Home Dept of Islamic Studies Articles حِجَامہ کے سنت پوائنٹ، حجامہ کب کروائے اور کب نہیں؟

حِجَامہ کے سنت پوائنٹ، حجامہ کب کروائے اور کب نہیں؟

قسط (۲)

اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو روحانی بالیدگی کے ساتھ حفظانِ صحت پر بھی زور دیتا ہے، اور اسی ذیل میں ’حجامہ‘ ایک ممتاز نبوی طریقۂ علاج ہے۔ آج کل حجامہ کی طرف غیربھی متوجہ ہو رہے ہیں اور ماشاء اللہ مسلمانوں میں بھی سنت سمجھ کر حجامہ کروانے کا رجحان عام ہو رہا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ اس شعبے سے جڑے بیش تر معالجین اور یہاں تک کہ نامور تربیتی اداروں سے ڈپلومہ کرنے والے سیکڑوں پروفیشنلز بھی صحیح ’سنت پوائنٹس‘ سے ناواقف ہیں۔ ایک پلیٹ فارم پر موجود ملک کے تقریباً آٹھ سو پیشہ ور حجامہ اسپیشلسٹوں کو اس غلطی سے آگاہ کرنے کے باوجود جب عدم توجہی کا سامنا رہا، تو اس علمی خلا کو پُر کرنے اور سنت کی صحیح پیروی کو یقینی بنانے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔مذکورہ بالا پس منظر اور تحقیق کی روشنی میں اس مضمون میں ان احادیث و روایات کو یکجا کیا گیا ہے جن سے حضرت نبی کریم ﷺ کے جسدِ اطہر پر حجامہ کے حقیقی اور متعین مقامات کا واضح علم ہوتا ہے۔ سنتِ نبوی کے مطابق مکمل ثواب اور مکمل فایدہ تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب عمل درست طریقے سے انجام پائے؛ لہٰذا اس تحریر میں نہ صرف حجامہ کے سنت پوائنٹس کی نشان دہی کی گئی ہے بلکہ ان ایام، تاریخوں اور اوقات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے جن میں حجامہ کروانا شریعت اور طبِ نبوی کی روشنی میں مستحب، مفید یا قابلِ احتیاط ہے۔ ان میں بعض روایات گو صحت کے اعتبار سے متکلم فیہ ہیں، لیکن علاج کے باب میں عمل کی گنجائش ہے۔

مُقَدَّمِ رَأْس میں حجامہ

حضرت ابنِ عمرؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے سر کے اگلے حصے پر حجامہ کروایا۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَحْتَجِمُ هَذَا الْحَجْمَ فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهِ، وَيُسَمِّيهِ : أُمَّ مُغِيثٍ.[ معجمِ اوسط طبرانی]

وَسطِ رَأْس اوركَتِفَيْن میں حجامہ

ابنِ بُحینہ ؓ سے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ نے لَحیِ جَمل میں حالتِ احرام میں اپنے سر مبارک کے درمیان میں حجامہ کروایا۔ ‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “احْتَجَمَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ فِي وَسَطِ رَأْسِهِ”. [بخاری] حضرت ابوکبشہ انماریؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریمﷺ اپنے سر پر اور دونوں مونڈھوں کے درمیان بھی حجامہ کرواتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو ان مقامات سے خون بہادے، اسے کسی بیماری کا کچھ اور علاج نہ کرنا بھی نقصان نہ دے گا۔عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ:‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ،‏‏‏‏ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ “مَنْ أَهْرَاقَ مِنْهُ هَذِهِ الدِّمَاءَ،‏‏‏‏ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ”. [ابن ماجہ]

قَمَحْدُوَة میں حجامہ

عبد الحمید بن صیفی نے اپنے والد سے اور انھوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم پر حجامہ کا اہتمام کرنا لازم ہے، سر کے پچھلے ابھرے ہوئے حصے پر؛ کیوںکہ یہ بہتّر، تہتّر اور پچہتر بیماریوں کی دوا ہے: جنون، جذام، برص اور دانتوں کے درد سے نجات دلاتی ہے۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْحِجَامَةِ فِي جَوْزَةِ الْقَمَحْدُوَةِ؛ فَإِنَّهُ دَوَاءٌ مِنِ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ دَاءً وَخَمْسَةِ أَدْوَاءٍ: مِنَ الْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ، وَوَجْعِ الْأَضْرَاسِ.[معجمِ کبیر طبرانی]

أَخْدَعَيْن اوركَاهِلِ میں حجامہ

حضرت علیؓسے روایت ہے، حضرت جبریلؑحضرت نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے گردن کی رگوں اور مونڈھوں کے درمیان حجامہ کروانے کے لیے کہا۔ عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ بِحِجَامَةِ الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ”. [ابن ماجہ]حضرت انسؓ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے گردن کی رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان حجامہ کروایا۔ عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ”احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ”. [ابن ماجہ]حضرت انسؓفرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے اپنے گردن کے پٹھوں کے درمیان اور گردن کے قریب تین مرتبہ حجامہ کروایا۔ معمر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حجامہ کروایا تو میرے حو اس مختل ہوگئے حتی کہ مجھے نماز میں سورۂ فاتحہ بتلائی گئی۔ اور حضور ﷺ مانگ میں حجامہ کرواتےتھے۔ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ ﷺ”احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ”، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُعَمَّرٌ:‏‏‏‏ احْتَجَمْتُ فَذَهَبَ عَقْلِي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي صَلَاتِي وَكَانَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ. [ابوداود]

ظَهْرپر حجامہ

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے حالتِ احرام میں کولھے یا کمر کے درد کی وجہ سے حجامہ کروایا۔عن جابر بن عبداللہ: أنَّ رسول الله ﷺ احتجم وهو مُحرِم، من وَثْءٍ كان بِوَرِكِهِ أو ظَهْرِهِ.[مسند احمد] من وَثْءٍ :درد یا چوٹ کی وجہ سے۔ علامہ سندیؒنے فرمایا: یہ لفظ واؤ کے زبر، مثلثہ (تین نقطوں والی ثا) کے ساکن اور آخر میں ہمزہ کے ساتھ ہے، اور عام لوگ اسے یا کے ساتھ بولتے ہیں جو کہ غلط ہے، اوروَثْء ایسے درد کو کہتے ہیں جو گوشت تک پہنچے لیکن ہڈی تک نہ پہنچے، یا بغیر ہڈی ٹوٹے ہوئے ہڈی کو پہنچے۔قوله: «من وَثْءٍ» ،قال السندي: بفتح واو وسكون مثلثة آخره همزة، والعامة تقول بالياء، وهو غلط، وَجَعٌ يُصيب اللحم لا يبلغ العظم، أو يصيب العظم من غير كسر.[ایضاً]

ورْك پر حجامہ

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے درد کی وجہ سے سے اپنے کو لھے پر حجامہ کروایا۔عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ”احْتَجَمَ عَلَى وَرْكِهِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ”. [ابوداو]

ظَهْر الْقَدَم پر حجامہ

حضرت انسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حالتِ احرام میں درد کی وجہ سے پشتِ قدم پر حجامہ کروایا۔ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ “احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ”. [ابوداود]

سر درد کے وقت حجامہ

رسول اللہ ﷺ کی خادمہ حضرت سلمیؓسے روایت ہے: جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا، آپ اسے فرماتے : حجامہ کرواؤ! اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ اس سے فرماتے : ان میں خضاب (مہندی) لگاؤ۔ عَنْ مَوْلَاهُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ “مَا كَانَ أَحَدٌ يَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ:‏‏‏‏ احْتَجِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ:‏‏‏‏ اخْضِبْهُمَا”. [ابوداود]

خون میں جوش کے وقت حجامہ

حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص حجامہ کروانا چاہے تو مہینے کی سترھویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو کروائے، اور (کسی ایسے دن میں کروائے) جب اس کا خون جوش میں ہو، ورنہ وہ اس کے لیے موجبِ ہلاکت بن جائےگا۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ،‏‏‏‏ فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ،‏‏‏‏ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ،‏‏‏‏ أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ،‏‏‏‏ وَلَا يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ”. [ابن ماجہ]

حجامہ کی مسنون تاریخیں

حضرت انسؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ گردن کی دونوں جانب کی رگوں اور شانوں کے درمیان حجامہ کروایا کرتے تھے اور یہ عمل سترہ، انیس یا اکیس تاریخ کو کیا کرتے تھے۔ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ “، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. [ترمذی] حضرت ابنِ عباسؓنے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ معراج کو تشریف لے گئے تو فرشتوں کے جس گروہ سے بھی آپ کا گزر ہوا، انھوں نے یہی کہا کہ حجامہ ضرور کیا کریں۔ اور فرمایا کہ حجامہ کے لیے بہترین تاریخیں ۱۷، ۱۹ اور ۲۱؍ ہیں۔قَالَ:‏‏‏‏ ” إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حِينَ عُرِجَ بِهِ مَا مَرَّ عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا:‏‏‏‏ عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ “. وَقَالَ:‏‏‏‏ ” إِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ:‏‏‏‏ يَوْمَ سَبْعَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَوْمَ تِسْعَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَوْمَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ”. [ترمذی، کتاب الطب، باب: ما جاء فی الحجامۃ:2053]

پیر، منگل اور جمعرات کے دن حجامہ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے (اپنے غلام) نافعؒسے کہا : نافع! میرے خون میں جوش ہے، کسی حجامہ کرنے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : حجامہ نہار منہ کروانا بہتر ہے، اس میں شفا اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوتِ حافظہ تیز ہوتی ہے۔ جمعرات کو حجامہ کرواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو حجامہ کروانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر پیر اور منگل کے دن حجامہ کرواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوبؑکو بیماری سے نجات دی اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چناںچہ جذام اور برص کی بیماریاں (عام طور سے) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں۔عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ يَا نَافِعُ،‏‏‏‏ قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ،‏‏‏‏ فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ،‏‏‏‏ وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلَا صَبِيًّا صَغِيرًا،‏‏‏‏ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ “الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ،‏‏‏‏ وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ،‏‏‏‏ وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ،‏‏‏‏ فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ،‏‏‏‏ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ،‏‏‏‏ وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ،‏‏‏‏ وَيَوْمَ الْأَحَدِ تَحَرِّيًا،‏‏‏‏ وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلَاءِ،‏‏‏‏ وَضَرَبَهُ بِالْبَلَاءِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ،‏‏‏‏ إِلَّا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ”. [ابن ماجہ، کتاب الطب، باب: فی أی الایام یحتجم: 3487]

منگل کے دن حجامہ کروائے یا نہیں؟

ابوبکر بکار بن عبدالعزیز کہتے ہیں کہ مجھے میری پھوپھی کیسہ بنتِ ابوبکرہ نے بتلایا کہ ان کے والد نے اپنے گھر والوں کو منگل کے روز حجامہ کروانے سے منع کیا تھااور وہ حضور ﷺ سے نقل کرتے تھے کہ منگل کا دن خونی دن ہے اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس میں خون نکلنے سے انسان تندرست نہیں ہوتا۔ ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ غَيْرُ مُوسَى:‏‏‏‏ كَيِّسَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهَا كَانَ”يَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ:‏‏‏‏ أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ”. [ابوداود، کتاب الطب، باب: متی تستحب الحجامۃ: 3862] لیکن حضرت معقل بن یسارؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منگل کے دن سترھویں تاریخ کو حجامہ کروانا سال بھر کی بیماریوں کا علاج ہے۔عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: الْحِجَامَةُ يَوْمَ الثَّلَاثَاءِ لِسَبْعِ عَشْرَةَ مِنَ الشَّهْرِ دَوَاءٌ لِدَاءِ سَنَةٍ. [معجم کبیر طبرانی] علامہ ہیثمیؒ فرماتے ہیں: وفيه زيد بن أبي الحواري العمي، وهو ضعيف، وقد وثقه الدارقطني وغيره، وبقية رجاله رجال الصحيح.[مجمع الزوائد] اس روایت کے دوسرے شواہد و متابعات بھی ہیں، اوپر ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی بھی منگل کے تعلق سے گزر چکی،اس لیے اس پر عمل کی گنجائش ہے۔

جاری۔۔۔

(ممبئی و مضافات والے حجامہ کروانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here