تراویح پر اجرت، معاوضہ یا ہدیہ کا لین دین اور حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کا فتویٰ
سوال:حضرت مفتی ندیم احمد صاحب مدظلہ! آپ کہتے ہیں کہ تراویح پر ہدیہ لینا دینا بھی جائز نہیں، لیکن ہم نے مفتی سعیداحمد پالن پوری سے سبق کے دوران سنا ہے، وہ جائز کہتے تھے۔
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً: حضرت مفتی سعید احمد پالن پوریؒ تحریر فرماتے ہیں:رمضان شریف میں تراویح میں جو حفاظ قرآن سناتے ہیں اور اس پر نذرانہ لیتے ہیں وہ در حقیقت اجرت ہے، کیوںکہ فقہی ضابطہ ہے کہ المعروف کا المشروط یعنی جس علاقے میں یا جس مسجد میں دینے لینے کا رواج ہے وہاں طے کیے بغیر نذرانہ ( ہدیہ ) لینا بھی اجرت ہی ہے، جو ناجائز ہے، اور یہ حیلہ کرنا کہ ایک دو نمازیں حافظ کے ذمّے کر دی جائیں دو شرطوں کے ساتھ درست ہو سکتا ہے: (۱)تنخواہ طے کی جائے، ورنہ اجارہ فاسد ہو گا (۲) تراویح میں قرآن سنانا مشروط و معروف نہ ہو، اگر تراویح میں قرآن نہ بھی سنائے تب بھی مقررہ تنخواہ ملے۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ حیلے میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں اس لیے وہ حیلہ بھی درست نہیں اور یہ خیال کہ اجرت یا نذرانہ جائز نہ ہوگا تو تراویح کے نظام میں یا حفظِ قرآن کے نظام میں خلل واقع ہوگا، درست نہیں۔ تراویح تو چھوٹی سورتوں سے بھی قایم ہوسکتی ہے اور جن علاقوں میں حافظ کو کچھ نہیں دیا جاتا وہاں بھی بچّے خوب قرآن یاد کرتے ہیں بلکہ یہ نذرانہ ہی حفظِ قرآن کو نقصان پہنچاتا ہے، ایسے حفاظ صرف رمضانی حافظ ہو کر رہ جاتے ہیں اور حفظِ قرآن کا جو اصل مقصد ہے وہ فوت ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح سامع کے لیے اجرت لینا بھی درست نہیں ہے۔[آپ فتویٰ کیسے دیں]
موصوف دارالعلوم دیوبند کے مفصل فتوے بہ عنوان ’معاوضہ علی التراویح ک شرعی حیثیت‘ کی تصدیق وتائید کرتے ہوئےتحریر فرماتے ہیں:میری ایک عبارت جو اس مسئلے سے متعلق نہیں ہے بلکہ خوشی کے مواقع سے متعلق ہے اس کو بعض لوگوں نے زبردستی معاوضہ علی التراویح کے جواز سے متعلق کیا ہے، جو صریح تلبیس ہے، میری عبارت یہ ہے:خوشی کے موقع پر کمیٹی اور مصلیوں کو چاہیے کہ وہ ائمہ کی اضافی خدمت کریں، اس کا بھی امت میں معمول ہے، اگر چہ یہ چیز ضمناً اور تبعاً شمار ہوتی ہے، اس کو مستقل اضافی معاوضہ نہیں کہا جا سکتا، یہ ایک طرح کا انعام ہے۔یہ تحریر خوشی کے موقع کے لیے ہے، تراویح سے اس کا کچھ تعلق نہیں ، عید الفطر سے تعلق ہو سکتا ہے اور ضمناً اور تبعاً کا مطلب یہ ہے کہ یہ تنخواہ کا جز نہیں جو ائمہ کو مطالبے کاحق ہو، یہ محض انعام ہے جو دینے والوں کی مرضی پر موقوف ہے۔[معاوضہ علی التراویح کی شرعی حیثیت] فقط
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






