ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
مدینہ منورہ کی سرزمین کا ذرہ ذرہ عشقِ رسول ﷺ اور انوارِ الٰہی کا امین ہے۔ زائرِ مدینہ جب مسجدِ نبوی کی حاضری سے فیض یاب ہوتا ہے تو اس کے بعد اس کے شوقِ فراواں کی منزلیں وہ مقاماتِ مقدسہ ہوتے ہیں جہاں رحمتِ عالم ﷺ کے نقشِ قدم کی خوشبو رچی بسی ہے۔ ان مقامات میں ’جنت البقیع‘ اور ’مسجدِ قبا‘ کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔جنت البقیع محض ایک قبرستان نہیں، بلکہ قدسیوں کی وہ آخری آرام گاہ ہے جہاں دس ہزار سے زائد صحابۂ کرامؓ، ازواجِ مطہراتؓ، اہل بیتِ اطہارؓ اور بے شمار تابعینؒو صلحاے امت محوِ خواب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا اس بستی سے قلبی تعلق اس قدر گہرا تھا کہ آپ راتوں کو تنِ تنہا یہاں تشریف لاتے، ان کے لیے دعاےمغفرت فرماتے اور انھیں قیامت میں اپنی ہمراہی کی خوشخبری سناتے۔نیز ’مسجدِ قبا‘ وہ پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی اور جس کی تعمیر میں سید الانبیا ﷺ نے خود اپنے دستِ مبارک سے پتھر ڈھوئے۔آج کے مضمون میں مستند احادیث اور روایات کی روشنی میں جنت البقیع اور مسجدِ قبا کی عظمت و برکات کا تذکرہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ زائرین ان مقامات کی زیارت کرتے وقت ان کی روحانی و تاریخی اہمیت سے کماحقہ واقف ہو سکیں۔
جنت البقیع کی زیارت
حضرت عائشہؓسے روایت ہے کہ جب میری باری کی رات ہوتی تو رسول اللہ ﷺ رات کے اخیر حصے میں بقیع قبرستان کی طرف تشریف لے جاتے اور فرماتے:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ، غَدًا مُّؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، أَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ.(ترجمہ) السلام علیکم دار قوم مومنین! تمھارے اوپر سلام ہو اے مومنوں کے گھر والو! تمھارے ساتھ کیا گیا وعدہ آچکا جو کل پاؤ گے یا ایک مدت کے بعد، اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ بقیع الغرقد والوں کی مغفرت فرما۔ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقُولُ: ” السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ، غَدًا مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ “، وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ: وَأَتَاكُمْ. [مسلم] ایک روایت میں حضرت عائشہؓفرماتی ہیں کہ میں نے حضرت نبی کریم ﷺ کو نہ پایا، پھر دیکھا کہ آپ بقیع میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: أَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِکُمْ لَاحِقُونَ، أَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ.(ترجمہ) تم پر سلامتی ہو اے ایمان داروں کے گھر والو ! تم ہمارے لیے پیش خیمہ ہو اور ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرمایئے اور ان کے بعد آزمائش میں نہ ڈالیے۔ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُهُ، تَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ”. [ابن ماجہ]
قیامت میںبقیع والوں کا انتظار
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے میری قبر کی زمین پھٹے گی، پھر ابوبکر ؓ کی، پھر عمر ؓ کی، پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا اور اس کے بعد اہلِ مکہ کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ حرمین (مکہ اور مدینے) کے درمیان لوگوں کے ساتھ جمع کرلیا جاؤں گا۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ” أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ “. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ بِالْحَافِظِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ. [ترمذی]
مسجدِ قبا کی عظمت
رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے اس دوران میں مدینے سے کچھ پہلے ایک جگہ قیام فرمایا تھا۔ یہاں رونق افروز ہونے کے بعد سب سے پہلے آپ نے جو کام کیا وہ یہ کہ ایک مسجد کی بنیاد ڈالی اور سب سے پہلے خود آپ نے اپنے دستِ مبارک سے ایک پتھر لا کر قبلہ رخ رکھا، آپ کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے اور حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ نے ایک ایک پتھر رکھا، اس کے بعد دیگر حضراتِ صحابہؓنے پتھر لا کر رکھنے شروع کیے اور سلسلہ تعمیر کا جاری ہو گیا۔ [سیرۃ المصطفیٰ] یہی مسجدِ قبا ہے۔
سنیچر کو مسجدِ قبا تشریف لانا
حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا، حضرت نبی کریم ﷺ ہر سنیچر کو مسجدِ قبا میں کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر تشریف لاتے تھے۔ اور حضرت عبداللہ ؓ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: “كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ كُلَّ سَبْتٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا”، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ. [بخاری]
مسجدِ قبا میں نماز
حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ سوار ہو کر اور پیدل قبا میں تشریف لاتے تھے۔ ابنِ نمیر نے اس زیادتی کے ساتھ بیان کیا کہ ہم سے عبیداللہ نے اور انھوں نے نافع سے نقل کیا ہے کہ وہاں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: “كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا”، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ. [بخاری]
مسجدِ قبا میں عمرے کے برابر ثواب
حضرت سہل بن حنیفؓبیان فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر خوب پاکی حاصل کرے، پھر مسجدِ قبا آکر نماز پڑھے، اسے عمرے کے برابر اجر ملے گا۔ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءَ، فَصَلَّى فِيهِ صَلَاةً كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ”. [ابن ماجہ] حضرت کعب بن عجرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجدِقبا آئے اور اس کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہ ہو کہ آکر نمازپڑھے، پھر وہ وہاں چار رکعت نماز ادا کرے اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھے تو یہ اس کے لیے بیت اللہ کا عمرہ کرنے کے برابر ہوگا۔عَن كَعْب بن عُجْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: مَن تَوَضَّأَ فأسبغَ الوضوءَ ثُمَّ عمَدَ إلى مسجدِ قباءَ لَا يُرِيدُ غَيْرَهُ، وَلَا يحْمِلُهُ علَى الغُدُوَّ إِلَّا الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدِ قباءَ، فصلَّى فيه أربعَ ركعاتٍ، يَقْرَأُ فِي كُلِ رَكْعَةٍبِأُمِّ الْقُرْآنِ كَانَ لَهُ كَأجِرِ الْمُعْتَمِرِ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ تَعَالَى. [الترغیب و الترہیب]
مسجدِ قبا میں غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب
حضرت سہل بن حنیفؓسےروایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوشخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجدِ قبا میں آئے اور وہاں چار رکعت ادا کرے، تو یہ اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کےبرابر ہوگا۔روى الطَّبَرَانِي فِي الْكَبِيرَ عَنهُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: مَن تَوَضَأَ فَأَسْبَغَ الوضوءَ، ثُمَّ دخلَ مسجدَ قباءَ، فيَركعَ فِيهِ أربعَ ركعاتٍ كَانَ ذَلِكَ عدْلَ رقبةٍ. [الترغیب و الترہیب]
پیر اور جمعرات کو مسجدِ قبا میں نماز
حضرت ابنِ سعدؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جو شخص پیر اور جمعرات کے دن مسجدِ قبا میں نماز پڑھے، وہ ایک عمرے کا اجرلے کرلوٹےگا۔ مَن صلى في مسجدِ قباءٍ يومَ الإثنين ويومَ الخميس إِنقلب بأَجرِ عمرةٍ. ابن سعد.[کنزالعمال]






