ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
انسان مجموعہ ہے خطاؤں، نادانیوں اور بھول چوک کا۔ خاص طور پر جوانی کا دور زندگی کا ایک ایسا طوفانی مرحلہ ہوتا ہے جہاں نفسانی خواہشات، جذباتیت اور ماحول کی ناپختگی مل کر انسان کی عقل و شعور پر غالب آ جاتی ہیں۔ اس عمر میں بسا اوقات انسان ایسے گناہوں اور بداعمالیوں کا مرتکب ہو جاتا ہے جن کا تصور ہی روح کو کانپنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ خواہ وہ فون پر کی جانے والی فحش چیٹ ہو، تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ ہو، ناجائز تعلقات ہوں، مُشت زنی ہو یا زنا و لواطت وغیرہ۔
ڈیجیٹل دور اور سائبرکرائم
آج کے ڈیجیٹل دور میں گناہ صرف انسان اور اس کے رب کے درمیان محدود نہیں رہے، بلکہ سائبر کرائم اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ نے اس مسئلے کو ایک انتہائی خوفناک رخ دے دیا ہے۔ بعض مرتبہ تو خود وہ ’دوست‘ جس کے ساتھ مل کر آدمی نے گناہ کیا ہوتا ہے، وہی اپنی ڈمانڈ پوری کروانے کی خاطر بلیک میل کرنے لگتا ہے۔ جب کوئی نوجوان نادانی میں کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے اور کسی شریر شخص کے ہاتھ میں اس کے ثبوت (سکرین شاٹس، ویڈیوز، آڈیو ریکارڈنگز، چیٹنگ) ہوتے ہیں، تو وہ اس نوجوان کی زندگی کو جہنم بنا دیتا ہے۔ اسے سماجی رسوائی اور خاندان میں بدنامی کا ڈر دلا کر بلیک میل کرنے لگتا ہے۔اس کے نتیجے میں نوجوان شدید ڈپریشن اور خوف کا شکار ہو کر بسا اوقات خودکشی جیسا انتہائی اور حرام و الم ناک قدم اٹھا لیتے ہیں۔ یہ مضمون اسی اہم اور نازک موضوع پر گفتگو کرتا ہے۔
اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے
اگر کسی انسان سے جوانی کی نادانی یا نفس کے بہکاوے میں آ کر کوئی بھی گناہ سرزد ہو گیا ہو،خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو،تو اسلام کا سب سے پہلا اور بنیادی حکم ’سچی توبہ‘ ہے۔ اسلام انسان کو امید کا پیغام دیتا ہے اور مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر رب کی رحمت کے سایے میں لاتا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سورۃ الزمر میں ارشاد فرمایا:آپ کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو ! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے، یقینا ًوہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ (الزمر) اس آیتِ مبارکہ میں لفظ ﴿اَسْرَفُوْا﴾ آیا ہے، جس کا مطلب ہے حد سے تجاوز کر جانا، یعنی چاہے گناہ کی حدیں ہی کیوں نہ پار ہو چکی ہوں، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا۔نیز سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والوں کی تبدیل شدہ حالت کا ذکر اس طرح فرمایا: ہاں مگر جو کوئی توبہ کرلے، ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (الفرقان)
گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سچی توبہ انسان کا ماضی بالکل صاف کر دیتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓکہتے ہیں،رسول اللہ ﷺنے فرمایا : گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (ابن ماجہ)حضرت انسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمام ابنِ آدم خطاکار ہیں اور بہترین خطاکار توبہ کرنے والے ہیں۔(ترمذی) حضرت ابو ایوب انصاریؓسے روایت ہے، جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے چھپا رکھی تھی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو (تمھاری جگہ) اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق کو پیدا فرما دے جو گناہ کریں، (پھر اللہ سے توبہ کریں اور) وہ ان کی مغفرت فرما دے۔ (مسلم)
مومن کی سب سے بڑی طاقت
ایک مومن کی سب سے بڑی طاقت اس کا عقیدۂ توحید ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ انسان کی عزت، ذلت، زندگی اور معافی کا اختیار صرف اور صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے۔ دنیا کا کوئی بلیک میلر، کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کوئی بھی انسان آپ کی آخرت کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔ جب بندہ تنہائی میں ندامت کے آنسو بہاتا ہے، تو اللہ اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے والا انسان دوزخ میں داخل نہیں ہوگا، جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ چلا جائے (اور یہ ناممکن ہے)، الحدیث۔(ترمذی) قرآن مجید میں فرمایا گیا: اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا پورا علم رکھتا ہے۔ (الشوریٰ) جب آپ کا معاملہ اس ذات کے ساتھ طے ہو گیا جو کائنات کا مالک اور قاضی ہے، تو پھر انسانوں کی باتوں اور ان کی دھمکیوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
سائبر بلیک میلنگ اور اس کی بھیانک حقیقت
جدید دور میں جب کوئی نوجوان آن لائن گناہ یا نادانی کر بیٹھتا ہے، تو اسے ایک خاص قسم کا سائبر کرائم گھیر لیتا ہے، جسےجنسی بلیک میلنگ (Sextortion) کہا جاتا ہے۔ایک انیس سالہ طالب علم کو کچھ لوگوں نےآرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے ذریعے سکرین شاٹس اور جعلی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا گیا۔وہ پیسے مانگ رہے تھے اور تصویریں وائرل کرنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ شدید ذہنی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے اس نوجوان نے خودکشی کر لی۔ اس طرح کے بہت سے کیس روزانہ ہوتے رہتے ہیں۔ بلیک میلر کی کامیابی صرف اور صرف خوف (Fear) اور احساسِ جرم (Guilt) پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر نوجوان خوفزدہ ہونے کے بجائے شریعت، قانون اور والدین کا سہارا لیں، تو بلیک میلر کا وار ناکام ہو سکتا ہے۔
خودکشی: حرام موت اور ابدی خسارہ
سماجی رسوائی کے خوف یا شدید ڈپریشن کی حالت میں بعض نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ خودکشی کر کے وہ اس عذاب سے بچ جائیں گے۔ لیکن یہ شیطان کا سب سے بڑا دھوکا اور دجل ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام مطلق ہے، یہ موت ہی حرام موت کہلاتی ہے۔ خودکشی کر کے انسان کسی مسئلے سے نجات نہیں پاتا بلکہ ایک عارضی دنیوی تکلیف سے بھاگ کر جہنم کی ابدی سزا میں چھلانگ لگا دیتا ہے۔ قرآن مجید میں رب العزت کا صریح حکم ہے:اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔ (النساء) اور اگلی ہی آیت میں اس کی بھیانک سزا یہ بیان فرمائی: اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرےگا، تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے، اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔ (النساء) حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو گلا گھونٹ کر مارتا رہے گا، اور جو شخص نیزہ چبھو کر مارتا ہے وہ جہنم میں اپنے آپ کو نیزہ چبھو کر مارتا رہے گا۔ (بخاری)معلوم ہوا کہ خودکشی کوئی نجات نہیں بلکہ ابدی ہلاکت کا راستہ ہے۔
والدین کا درد اور نا قابلِ تلافی صدمہ
جہاں خودکشی انسان کی اپنی آخرت کے لیے تباہی کا باعث ہے، وہاں یہ پیچھے رہ جانے والے والدین کے لیے عمر بھر کا عذاب بن جاتی ہے۔ جو ماں نو مہینے تک بچّے کو پیٹ میں پالتی ہے، اپنا خونِ جگر پلا کر اسے بڑا کرتی ہے، اور جو باپ دن رات مشقت کر کے اپنے بچے کے مستقبل کے خواب بنتا ہے،جب ان کا نوجوان بچہ خودکشی کر لیتا ہے، تو ان کی دنیا لمحوں میں اجڑ جاتی ہے۔ والدین پوری زندگی اس گھٹن کے ساتھ جیتے ہیں کہ ہم سے کہاں کمی رہ گئی تھی؟ وہ ہر روز تڑپتے ہیں، ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں، اور وہ جیتے جی مر جاتے ہیں۔ بلیک میلر کی جس رسوائی سے بچنے کے لیے نوجوان خودکشی کرتا ہے، اس کی خودکشی کے بعد وہ رسوائی والدین کے گلے کا طوق بن جاتی ہے۔ لوگ باتیں بناتے ہیں، انگلیاں اٹھاتے ہیں اور والدین کا سر معاشرے میں ہمیشہ کے لیے جھک جاتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ اپنے عارضی خوف سے بھاگنے کے لیے کیا اپنے ماں باپ کو عمر بھر کی جیتے جی موت دینا انصاف ہے؟
عیب جوئی اور پردہ دری کرنے والوں کے لیے سخت وعید
جو لوگ اس طرح نوجوانوں کو بلیک میل کرتے ہیں، ان کی چیٹس اور ویڈیوز لیک کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں یا ان کے عیبوں کو سرِعام پھیلاتے ہیں، اسلام نے ان کے لیے سخت ترین وعیدیں بتائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النور)رسول اللہ ﷺ نے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی بہت تاکید کی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائےگا۔(مسلم)
بلیک میلنگ سے بچنے کا عملی اور سائنسی لائحہ عمل
اگر کوئی نوجوان کسی ڈیجیٹل بلیک میلر کے چنگل میں پھنس جائے تو اسے فوری طور پر درج ذیل ایکشن پلان پر عمل کرنا چاہیے: سب سے پہلے تو وہ سچی توبہ اور رب سے رجوع کرے، نیز بلیک میلر کو صاف انکار کر دے اور والدین اور بڑوں کو اس کی اطلاع دے کر قانونی چارہ جوئی کرے۔ بلیک میلر کے سامنے جھکنا بند کر دے، اس کا کوئی ناجائز مطالبہ پورا نہ کریں۔ ایک بار ڈیمانڈ پوری کرنے سے اس کی بلیک میلنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی جانب سے بلیک میلنگ کے تمام ثبوت محفوظ کریںیعنی اس کی تمام چیٹس، سکرین شاٹس، کال ریکارڈنگز وغیرہ کا بیک اپ تیار کر لیں۔ والدین کو اعتماد میں لیں اور ڈرنے کے بجائے انھیں سب سچ بتا دیں۔ والدین شروع میں شاید غصہ ہوں گے، لیکن وہ اپنے بچے کو بچانے کے لیے ہر حد تک جائیںگے۔ نیز قانونی اداروں سے رابطہ کریں ، سائبر کرائم پورٹل پر فوری شکایت درج کروائیں اور اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پرائیویٹ کر دیں اور نامعلوم آئی ڈیز سے آنے والے میسجز کو بلاک کر دیں۔
ذہنی سکون کے لیے مسنون اذکار اور روحانی علاج
شدید تناؤ (Stress) اور خوف (Fear)کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے لیے مسنون اعمال و اذکار کا اہتمام کریں۔ ان اذکار کا بھی وِرد کر سکتے ہیں: (۱)﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ﴾ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ ( آل عمران) (۲)أَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، أَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، أَللّٰهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي. اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے آرام اور راحت کا سوال کرتا ہوں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں، اپنے دین و دنیا میں اور اپنے اہل و مال میں ۔ اے اللہ ! میرے عیب چھپا دے، مجھے میرے اندیشوں اور خطرات سے امن عنایت فرما ۔ یا اللہ ! میرے آگے ، میرے پیچھے ، میرے دائیں ، میرے بائیں اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما ۔ اور میں تیری عظمت کے ذریعے سے اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے کی طرف سے ہلاک کردیا جاؤں۔ (ابوداود)
رشتے داروں، دوستوں اور احباب کا اخلاقی و دینی رویہ
جب کوئی نوجوان کسی گناہ کی وجہ سے بلیک میلنگ یا سماجی رسوائی کا شکار ہو اور یہ بات اس کے خاندان یا دوستوں تک پہنچے، تو ارد گرد کے لوگوں کا رویہ اس کی زندگی یا موت کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس موقع پر احباب اور رشتے داروں کو درجِ ذیل طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے: (۱)طعنہ زنی اور تحقیر سے گریز (No Victim Blaming):اکثر لوگ ایسی صورتِ حال میں نوجوان کو کوس کر یا طعنے دے کر اسے مزید تنہا کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ اسے خودکشی کی طرف دھکیلتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی گناہ گار توبہ کے لیے آتا یا پکڑا جاتا، تو آپ صحابہؓکو اسے برا بھلا کہنے سے منع فرماتے تھے (۲) راز داری اور پردہ پوشی (Confidentiality): خاندان یا دوستوں میں سے جن لوگوں کو اس بات کا علم ہو جا، ان پر فرض ہے کہ وہ اس معاملے کو وہیں دفن کر دیں اور مزید لوگوں تک نہ پہنچائیں۔ چغلی، غیبت اور بات کو آگے پھیلانا گناہِ کبیرہ ہے (۳)جذباتی اور نفسیاتی تعاون(Emotional Support): نوجوان کو یہ احساس دلائیں کہ غلطی تم سے ہوئی ہے، لیکن تم ہمارے اپنے ہو، ہم اس مشکل میں بھی تمھارے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ تسلی اس کے دل سے خوف اور ڈپریشن کا بوجھ ختم کر دیتی ہے (۴)قانونی اور عملی سرپرستی: ایسے نازک وقت میں نوجوان کو اکیلا چھوڑ دینے کے بجائے سمجھ دار اور بڑے افراد آگے بڑھیں، بلیک میلر کا خود سامنا کریں اور سائبر کرائم برانچ میں کیس کی پیروی کریں۔کسی گرتے ہوئے انسان کو دھکا دینے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامنا اسلامی اخلاقیات کا اصل جوہر ہے۔ اگر اپنوں کی طرف سے ہمدردی اور پردہ پوشی ملے، تو کوئی بھی نوجوان بلیک میلر کی دھمکی سے ڈر کر اپنی جان گنوانے پر مجبور نہیں ہوگا۔
خلاصۂ کلام
نوجوانوں کا جذبات میں بہہ جانا یا گناہ میں مبتلا ہو جانا انسانی کمزوری تو ہو سکتی ہے، لیکن اس گناہ پر قائم رہنا، مایوس ہو جانا، والدین کو عمر بھر کا غم دینا یا بلیک میلر کے ڈر سے خودکشی کر لینا انتہائی نا سمجھی اور حرام قدم ہے۔ اگر ماضی میں آپ سے کوئی بھی غلطی ہوئی ہو، کوئی بھی گناہ سرزد ہوا ہو یاد رکھیں کہ اللہ کی معافی کا در ہمیشہ کھلا ہے۔ انسانوں کا کام باتیں بنانا ہے اور اللہ کا کام گناہ چھپا کر معاف کرنا ہے۔ کسی بھی بلیک میلر کی دھمکی سے ڈرنے کے بجائے سچی توبہ کریں، ہمت سے کام لیں، اپنے ماں باپ کو اعتماد میں لیں، قانونی راستے اپنائیں، اور اپنے رب پر پورا توکل رکھیں۔ جب اللہ آپ کے ساتھ ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو رسوا نہیں کر سکتی۔
اللہ تعالیٰ امت کے تمام نوجوانوں کو گناہوں سے محفوظ رکھے، ان کے عیبوں کی پردہ پوشی فرمائے، اور ہر قسم کے شریروں کی شرارتوں سے محفوظ رکھے۔ آمین





