ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
مدینہ منورہ کی زیارت کا سب سے بڑا مقصد حضرت نبی کریم ﷺ کے روضے پر حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کرنا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا﴾ اور ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لیے نہیں بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے، اور جب ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اگر یہ اس وقت تمھارے پاس آکر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو یہ اللہ کو بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان پاتے۔ [النساء] یہ آیت اگرچہ خاص واقعۂ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لیے دعائے مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائےگی، اور آںحضرتﷺ کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیوی حیات کے زمانے میں ہوسکتی تھی اسی طرح آج بھی روضۂ اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے۔[معارف القرآن]
ایک اعرابی کا واقعہ
حضرت علیؓنے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی وفات کے تین دن بعد ایک اعرابی آیا اور آپ کی قبرِ مبارک سے چمٹ گیا اور اپنے سر میں خاک ڈالنے اور کہنے لگا:اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تو ہم نے آپ کا فرمان سنا، آپ نے اللہ تعالیٰ سے اور ہم نے آپ سے بیان کیا، جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی تھیں ان میں یہ بھی ہے: ﴿وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا﴾ اور میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا کہ آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیںگے۔ قبر کے اندر سے آواز آئی: تجھے معاف کردیا گیا۔[کنزالعمال]
حضور ﷺکے انتقال کے بعد زیارت
حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے حج کیا اور میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کی، وہ ایسا ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔[سنن کبری بیہقی] ’دارقطنی‘ میں ہے:حضرت حاطبؓبیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے انتقال کے بعد میری زیارت کے لیے آئے، گویاوہ میری زندگی میں میری زیارت کے لیے آیا، اور جو شخص مکّے یا مدینے میں سے کسی جگہ فوت ہوجائے، وہ قیامت کے دن امن پانے والوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ’سننِ کبریٰ بیہقی‘ میں ہے:حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : جس نے میری قبر کی زیارت کی یا فرمایا : جس نے میری زیارت کی، میں اس کا سفارشی یا گواہ ہوںگا، اور جو حرمین میں سے کسی ایک میں فوت ہوگیا، قیامت کے دن اللہ اسے امن والوں میں اٹھائے گا۔[سنن کبریٰ بیہقی] حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری قبر کی زیارت کرےگا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائےگی۔[دارقطنی]
انبیا اپنی قبروں میں زندہ ہیں
حضور ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں جیسا کہ شُہدا زندہ ہیں، قرآن میں اس کی صراحت ہے اور آپ ﷺکا قولِ صحیح ہے: ’انبيا اپنی قبروں میں زندہ ہیں‘ اور آپ ﷺ نے ان کو زندہ اس لیے فرمایا کہ وہ شہدا کی طرح ہیں بلکہ ان سے افضل ہیں، اور شہدا اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے پاس زندہ ہونے کی قید لگانے سے معلوم ہوا کہ ان کی حیات ہمارے نزدیک ظاہر نہیں اور یہ فرشتوں کی حیات کی طرح ہے۔[الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ] حضرت ابوالدرداؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ پر جمعے کے روز کثرت سے درود پڑھا کرو کیوں کہ اس روز فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو بھی مجھ پر درود بھیجے فرشتے اس کا درود میرے سامنے لاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ درود سے فارغ ہو جائے۔ میں نے عرض کیا: آپ کے انتقال کے بعد بھی؟ آپﷺ نے فرمایا: انتقال کے بعد بھی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیا کےجسموں کو حرام کردیا ہے، اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور انھیں روزی دی جاتی ہے۔ [ابن ماجہ] حضرت اوس بن اوسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تمھارے بہتر دنوں میں سے ایک جمعےکا دن ہے، اسی دن آدمؑ پیدا ہوئے، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائےگا اوراسی دن سب لوگ بے ہوش ہوںگے، اس لیے اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیوں کہ تمھارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ لوگوں نے عرض کیا:اے اللہ کےرسول ﷺ! ہمارا درود آپ پر کس طرح پیش کیا جائےگا، جب کہ آپ کا جسم گل کر مٹی ہوجائےگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انبیا کے جسموں کو زمین پر حرام کر دیا ہے (یعنی زمین انبیا کے جسموں کو نہیں کھا سکتی)۔ [ابوداود]
قبرِ اطہر پر درود حضورخود سنتے ہیں
حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر میری قبر کے پاس آکر درود پڑھتا ہے میں اسے خود سنتا ہوں اور جو شخص دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے اسے مجھ تک پہنچادیا جاتا ہے۔[مشکوۃ] حضرت عمّار بن یاسرؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے نام سکھا دیے ہیں، وہ میری قبر پر کھڑا رہےگا-جب میرا انتقال ہو جائےگا-جب بھی کوئی بھی مجھ پر درود بھیجےگا تو وہ مجھے اس کا اور اس کے والد کا نام لے کر کہےگا: ’اے محمد ﷺ! فلاں ابنِ فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے‘۔ پس اللہ تعالیٰ اس آدمی پر ہر درود کے بدلے دس درود (رحمتیں) بھیجیں گے۔[مجمع الزوائد] حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبریں اور میری قبر کو عید مت بنانا، بلکہ مجھ پر درود بھیجنا، تم جہاں بھی ہوں گے وہیں سے تمھارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔[ابوداود] جمہور نے اس حدیث کے دو مطلب بیان فرمائے ہیں:(۱)عیدکی طرح زیارت کے لیے کوئی خاص تاریخ یا دن متعین نہ کیا جائے (۲)قبرِ مبارک پر عید کی طرح زیب و زینت کے ساتھ لہوولعب کے لیے اجتماع نہ کیا جائے بلکہ زیارت دعا اور سلام کے لیے حاضری دی جائے۔[احسن الفتاویٰ]
قبرِ اطہر کی زیارت کا ثبوت احادیث سے
حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہوںگے جو میرے بعد آئیںگے اور ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہوگی کہ اپنے اہلِ خانہ اور مال و دولت لُٹا کر بھی کسی طرح میری زیارت کا شرف حاصل کرلے۔[مشکوٰۃ] حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بالقصد میری زیارت کرےگا وہ قیامت کے دن میرا پڑوسی اور میری پناہ میں ہوگا، اور جس شخص نے مدینے میں سکونت اختیار کر کے اس کی سختیوں پر صبر کیا قیامت کے دن میں اس کی اطاعت کا گواہ بنوںگا اور اس کے گناہوں کی بخشش کے لیے شفاعت کروںگا، اور جو شخص حرمین میں سے کسی ایک میں مرےگا قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ امن والوں میں اٹھائےگا۔ [مشکوٰۃ] حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے حج کیا اور میرے انتقال کے بعد میری قبر کی زیارت کی، وہ ایسا ہے جیسے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ [سنن کبریٰ بیہقی] حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو حج کے ارادے سے مکّے چلا، پھر میری مسجد میں میری زیارت کا ارادہ کیا،اس کے لیے دو مقبول حج کا ثواب لکھا جاتا ہے۔[کنزالعمال] حضرت ابن عمروؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نےبیت اللہ کا حج کیا اور میری زیارت نہ کی، اس نے مجھ سے بےوفائی کی۔[کنزالعمال] حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ فرماتے ہیں: ان احادیث پر غور کیا جائے جو اس زیارت کی ترغیب میں مروی ہیں تو خواہ سند کے لحاظ سے ان پر کلام کیا جاسکے لیکن معنوی لحاظ سے وہ دین کے پورے فکری اور عملی نظام کے ساتھ بالکل مرتبط اور ہم آہنگ نظر آئیں گی اور ذہنِ سلیم اس پر مطمئن ہوجائے گا کہ قبرِمبارک کی یہ زیارت صاحبِ قبر کی ذاتِ اقدس کے ساتھ ایمانی تعلق اور محبت و توقیر میں اضافہ اور دینی ترقی کا خاص وسیلہ ہے۔ [معارف الحدیث]
قبرِ مبارک کی زیارت واجب کے قریب
علامہ شامیؒ فرماتے ہیں:حضرت نبی کریم ﷺکی قبرِ مبارک کی زیارت مندوب بلکہ استطاعت رکھنے والے کے لیے واجب ہے۔زيارة قبره مندوبة ، بل قيل واجبة لمن له سعة .[شامی] علامہ ظفر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں:احناف کے یہاں زیارتِ روضۂ اقدس کا حکم قریب بہ واجب ہے، جمہور کے نزدیک مستحب ہے اور بعض مالکیہ اور بعض ظاہریہ کے نزدیک واجب ہے اور ابنِ تیمیہؒزیارتِ قبرِ اطہر کو غیرمشروع کہتے ہیں۔[حاشیہ إعلاء السنن] الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:امتِ اسلامیہ کا ماضی سے حال تک سلفاً و خلفاً اجماع ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ کی زیارت مشروع ہےاور مذاہب میں جمہور علما اور اہلِ فتویٰ کی رائے ہے کہ یہ سنتِ مستحبہ ہے، اور محققین کی ایک جماعت نے کہا کہ یہ سنتِ موکدہ ہے جو درجۂ واجب کے قریب ہوتی ہے اور یہی حنفیہ کی ایک جماعت کے نزدیک مفتیٰ بہ ہے۔ علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں:جان لو کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی قبر شریف کی زیارت عظیم نیکیوں اور طاعات میں سے اور بلند درجات تک پہنچانے کا راستہ ہے۔[المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ]






