ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
تصوف، تزکیۂ نفس، سلوک و احسان، یا اصلاحِ باطن یہ سب دراصل دینِ اسلام کا وہ مغز اور روح ہیں جس کا مقصد انسان کے ظاہر و باطن کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنا ہے۔ قرآن مجید میں اسے ’تزکیہ‘ کہا، اور احادیثِ مبارکہ میں اسی کو ’احسان‘سے تعبیر کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں مادّی ترقی عروج پر ہے، وہیں روحانیت اور باطنی پاکیزگی کا گراف تیزی سے نیچے گرتا جا ہے۔ خانقاہیں اور تصوف کے سلاسل تو بڑھ رہے ہیں، لیکن ان کی حقیقی روح یعنی اخلاص، فنائیت اور نفس کُشی مفقود ہوتی جا رہی ہے۔
تصوف کوئی الگ مذہب یا شریعت سے الگ کوئی فلسفہ نہیں ہے، بلکہ یہ عینِ شریعت ہے۔ قرآنِ مجید میں انبیاے کرام علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد تزکیۂ نفس کو قرار دیا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾ وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انھیں میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنائیں اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں، جب کہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ [الجمعہ: 2] ایک اور مقام پر کامیابی کا دارومدار ہی تزکیے پر رکھا گیا:﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىهَا﴾ فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے، اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے۔ [الشمس: 9،10] مشہورِ زمانہ ’حدیثِ جبریل‘ میں ہے،جب حضرت جبریلؑنے رسول اللہ ﷺ سے احسان کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہ دیکھ سکو تو (یہ تو دھیان رکھو کہ) وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔یہی وہ مقامِ احسان ہے جسے حاصل کرنے کے لیے خانقاہی نظامِ تربیت اور مشائخ سے وابستگی اختیار کی جاتی ہے۔
لیکن جب تالاب کی گیرائی بڑھ جاتی ہے تو گہرائی کم ہو جاتی ہے۔اس ضرب المثل کو موجودہ دور کے تصوف پر چسپاں کرتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ خدا کے لیے اس تالاب کو بچائیے جو دن بہ دن پھیلتا تو چلا جا رہا ہے لیکن اپنی گہرائی کھوتا جا رہا ہے۔آج تصوف میں ظاہری رسومات، بڑے بڑے اجتماعات، خوبصورت خانقاہی عمارتیں، اور خلفا و مجازین اور مریدین کی کثرت کی نمائش تو بہت ہے، لیکن وہ گہرائی، وہ تڑپ اور وہ اخلاصِ نیت جو اکابر و اسلاف کا طرۂ امتیاز تھا، رخصت ہوتا جا رہا ہے۔
تصوف جیسے عمیق دریا میں اگر سطحیت اور رسمیت آ جائے تو یہ امت کا بہت بڑا خسارہ ہے۔اگر خانقاہوں سے جڑ کر بھی انسان کو خدا کی معرفت حاصل نہ ہو تو پھر انسان خدا کو پانے کہاں جائےگا؟ اگر سلوک و احسان کے راستے سے بھی شہرتوں، نام و نمود اور دنیوی مرتبوں کی چاہت پیدا ہونے لگے، تو پھر نسبتِ الٰہیہ کا ذوق و شوق کہاں سے آئے گا؟
سلفِ صالحین اور کبار مشائخ مثلاً حضرت جنید بغدادی، حضرت شیخ عبد القادر جیلانی، حضرت مجدد الف ثانی اور سیدالطائفہ حضرت حاجی امداداللہ مہاجرِ مکی اور ان کے خلفاےکرام رحمہم اللہ کا تصوف ’قال‘ نہیں بلکہ ’حال‘سے عبارت تھا۔ وہاں گمنامی کو شہرت پر اور فقر کو غنا پر ترجیح دی جاتی تھی۔ آج المیہ یہ ہے کہ خانقاہیں اب سالک کے لیے سلوک کی بھٹیاں بننے کے بجائے محض ایک سماجی اور خاندانی منصب بنتی جا رہی ہیں۔
تصوف و سلوک کا راستہ نہایت سادہ، بے تکلف اور خالص ہے۔ اس راستے میں جتنی سادگی ہوگی، اتنی ہی آسانی سے سلوک کے مدارج طے ہوں سکیںگے۔اس کے برعکس، جتنا تصنع ؍آرٹسٹری اور تکلف بڑھے گا، انسان حقیقی مقاصد اور روحانی منافع سے محروم ہوتا چلا جائےگا۔ شریعت و سنت کی بنیاد حقیقت و سادگی پر ہے۔رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓکی زندگی تصنع سے پاک تھی۔ تزکیۂ نفس کا پہلا اصول ہی نفس کو مٹانا ہے، نہ کہ نفس کو تکلفات کا عادی بنانا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات میں ہے کہ میں دو قدم میں راہِ سلوک طے کروا سکتا ہے، وہ اس طرح کہ پہلا قدم سالک اپنے نفس پر رکھے، تو دوسرا قدم منزلِ مقصود تک پہنچا دےگا۔جب کسی خانقاہ یا شیخ کے یہاں تکلفات کی بھرمار ہو جاتی ہے تو وہاں سے ’عاجزی‘ رخصت ہو جاتی ہے اور ’کبر‘ دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔ تصوف کا تو مقصد ہی ’انانیت‘ کو ختم کرنا ہے، مگر تکلفات ’انا‘ کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
آج کل بیعت ہونے والوں کی اکثریت خدا کی حقیقی طلب سے دور ہو چکی ہے۔ ان کو چند طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (۱)دنیوی اغراض و مصائب کا حل تلاش کرنے والے: بہت سے لوگ بیعت صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی دنیوی مشکلات حل ہو جائیں، کاروبار چل پڑے یا بیماریاں دور ہو جائیں، وہ شیخ کو ایک روحانی معالج یا وظیفے بتانے والا عامل سمجھتے ہیں (۲)اوراد و وظائف تک محدود رہنے والے: کچھ لوگوں کی دل چسپی صرف وظائف، تسبیحات اور چلّوں تک رہتی ہے، وہ باطنی اخلاق کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں دیتے (۳)اجازت و خلافت کے متمنی: ایک طبقہ ایسا ہے جس کا مقصد اجازت و خلافت حاصل کرنا، معاشرے میں معزز بننا اور اپنے مریدین کا حلقہ تیار کرنا ہوتا ہے، وہ خلافت کو ایک ڈگری یا منصب سمجھتے ہیں، حالاںکہ یہ ایک بھاری ذمّے داری ہے (۴)طالبین صادقین: ایک چھوٹا اور مختصر طبقہ ایسا ہوتا ہے جو محض اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا، اس کی محبت اور اپنے باطن کی اصلاح کے لیے مشائخ کے دامن سے وابستہ ہوتا ہے، اگرچہ ان میں سے بھی بہت سوں کو طریق کا صحیح فہم نہیں ہوتا، لیکن ان کی سچی طلب انھیں برکات سے محروم نہیں رہنے دیتی۔
قرآن مجید میں ہے:﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ﴾ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو۔ [التوبہ: 119]اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوے کی ہدایت فرمائی گئی اور ﴿وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ﴾ میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ صفتِ تقویٰ حاصل ہونے کا طریقہ صالحین و صادقین کی صحبت اور عمل میں ان کی موافقت ہے۔ اللہ کے نافرمانوں کی صحبت سے بچنا چاہیے اور صادقین کی صحبت اختیار کرنا چاہیے۔ اس جگہ قرآنِ حکیم نے علما صلحا کے بجائے صادقین کا لفظ اختیار فرما کر عالِم و صالح کی پہچان بھی بتلا دی ہے کہ صالح صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، نیت و ارادے کا بھی سچا ہو، قول کا بھی سچا ہو، عمل کا بھی سچا ہو۔[دیکھیے معارف القرآن]
مشائخ کی یہ بنیادی ذمّےداری ہے کہ وہ مریدین کی نیتوں کی تصحیح کریں۔ اگر کوئی مرید غلط مقصد لے کر آئے تو شیخ کا کام صرف اسے وظیفے دینا نہیں، بلکہ اس کے دل کا رخ دنیا سے موڑ کر خدا کی طرف کرنا ہے۔طالبینِ حق کی فکری، علمی، عملی اور باطنی تعلیم و تربیت کے دروس اس طرح منظم کیے جانے چاہئیں کہ ان میں درجِ ذیل ضروری عنوانات کا احاطہ ہو جائے:مختلف علاقوں اور مختلف مزاجوں کے خلفا ہونے کے باوجود تربیت میں ایک یکسانیت ہو، تاکہ خانقاہی نظام کا اصل مزاج برقرار رہے،اس مربوط تربیت کے ذریعے انوارِ سلوک اور تزکیے کی برکات لاکھوں وابستگانِ سلسلہ اور تشنگانِ اصلاح تک آسانی سے پہنچ سکیں ۔ اس فکری و عملی نصاب میں درجِ ذیل امور کا شامل ہونا لازمی ہے: (۱)عقائد کی پختگی: تصوف کی عمارت صحیح اسلامی عقائد پر ہی کھڑی ہو سکتی ہے، بدعات و خرافات سے پاک خالص عقیدہ پہلی شرط ہے (۲)فقہِ احکام : مرید کو عبادات، معاملات اور حلال و حرام کے بنیادی فقہی مسائل کا علم ہونا چاہیے، فقہ کے بغیر تصوف الحاد اور زندیقیت کا راستہ کھول دیتا ہے (۳)اخلاقیات : حسد، تکبر، عجب، ریاکاری، اور حبِ دنیا جیسے باطنی امراض کی پہچان اور ان کا علاج اس نصاب کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے،تصوف کا اصل حاصل ہی اخلاق کی درستی ہے۔
اگر کسی انسان نے شیخ کا دامن تھام لیا، لیکن اس کے بعد بھی اس کی شخصیت سازی نہ ہو سکی، کردار بلند نہ ہوا، نفس کُشی کا سلیقہ نہ آیا تو ایسی بیعت کا کوئی فایدہ نہیں۔اگر تصوف سے جڑے رہنے کے باوجود ہمارے اندر احترامِ انسانیت،حقد و حسد سے اجتناب، حلم و تحمل کا مزاج، رواداری اور یکجہتی جیسی صفات پیدا نہ ہوئیں تو ہم نبوی اخوت کا سبق کہاں سے سیکھیں گے؟خانقاہوں کا کام امت کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں، مشائخ اور مریدین دونوں کو ان پہلوؤں پر آج بہت زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آج ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ مختلف سلاسل؛چشتی، نقشبندی، قادری، سہروردی کے لوگ اور کبھی کبھی ایک ہی سلسلے کے مختلف خلفا ایک دوسرے کے خلاف حسد، تنقید اور بغض کا شکار نظر آتے ہیں۔ یا مریدین اپنے شیخ کی محبت میں اس قدر غلو کرتے ہیں کہ دوسرے مشائخ کی غیبت یا تحقیر شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تصوف نہیں بلکہ تصوف کے بالکل منافی ہے۔ سلوک و احسان کا یہ مبارک عمل محض ایک رسم بن کر ضائع نہیں ہونا چاہیے، بلکہ امت کی باطنی روح کو زندہ کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ امتِ مسلمہ پر رحم فرمائے، مشائخ کو اخلاص اور مریدین کو صدقِ طلب عطا فرمائے۔ آمین





