غفران ساجد قاسمی
(چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
عروس البلاد ممبئی کی شناخت فنونِ لطیفہ اور معاشی راجدھانی کی ہے۔ شہر ممبئی کا تصور ذہن میں آتے ہی فلمی چکا چوندھ اور معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے کوشاں افراد کی بھاگ دوڑ نظروں کے سامنے جھلملانے لگتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ممبئی شہر کا تعلق بزرگانِ دین سے بھی ہے اور اس کی اپنی مستقل تاریخ ہے۔ ان ظاہری خصوصیات کے علاوہ ہر دور میں ممبئی شہر میں ایسے اربابِ فکرونظر اور اہلِ علم وقلم نے بودوباش اختیار کی ہے جن کی موجودگی نے ممبئی کی علمی شناخت بنائی اور فنونِ لطیفہ اور معیشت و اقتصادیات کے علاوہ ممبئی کی پورے ملک میں ایک علمی شناخت پیدا کرنے میں مددکی۔ ایسے اربابِ فکر و نظر اور اہلِ علم و قلم کی ایک طویل فہرست ہے جو احبابِ علم و فن کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ماضی بعید میں ایسے اربابِ علم میں ایک بڑا اور نمایاں نام قطبِ کوکن حضرت مخدوم مہائمی کا ہے اور ماضی قریب میں جامع مسجد ممبئی کے صاحبِ نسبت بزرگ امام حضرت مولانا شوکت علی رحمۃ اللہ علیہ اور مشہور صاحبِ قلم حضرت مولانا قاضی اطہر مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ کا نام بڑے فخر سے لیا جا سکتا ہے۔
الحمد للہ ان حضرات کے دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ قائم و دائم ہے اور اب بھی اربابِ فکر و نظر اور اہلِ علم و قلم کی بڑی تعداد عروس البلاد ممبئی میں فروکش ہے اور اپنے علمی کارناموں سے ممبئی کا نام پورے ملک میں روشن کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ ان میں ایک نمایاں نام رفیقِ مکرم مخلص و محترم جناب مولانا مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری حفظہ اللہ کا ہے۔ مفتی ندیم احمد انصاری کا نام اہلِ علم اور اربابِ قلم کے درمیان کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے، وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ مضامین اور کتابیں لکھ چکے ہیں اور یہ سلسلہ مستقل بلا تعب و تھکن جاری و ساری ہے، اور ان شاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اللہ نے مفتی ندیم احمد انصاری کو لکھنے کا زبردست ملکہ عطا فرمایا ہے، ان کا قلم بہت ہی سیال ہے، زود نویس ہیں، بنیادی طور پر تو وہ دینی و مذہبی موضوعات پر لکھتے ہیں، لیکن حالاتِ حاضرہ پر بھی ان کا قلم اسی رفتار سے چلتا ہے۔ فکر بہت عالی ہے، تخیل بلند ہے، مطالعے میں وسعت و گہرائی کی وجہ سے مضامین میں ندرت ہوتی ہے، قلم میں بہت روانی ہے، زبان بہت ہی آسان اور سلیس استعمال کرتے ہیں، زبان اتنی شستہ و شگفتہ ہوتی ہے کہ ہر طبقے کے قاری کے لیے آسان ہوتی ہے، زبان کی سادگی اور جملوں میں برجستگی قاری کو اپنی جانب کھینچتی چلی جاتی ہے، قاری پڑھنے میں کسی قسم کی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا ہے، اور یہ مفتی ندیم احمد انصاری صاحب کی تحریروں کی بڑی خوبی ہے۔
مفتی ندیم احمد انصاری صاحب کاتعلق اترپردیش کے ایک علمی شہر بجنور سے ہے، لیکن اب وہ ممبئی کے ہی ہو کر رہ گئے ہیں اور چند سالوں سے ممبئی کے مضافات نالاسوپارہ میں مقیم ہیں۔ اپنی عمرسےزیادہ کتابیں تصنیف کرچکے ہیں،ان کے کارناموں کودیکھنے سے یہ اندازہ لگانامشکل ہوتاہے کہ اتنی کم عمر میں اتنابڑاکارنامہ کیسے انجام دیا جا سکتا ہے؟ بس یہی کہاجاسکتاہے کہ یہ سب منجانب اللہ ہے،اللہ نےان کے اوقات میں بڑی برکت رکھی ہے۔مطبوعہ کتابوں کی تعدادتو۵۰؍ہے لیکن انٹرنیٹ پرچھوٹی بڑی کتابوں کی کل تعداد سوا سو سے متجاوز ہے۔ اتنی کم عمری میں اتنا بڑا کارنامہ محض فضلِ خداوندی ہی ہے۔
اللہ نے مفتی ندیم احمد انصاری صاحب کو ہمہ جہت صلاحیتوں اورگوناگوں خوبیوں سے مزین کیا ہے، وہ بیک وقت عالمِ دین بھی ہیں، عصری تعلیم میں بھی انھوں نے گریجویشن اورپوسٹ گریجویشن بلکہ پی ایچ ڈی تک کی تعلیم حاصل کی ہے۔ دینی تعلیم کے لیے انھوں نے ڈابھیل، گجرات میں رہ کر استفادہ کیا ہے۔ مفتی ندیم احمد انصاری کو ہندوستان کے معروف صاحبِ نسبت بزرگ عالمِ دین اور فقہ وفتاویٰ میں مرجعِ علما، مفتیِ اعظم حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلیفہ، مصلحِ امت حضرت مولانا مفتی احمد خان پوری دامت برکاتہم کی صحبتِ خاص حاصل ہے اور اُنھی کے دست گرفتہ ہیں، اور اجازتِ بیعت کا بھی شرف حاصل ہے۔
مفتی ندیم احمد انصاری کا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے ہے جن کے یہاں دینی و عصری دونوں تعلیم کی یکساں اہمیت ہے اور وہ ہر اس علم کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں جو علمِ نافع ہو۔ ایسا نفع بخش علم جو ایک طرف اللہ اوراس کے رسول تک پہنچا دے تو دوسری جانب اس علم سے خلقِ خدا کو فائدہ پہنچ سکے۔ الحمد للہ مفتی ندیم احمد انصاری صاحب دونوں ہی علوم کے حسین سنگم ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب وہ لکھتے ہیں تو جہاں ایک جانب ان کی تحریر میں معرفتِ خداوندی اور معرفتِ نبوی کی جھلک نمایاں ہوتی ہے تو وہیں عصرِ حاضر اور حالاتِ حاضرہ کی بھی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔
مفتی ندیم احمد انصاری کی ابتدائی تعلیم اسکول سے ہوئی، پھر وہ مدرسے کی جانب متوجہ ہوئے اور ڈابھیل میں حضرت مفتی احمد خان پوری دامت برکاتہم کی خصوصی تربیت میں رہ کر اور متداول کتابیں پڑھ کر علومِ دینیہ میں کمال حاصل کیا۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے محدث حضرت مولانا محمد اسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی خصوصی استفادہ کیا اور اجازت و سندِ حدیث حاصل کی۔ حضرت خانپوری مدظلہ کی نگرانی میں متعدد فقہی تحقیقی کارنامے انجام دے رہے ہیں، اور ان سے افتا کی سند بھی حاصل ہے۔ علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد ایک بار پھر کالج کارخ کیا اور رضوی کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے پوسٹ گریجویشن اور ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم سے رسمی فراغت کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوئے اور 2017 سے 2019 تک جوگیشوری میں واقع اسماعیل یوسف کالج کے شعبۂ اردو میں لیکچرر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ آن لائن کلاسیس بھی کرتے رہتے ہیں۔ جب 2023 میں ہم نے بصیرت جرنلزم اینڈ لینگویج اکیڈمی قائم کی تو آپ سے فنِ صحافت پڑھانے کی درخواست کی، جسے آپ نے بصد خوشی قبول کیا اور اکیڈمی کے طلبہ کو ہفتے میں ایک دن فنِ صحافت کے مختلف عناوین پر لیکچر دیا، جس میں تاریخِ صحافت، مبادیاتِ صحافت، ترجمہ نگاری وغیرہ شامل تھا۔
مفتی ندیم احمد انصاری کی گوناگوں خوبیوں میں ایک بڑی اور نمایاں خوبی وقت کی تنظیم اور اس کا بہترین استعمال ہے۔ کم گو ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر خوب بولتے ہیں، لیکن جو بھی بولتے ہیں خوب ناپ تول کر بولتے ہیں، اس لیے ان کی باتیں ضائع نہیں جاتی ہیں اور اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کے وقت کی تنظیم کی برکت ہے کہ اپنی عمر سے زیادہ کتابیں تصنیف کر چکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ انٹرنیٹ پر چھوٹی بڑی تقریباً سواسو کتابیں ان کے وقت کی برکت پر دال ہیں۔ اس کے علاوہ پچاس کتابیں مطبوعہ ہیں، جو مذہبیات،تصوف وسلوک،صحافت و ذرائع ابلاغ اور اردو زبان و ادب سے متعلق ہیں۔ یقیناً کم عمری میں اتنا بڑا کارنامہ صرف فضلِ خداوندی ہی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
مفتی ندیم احمد انصاری کی تصنیفات اور مختلف موضوعات پر مضامین کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ماہرِ فن نہیں بلکہ ماہر فنون ہیں، ایسی ہمہ جہت اور مختلف النوع صلاحیتوں کے حامل افراد بہت خال خال نظر آتے ہیں۔ لیکن مفتی ندیم احمد انصاری گوناگوں خوبیوں اور صلاحیتوں کے حامل مجموعۂ کمالات شخصیت ہیں، جو اپنا فیض جاری کیے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا ہی کمال ہے کہ ان کی تصانیف میں جہاں ایک طرف دین و مذہب کے عنوان پر کتابیں ہیں، وہیں تصوف جیسے خالص خشک موضوع پر بھی ان کے قلم کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اسی طرح صحافت اور اردو زبان و ادب پر بھی انھوں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں، نیز مختلف موضوعات پر ملک کے اخبارات میں ان کے مضامین ہمیشہ شائع ہوتے رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے مضامین کی تعداد دوہزار سے متجاوز ہوگئی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی گذشتہ 2019 سے ممبئی کے معروف اردو روزنامہ ’ممبئی اردو نیوز‘ میں ہرجمعے کو پابندی سے ’دین و دنیا‘ کے عنوان سے ان کا کالم شائع ہوتا ہے جسے عام قاری بلکہ خواص بھی شوق و ذوق سے پڑھتے ہیں جوکہ ان کے قلم کی مقبولیت کی علامت ہے۔
مفتی ندیم احمد انصاری صاحب الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے نام سے ایک رجسٹرڈ ادارہ چلاتے ہیں، جس کی جانب سے سبھی اسلامی مواقع پر معلوماتی تحریریں، دعائیں اور ان کے یوٹیوب چینل کی لنک وغیرہ پابندی سے سوشل میڈیا پر نشر کرتے رہتے ہیں، یہ سلسلہ بھی عامۃ المسلمین کے ساتھ خواص کے لیے بہت کار آمد ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسی فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ایک دارالافتاء بھی چلاتے ہیں جہاں سے امتِ مسلمہ کی دینی و شرعی رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں۔ مفتی صاحب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ بہت گمنامی میں زندگی گزارنے کے عادی ہیں، شور و ہنگامہ اور نام و نمود سے دور رہ کر گوشۂ عافیت میں اپنے کام سے کام رکھنے کے اہم اصول پر عمل پیرا رہنا پسند کرتے ہیں۔ اپنے شیخ و مرشد حضرت مفتی احمد خان پوری دامت برکاتہم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان ہی کے انداز کی خاص ٹوپی اور لباس زیبِ تن کرنا پسند کرتے ہیں۔ ابھی عمر کی زیادہ بہاریں نہیں دیکھی ہیں لیکن رہن سہن اور چال ڈھال بالکل بزرگوں والی ہے۔ مفتی صاحب کو اللہ والوں سے بے پناہ محبت و عقیدت ہے جس کی جھلک ان کی زندگی میں مکمل طور پر نظر آتی ہے۔ اتنی کم عمری میں اتنی بزرگی اور تقویٰ و طہارت والی زندگی بہت کم لوگوں کو گزارتے دیکھا ہے۔ میں یہ باتیں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ میں نے انھیں بہت قریب سے دیکھا ہے اور الحمد للہ پرکھا بھی ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر نوجوانوں میں اسلاف کا نمونہ دیکھنا ہو تو وہ مفتی ندیم احمد انصاری کو دیکھ لیں۔ اللہ مفتی ندیم احمد انصاری صاحب کو شروروفتن سے محفوظ رکھے،اور ان کے علوم سے امتِ مسلمہ کو نفع پہونچائے، آمین۔






