تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ لینا دینا: دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث علما کے نزدیک ناجائز ہے
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ!
تراویح سنانے والے حافظ کو کچھ دینے سے متعلق پہلے تو اکثر اکابر سے سنا اور پڑھا کہ یہ جائز نہیں، لیکن کچھ سالوں سے بعض لوگوں نے اس میں بڑی قیل و قال شروع کر دی ہے، بعض اسے نہ صرف جائز بلکہ مستحب تک کہنے لگے ہیں اور اس میں بڑی جذباتی دلیلیں دی جاتی ہیں، اگر کوئی غیرحافظ مفتی اس سے منع کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ چوںکہ تم خود حافظ نہیں، اس لیے ایسا کہتے ہو۔ اس سلسلے میں میں آپ کی رائے کیا ہے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: اس سلسلے میں ہماری رائے وہی ہے، جو اکابر کی ہے۔ تراویح میں ختمِ قرآن پر اجرت کے حرام ہونے پر جمہور علما کا اتفاق ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے نہایت اہتمام سے اس مسئلے پر تفصیلی فتویٰ ’معاوضہ علی التراویح کی شرعی حیثیت‘ کے عنوان سے طبع کروایا اور اپنی ویب سائٹ پر آویزاں کیا ہے۔ اسے www.afif.inسے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔نیز اس مسئلے میں بریلوی اور اہلِ حدیث علما بھی متفق ہیں،اس طرح یہ کسی خاص مکتبِ فکر کا مسئلہ نہیںرہ جاتا۔ جمہور علما کے صریح فتووں کے بعد طفلانِ مکتب کا اس مسئلے میں لب کشائی کرنا تمام اکابر فقہا کو منھ چڑھانا ہے، یہ نہایت افسوس کی بات اور قیامت کی علامت ہے۔
حضرت عمر بن خطابؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اسلام غالب آئےگا یہاں تک کہ تاجر سمندر میں سفر کریںگے اور گھوڑے اللہ کے راستے میں کود پڑیںگے، پھر ایسے لوگ پیدا ہوںگے جو قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے: ہم سے بڑھ کر بہترین قاری کون ہے؟ ہم سے زیادہ فقیہ کون ہے؟ہم سے بڑا عالم کون ہے؟پھر آپﷺ نے اپنے صحابہؓسے فرمایا:کیا ان میں کوئی خیر ہے؟انھوں نے عرض کیا: اللہ و اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں! آپﷺ نے فرمایا:وہ لوگ تم یعنی اس امت میںسے ہوںگے، اور وہ دوزخ کا ایندھن ہوںگے۔[طبرانی اوسط: 6242]
[اس مسئلے پر تمام اشکالات کے جوابات کے لیے دیکھیے ہماری کتاب فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






