Home Darul Ifta میکے اور سسرال کے زیور پر زکوٰۃ

میکے اور سسرال کے زیور پر زکوٰۃ

میکے اور سسرال کے زیور پر زکوٰۃ

سوال: حضرت مفتی ندیم صاحب زیداحترامہ! جب شادی ہوتی ہے تو عورت کو کچھ زیور اس کے میکے کی طرف سے اور کچھ سسرال کی طرف سے ملا کرتا ہے، کچھ کا تو اسے مالک بنا دیا جاتا ہے اور کچھ صرف پہننے کے لیے دیا جاتا ہے، اس پر زکوٰۃ کس طرح اور کس پر واجب ہوگی؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:عورت کو میکے سے جو زیور (بہ طور بخشش) ملا اس کی زکوٰۃ خود عورت پر فرض ہے اور جو سسرال کی طرف سے ملا اگر وہ عورت کی ملکیت کر دیا گیا تھا تو عورت پر فرض ہے، ورنہ اس کے شوہر پر (یا جو اس کا مالک ہو اس پر)۔[دیکھیے فتاویٰ عثمانی] عورت کو جو سونا یا سونے کے زیورات بہ طور بخشش یا مہر کے بدلے میں ملتے ہیں ان کی وہ مالک ہے اور زکوٰۃ اسی پر واجب ہوگی ، اور اگر زیورات عاریۃً (یعنی صرف پہننے کے لیے) دیے گئے ہیں تو ان کا مالک دینے والا ہے، جس کو دیا گیا ہے وہ مالک نہیں ہے، اور جو مالک ہوتا ہے زکوٰۃ ادا کرنے کا ذمّے دار وہی ہوتا ہے بہ شرط یہ کہ وہ صاحبِ نصاب ہو۔ ماں باپ کی طرف سے جو زیورات ملے ہیں ظاہر یہ ہے کہ وہ بہ طور بخشش ہیں، اس لیے ان زیورات کی مالک عورت ہوگی ، اگر صاحبِ نصاب ہے تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔[دیکھیے فتاویٰ رحیمیہ]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here