زیورات والے سونے کی زکوٰۃ کس حساب سےنکالے؟
سوال: حضرت مفتی ندیم احمد صاحب! عورت کے پاس جو زیورات ہوتے ہیں اس میں زیور بناتے وقت جوہری تھوڑا بہت پیتل ضرور ملاتا ہے، اس زیور کو اگر فروخت کریں تو خالص سونے کی جو قیمت ہے وہ نہیں ملتی، کم ملتی ہے، اب اس کی زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے؟
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً:بازار میں خالص سونے کا دام الگ ہے اور زیورات والے سونے کا دام الگ ہے، زیورات کی زکوٰۃ بہ صورتِ قیمت ادا کی جارہی ہو تو اس کا جو دام ہوگا وہ شمار ہوگا، البتہ اگر زیورات کی زکوٰۃ سونے کی صورت میں ادا کی جارہی ہو تو وزن کا اعتبار ہوگا، چاہے وہ خالص سونا ہو یا ملاوٹ والا۔ [دیکھیے محمودالفتاویٰ مبوب]فقط [ماخوذ از فقہِ رمضان]
واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ أتم
العبد ندیم احمد عفی عنہ
صدرو مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی






