Home Darul Ifta تراویح میں ختمِ قرآن سنتِ مؤکدہ یا غیرمؤکدہ؟

تراویح میں ختمِ قرآن سنتِ مؤکدہ یا غیرمؤکدہ؟

 تراویح میں ختمِ قرآن سنتِ مؤکدہ یا غیرمؤکدہ؟

سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ!
کیا تراویح میں قرآن پاک ختم کرنا سنتِ مؤکدہ ہے؟ اگر ہاں تو اس کا کیا درجہ ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:متون میں تراویح میں ختمِ قرآن کا مطلق سنت ہونا مذکور ہے، سنتِ مؤکدہ یا غیر مؤکدہ کی صراحت نہیں ملتی، بعض کتابوں میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ لوگوں کی سُستی کے پیشِ نظر اسے ترک نہیں کیا جائےگا، اس تناظر میں سنتِ مؤکدہ سمجھا جا سکتا ہے، بعض نے اس سے کم کی اجازت بھی دی ہے، گو یہ قول اس قدر عام اور قوی نہیں، بہ ہر حال ختمِ قرآن کی تاکید نمازِ تراویح سے کم ہے۔ھذا ما ظھر لی، واللہ أعلم و علمہ أتم۔[تفصیل و دلائل کے لیے دیکھیے ہماری کتاب فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here