا بھی شرعاً ضروری ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : رمضان کے لیے شعبان کے چاند کے دن گنتے رہو۔[ترمذی ]اسی لیے ماہِ شعبان کی۲۹؍ تاریخ کو غروبِ آفتاب کے وقت رمضان المبارک کا چاند دیکھنا یعنی دیکھنے کی کوشش کرنا اور مطلع پر تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ شعبان کی ۲۹؍ تاریخ کو رمضان المبارک کا چاند نظر آجائے تو اگلے دن سے رمضان کا روزہ رکھا جاسکے ،لیکن اگراس دن چاند نظر نہ آئے جب کہ مطلع صاف ہو، تو صبح کو روزہ نہیں رکھا جائے گا، ہاںاگر مطلع پر ابر یا غبار تھا تو اگلے روز صبح کو دس گیارہ بجے تک کچھ کھانا پینا نہیں چاہیے اور اگر تب تک کہیں سے چاند نظر آنے کی خبر معتبر طریقے سے آجائے تو روزے کی نیت کرلی جائے، ورنہ کھا پی سکتے ہیں۔ لیکن ۲۹؍ شعبان کو چاند نظر نہ آنے کی صورت میںاگلی صبح کے روزے کی اس طرح نیت کرنا کہ چاند ہوگیا تو رمضان کا روزہ ورنہ نفل، یہ طریقہ مکروہ ہے۔[عالمگیری:۱؍۱۹۷] رسول اللہ حضرت محمد ﷺ کا ارشادِگرامی ہے :چاند دیکھ کر روزے رکھنے کا آغاز کرو اور چاند دیکھ کر روزے رکھنا موقوف کرو، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو اور چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔[نسائی]

مضمون نگار الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا کے محقق اور ڈیرکٹر ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here