شوگر کے مریض کے لیے روزہ
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب دامت برکاتہم! شوگر کا مریض روزہ کس طرح رکھے؟ یا اگر وہ روزہ رکھ لے اور بعد میں مرض شدت اختیار کر لے تو کیا حکم ہوگا؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:شوگر [Sugar] یا ڈائبٹیز [Diabites]کے مریض کو چاہیے کہ رمضان المبارک سے قبل مسلمان ماہر ڈاکٹر سے مل کر اپنی صحت سے متعلق مشورہ کر لے، خوراک تناسب کے ساتھ اور دوائیاں باقاعدگی سے استعمال کرے، اس کے باوجود اگر روزہ رکھنا ممکن نہ ہو تو صحت حاصل ہونے کے بعد ان کی قضا کرے، اگر صحت کے امکانات نہ ہوں تو روزوں کا فدیہ ادا کرے۔
’فتاویٰ دارالعلوم دیوبند‘ سے ایک سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں:
سوال:زید کئی سال سے مرضِ ذیابطیس میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے کم زوری و نقاہت روزافزوں ہے اور بہ وجہِ غلیان تشنگی جو اس مرض میں بہ شدت ہوا کرتی ہے روزہ رکھنا دشوار ہے، خصوصاً سخت گرمی کے موسم میں،اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
الجواب:ایسے مریض پر کہ وہ روزہ نہ رکھ سکے بہ وجہِ ضعف و مرض کے رمضان شریف میںافطار کرنا یعنی روزہ نہ رکھنا درست ہے لیکن جب تک توقع صحت کی ہو فدیہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ صحت کے بعد قضا لازم ہے، پھر اگر صحت کی امید نہ رہے اور مرض کا ازالہ نہ ہو تو ان روزوں کا فدیہ ادا کر دے، ہر ایک روزے کا فدیہ مثل صدقۂ فطر کے ادا کرے۔[دیکھیے فتاویٰ دارالعلوم]
نیز ’حوادث الفتاویٰ‘ میں ہے:اگر کوئی شوگر کا مریض ایسی دوا لیتا ہے جو روزے کے دوران میں لینی ناگزیر ہو، تو وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے اور بعد میں قضا کرے گا۔ شوگر کنٹرول کرنے والے سیرپ کا استعمال روزہ توڑ دیتا ہے ، جب کہ گولیاں کھانے کی ضرورت ہو تو روزہ چھوڑا جا سکتا ہے۔ اگر شوگر کم ہو جائے اور صحت کو نقصان کا خطرہ ہو تو روزہ توڑنا جائز ہوگا۔ اگر شوگر بہت زیادہ بڑھ جائے اور پانی یا دوالینا ضروری ہو تو بھی روزہ توڑا جا سکتا ہے۔ روزہ توڑنے کی صورت میں قضا کرنی ہوگی ۔[حوادث الفتاویٰ]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






