Home Dept of Islamic Studies Articles ازدواجی سفر کا آغاز اور ہنی مون

ازدواجی سفر کا آغاز اور ہنی مون

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے فکری یکسوئی اور باہمی قربت کے حصول کی غرض سے سفر یا تفریح پر جانے کا رجحان آج کے معاشرے میں عام ہو چکا ہے، جسے ’ہنی مون‘ کہا جاتا ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات اور مزاجِ شریعت کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے تو ایک متوازن، دل سوز اور دعوتی نچوڑ سامنے آتا ہے۔نکاح ایک بابرکت سنت اور انسانی زندگی کا ایک اہم ترین موڑ ہے۔ یہ وہ مقدس رشتہ ہے جو دو انسانوں کو الفت، سکون اور پاکیزگی کے بندھن میں پروتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:﴿وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ؀﴾ اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے، یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ [الروم]

ہنی مون پر فتویٰ اور سماجی حقائق

آج کل رہائشی مکانات کے چھوٹے ہونے اور شادی کے موقع پر مہمانوں سے کئی کئی دنوں تک ہر وقت گھر گھرا رہنے کے سبب، نئے جوڑے کو تنہائی میں پُرسکون وقت گزارنے اور ایک دوسرے کو اطمینان سے سمجھنے کا موقع نہیں مل پاتا، اسی زمینی حقیقت کے پیشِ موجودہ معاشرے میں ہنی مون کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔’’محمود الفتاویٰ‘ میں ایک سوال موجود ہے: بمبئی شہر میں عقدِنکاح کے ہفتے عشرے بعد ہنی مون منانے کے لیے کسی مخصوص جگہ بہ طور تفریح جاتے ہیں، یہ شرعاً کیسا ہے؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ’’اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں‘‘۔[محمودالفتاویٰ مبوب] ’بنوری ٹاؤن، کراچی‘ کے فتوے میں ہے: نکاح کے بعد دولہا دلہن کا ایک ساتھ سفر کرنا جائز ہے، البتہ شادی کے بعد ہنی مون کے عنوان پر سفر کرنا پسندیدہ نہیں، یہ اَغیار کی رسم ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر ان کی مشابہت مقصود نہ ہو اور ان سے متاثر بھی نہ ہو تو شادی کے متصل بعد دنوں میں میاں بیوی کے ساتھ سفر کرنے میں حرج نہیں ہے، تاہم اسے مذکورہ عنوان نہ دیا جائے۔

ہنی مون اور بنیادی شرعی دائرہ

یہ درست ہے کہ ’ہنی مون‘ اور اس کے پسِ پردہ کارفرما تصورات اسلامی تاریخ یا تہذیب کی پیداوار نہیں بلکہ یہ مغربی کلچر کی ایک روایت ہے۔ اسلام میں کسی خاص طرز کے تفریحی سفر کو کوئی دینی تقدس یا لازمی حیثیت حاصل نہیں۔ تاہم شریعت نے سیر و تفریح، باہمی سکون اور میاں بیوی کے درمیان الفت و محبت بڑھانے والے مباح ذرائع پر نہ صرف یہ کہ کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ نیک مقاصد اور درست طریقے پر ہونے پر اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔سیرتِ طیبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ خوش طبعی اور تفریح کا اہتمام فرمایا ہے۔ حضرت عائشہؓسے روایت ہے، وہ حضرت نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہوگیا اور میں نے آپ سے مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ نے فرمایا : یہ جیت اس جیت کا بدلہ ہے۔ ‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:‏‏‏‏ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ. [ابوداود] نیز آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے، سوائے تیر اندازی، اپنے گھوڑے کو سدھانے اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے؛ یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں ۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ‏‏‏…‏‏‏‏‏‏كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ . [ترمذی] اس لیے اگر کوئی شادی شدہ جوڑا ایک پُرسکون اور پاکیزہ ماحول میں وقت گزارنا چاہتا ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے نکل کر ایک دوسرے کو سمجھ سکیں تو بذاتِ خود ایسا سفر کرنا یا تفریح کرنا ناجائز نہیں، جب کہ اس میں کسی اور ناجائز کا ارتکاب نہ ہو۔ اصولی طور پر اشیا اور مباح امور میں اصل جواز ہے: الأصلُ في الأشياءِ الإباحةُ. لہٰذا اگر نیت درست ہو اور طریقۂ کار شریعت کے دائرے میں ہو تو اسے برا نہیں کہا جا سکتا۔

موجودہ خرافات اور اصلاح کے تقاضے

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس خلوت اور سفر کے نام پر وہ تمام چیزیں اختیار کر لی جاتی ہیں جو شریعت اور اخلاقیات کے منافی ہیں۔ آج کے اس کلچر میں اکثر درجِ ذیل خرابیاں در آتی ہیں:(۱) فضول خرچی اور نمودونمائش: نمود و نمائش اور سوشل میڈیا پر دکھاوے کے لیے بے جا اسراف کرنا؛ جب کہ قرآن مجید نے فضول خرچی کرنے والوں کی مذمت فرمائی اور ارشاد فرمایا گیا:﴿وَلَا تُسْرِفُوْا ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ؀﴾اور فضول خرچی نہ کرو، یاد رکھو، وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ [الانعام] دوسری جگہ فرمایا: ﴿اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ﴾ یقین جانو کہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں۔ [الاسراء] (۲) فرائض سے غفلت اور پردے کی پامالی: تفریح کے اس انہماک میں اکثر فرض نمازوں کی پابندی نہیں کی جاتی، جب کہ ارشادِ ربانی ہے:﴿حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ ﴾ تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور [خاص طور پر] بیچ کی نماز کا۔ [البقرۃ]حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی اور کفر و شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ” بَيْنَ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، ‏‏‏‏‏‏تَرْكُ الصَّلَاةِ “. [مسلم] اسی طرح شرعی پردے کے احکام پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ؀ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ ﴾مومن مَردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے۔ وہ جو کارروائیاں کرتے ہیں اللہ ان سب سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہوجائے، اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے شوہروں کے،الآیۃ۔ [النور] نیز رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنھیں میں نے نہیں دیکھا، ان میں سے ایک قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں، وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں، ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں، وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوںگی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پاسکیںگی، جب کہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت [یعنی بہت دور] سے محسوس کی جاسکتی ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ ﷺ: ” صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا “. [مسلم] نیز اپنے طرزِ عمل میں مغربی اقدار کی ہو بہ ہو تقلید کی جاتی ہے، جو اسلامی دینی و تہذیبی غیرت کو مجروح کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے ہمارے علاوہ کسی اور کی مشابہت اختیار کی، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہود کی اور نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو، الحدیث۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللّهِ ﷺ قَالَ:‏‏‏‏ ” لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، ‏‏‏‏‏‏لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ،‏‏‏‏ وَلَا بِالنَّصَارَى، ‏‏الحدیث. [ترمذی] یہ تمام باتیں ہر وقت گناہ ہیں، اور زندگی کے اس مبارک ازدواجی سفر کی شروعات اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اسراف یا غیر اسلامی رسم و رواج سے ہو تو اس سے زندگی سے برکت و رحمت اٹھ جانے کا اندیشہ ہے۔

بہترین طرزِ عمل: سادگی

میاں بیوی کے درمیان محبت، الفت اور سکون کا تعلق چند دن کے تفریحی سفر کا محتاج نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اصل کامیابی اور حقیقی مسرت اس میں ہے کہ اعتدال اور شرعی حدود کی پاسداری کی جائے، اگر اس طرح کا سفر کرنے کو جی چاہے تو اس میں شریعت کی تمام حدود (حیا، پردہ، نماز کی پابندی اور حلال کمائی) کا پورا خیال رکھا جائے اور سادگی کو شعار بنایا جائے، نمود و نمائش، قرض لے کر سفر کرنے اور دکھاوے سے مکمل پرہیز کیا جائے، نیز نئی ازدواجی زندگی کی بنیاد فضول خرچی کے بجائے شکرِ خداوندی، ذکر و اذکار اور بزرگوں کی دعاؤں پر رکھی جائے۔ حقیقی سکون اغیار کے طریقوں یا مہنگے ہوٹلوں میں نہیں بلکہ سنتِ نبوی پر عمل کرنے، سادگی اپنانے اور میاں بیوی کے باہمی حسنِ سلوک، ایثار اور خلوص میں پوشیدہ ہے۔

(کالم نگار مشہور عالمِ دین، تقریباً پچاس کتابوں کے مصنف اور الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی کے صدر و مفتی ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here