(دوسری قسط)
ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری
حجرِاسود اور رکنِ یمانی
[۲۲]عطا بن ابی رباحؒسے رکنِ یمانی کے بارے میں پوچھا گیا- جب کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے- تو وہ فرمانے لگے:مجھ سے حضرت ابوہریرہؓنے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: رکنِ یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں، جو بھی یہاں أَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ پڑھے، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ جب عطا حجرِ اسود پر پہنچے تو ابن ہشام نے کہا؛ اے ابومحمد! آپ کو اس رکنِ اسود کے بارے میں کیا معلوم ہوا؟ عطا نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہؓنے مجھے یہ حدیث سنائی کہ انھوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو حجرِ اسود کو چھوئے، گویا وہ اللہ کا ہاتھ چھو رہا ہے۔ ابن ہشام نے عرض کیا اے ابومحمد! طواف کے متعلق بھی فرمائیے۔ عطا فرمانے لگے کہ حضرت ابوہریرہؓنے مجھے یہ حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت نبی کریمﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ جو بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے اور اس دوران کوئی گفتگو نہ کرے، صرف سُبْحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلہِ، وَلَآ إِلٰهَ إِلَّا اللہُ، وَاللہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہِ ! پڑھتا رہے، اس کی دس خطائیں مٹادی جائیں گی اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس طواف کی بہ دولت اس کے دس درجے بلند کر دیے جائیں گے۔ اور جس نے طواف کیا اور طواف کرتے ہوئے باتیں بھی کیں تو وہ (بھی) اپنے دونوں پاؤں کے ساتھ رحمت میں داخل ہوا، جیسے پانی میں آدمی کے پاؤں ڈوب جاتے ہیں۔ [ابن ماجہ]
طواف کے بعد دو گانہ نماز
[۲۳]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، تو یہ (ثواب میں)غلام آزاد کرنے جیسا ہے۔ [ابن ماجہ]
حطیم میں نماز پڑھنا
[۲۴]حضرت عائشہؓ سے روایت ہےکہ میں چاہتی تھی کہ کعبے میں داخل ہو کر نماز پڑھوں، پس رسول اللہﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں لے گئے، پھر فرمایا:اگر تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھو، یہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے، لیکن تمھاری قوم نے کعبے کی تعمیر کے وقت تعظیم کی اور(وافر مقدار میں تعمیر کے لیے حلال مال نہ ہونے کے سبب) اسے چھوڑ دیا اور اسے کعبے سے نکال دیا۔ [ترمذی]
صفا ومروہ کی سعی
[۲۵]حضرت نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا (ثواب میں)ستّر غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔ [مجمع الزوائد]
حلق و قصر کروانے پر دعا
[۲۶]حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے؛رسول اللہﷺ اور صحابۂ کرامؓکی ایک جماعت نے سر کے بال منڈوائے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریمﷺ نے ایک یا دو مرتبہ ارشاد فرمایا: اے اللہ! سر کے بال منڈوانے والوں پر رحم فرما! پھر فرمایا: بال کتروانے والوں پر بھی (رحم فرما)![ترمذی][۲۷]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:تمھارے سر منڈانے کا اجر یہ ہے کہ ہر بال کے عوض تمھارے لیے ایک نیکی ہے اور اس کے بدلے تم سے ایک ایک خطا بھی مٹا دی جاتی ہے۔[مجمع الزوائد][۲۸]حضرت عائشہؓ سے روایت ہے،حضرت نبی کریمﷺ نے عورت کو سر کے بال منڈوانے سے منع فرمایا۔ اہلِ علم کا اسی پر عمل ہے کہ عورت سر کے بال نہ منڈوائے،بلکہ بال کتر والے۔[ترمذی]
عرفے کے دن عام معافی
[۲۹]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ عرفے کے دن سے زیادہ کسی دن اپنے بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا ،اور اللہ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ سارے بندے کس ارادے سے آئے ہیں؟[مسلم][۳۰]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: عرفے کے دن اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور پھر فرشتوں کے سامنے (اہلِ عرفات پر) فخر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کی طرف دیکھو، یہ میرے حضور پراگندہ بال، گرد آلود اور تکبیر کی آوازیں بلند کرتے ہوئے دور دراز سے آئے ہیں، میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انھیں بخش دیا۔ یہ سن کر فرشتے کہتے ہیں؛ اے ہمارے رب! (ان میں) فلاں شخص بھی ہے، جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے، اور فلاں عورت بھی ہے، جو گنہ گار ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:مَیں نے انھیں بھی بخش دیا۔ پھر رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں جس میں یومِ عرفہ کے برابر لوگوںکو دوزخ کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہو۔ [الترغیب]
شیطان کی رسوائی کا دن
[۳۱]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:ایسا کوئی دن نہیں، جس میں شیطان اتنا زیادہ ذلیل و خوار ، حقیر اور غیظ سے پُر دیکھا گیا ہو جتنا وہ عرفے کے دن ہوتا ہے‘ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نازل ہوتی ہوئی رحمت اور اس کی طرف سے بڑے بڑے گناہوں کی معافی دیکھتا ہے۔ [شعب الایمان]
عرفے کی دعا
[۳۲]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:بہترین دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے اور (اس دن) مَیں نے اورمجھ سے پہلے نبیوں نے جو بہترین دعا کی وہ یہ ہے:’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے‘۔ [ترمذی]
یومِ عرفہ، یوم ِ نحر اور ایامِ تشریق کی فضیلت
[۳۳]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:بے شک! اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنوں میں سب سے افضل یومِ نحر ہے، پھر اس کے بعد یومِ قرّ (یعنی اس کے بعد والا دن)۔ [ابوداود][۳۴]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:بے شک یومِ عرفہ، یومِ نحر اور ایام تشریق ہم اہلِ اسلام کے لیے عید (یعنی خوشی) کےاور کھانے پینے کے دن ہیں۔ [نسائی]
عید الاضحی میں محبوب ترین عمل
[۳۵]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:عید الاضحی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل جانور کی قربانی ہے، یہ قربانی قیامت کے دن اپنے بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی اور یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے حضور میں پیش کردیا جاتا ہے، اس لیے خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔ [ترمذی]
رمیِ جمرات کی فضیلت
[۳۶]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جب تم جمرات کی رمی کرو تو یہ عمل تمھارے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔ [مجمع الزوائد] ایک حدیث میں فرمایا گیا:ہر کنکری کے عوض ایک ایسا بڑا گناہ معاف ہو جاتا ہے، جو آدمی کو ہلاک کرنے والا تھا۔ [مجمع الزوائد]
حاجی کی دعاکی برکت
[۳۷]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ کے وفد ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا مانگیں تو اللہ قبول فرمائیں اور اگر اللہ سے بخشش طلب کریں تو اللہ ان کی بخشش فرما دیں۔[ابن ماجہ][۳۸]رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جب تم کسی حاجی سے ملاقات کروتو اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو، اپنے لیے مغفرت کی دعا کراؤ، اس لیے کہ وہ بخشا ہوا آیا ہے۔ [مسند احمد][۳۹]خود خلاصۂ کائنات نے ان الفاظ کے ساتھ دعا فرمائی ہے؛اے اللہ حج کرنے والے کی مغفرت فرما دے اور اس کی بھی جس کی مغفرت کی حاجی دعا کرے۔ [الترغیب] [۴۰]حضرت عمرؓنے حضرت نبی کریمﷺ سے عمرے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے انھیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا: میرے پیارے بھائی! ہمیں اپنی کچھ دعاؤں میں شریک کرلینا اور ہمیں بھُلا مت دینا۔[ابن ماجہ]






