ڈاکٹر مفتی ند یم احمد انصاری
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی رشتوں کو امن، احترام، اعتماد اور محبت پر قائم کرنے کی بہترین تعلیم دیتا ہے۔ بالخصوص میاں بیوی کا رشتہ؛ جو معاشرے کی بنیادی اکائی اور خاندانی نظام کا محور ہے، اس کی بنیاد باہمی راز داری، اعتماد اور عزت پر رکھی گئی ہے۔ جدید دور میں جہاں سوشل میڈیا اور موبائل فون کا استعمال عام ہو چکا ہے وہاں ایک دوسرے کی پرائیویسی میں بلاوجہ گھسنے، موبائل چیک کرنے اور تجسّس کرنے کو اپنا حق سمجھنے کی منفی روِش چل پڑی ہے۔ اس رویے سے میاں بیوی کے باہمی اعتماد کی فضا مجروح ہوتی ہے اور ہنستے بستے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہر شخص کی پرائیویسی کا احترام، عیبوں کی پردہ پوشی، تجسس اور بدگمانی سے بچنے کی نہ صرفف تعلیم دی بلکہ سخت تاکید کی گئی ہے۔
میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں
میاں بیوی کے خوبصورت تعلق کی تعریف کرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وہ تمھارے لیے لباس ہیں، اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ (البقرۃ) لباس کے تین بنیادی اوصاف ازدواجی زندگی کا فریم ورک متعین کرتے ہیں: (۱)ستر پوشی؍عیب چھپانا:جس طرح لباس انسان کے جسم کے داغ، دھبّے اور عیوب کو دنیا سے ڈھانپتا ہے، اسی طرح میاں بیوی کا کام ایک دوسرے کے عیوب اور خامیوں کو ڈھانپنا ہے، نہ کہ تجسس کر کے انھیں ڈھونڈنا یا دنیا کے سامنے لانا (۲)حفاظت: لباس انسان کو موسم کے سرد و گرم اثرات سے بچاتا ہے، اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی عزت، آبرو اور ساکھ کی اچھے اور برے دونوں حالات میں حفاظت کرتے ہیں (۳)زیبائش: لباس سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے، اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے زینت اور سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیے، یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ (الروم)
بدگمانی، تجسس، عیب جوئی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسانوں کے عیوب تلاش کرنے اور تجسس کرنے سے سخت الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بےشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے۔ (الحجرات) حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بدگمانی سے بچتے رہو، کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، اور کسی کے عیوب کی ٹوہ مت لگواؤ اور نہ خود کسی کی ٹوہ میں لگو۔(ابوداود)حضرت ابوہریرہؓہی سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھا گمان رکھنا بہترین عبادت میں سے ایک عبادت ہے۔(ابوداود)
خفیہ احوال کی ٹوہ لینے پر رسوائی کی وعید
حضرت ابوبرزہ اسلمیؓسے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے ان لوگوں کی جماعت جو صرف زبان سے ایمان لائے ہو اور ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا؛ مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو، اور نہ ان کی عزت وآبرو کے درپے رہو، اس لیے کہ جو کسی کی عزت کے درپے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت کے درپے ہوجاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ جس کی عزت کے درپے ہوجائیں تو اس کو گھر بیٹھے رسوا کردیتے ہیں۔(ابوداود) حضرت انس بن مالکؓسے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب مجھے معراج کروائی گئی تو اس رات میں ایک قوم پر گزرا۔ ان کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان ناخنوں سے اپنے چہرے اور سینے کھرچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا:اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں ؟ انھوں نے فرمایا:یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں اور ان کی عزت وآبرو کے درپے رہتےہیں۔(ابوداود)
شک اور بدگمانی کی تحقیق نہ کرے
حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے،حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب کسی سے بدگمانی ہو جائے، تو تحقیق نہ کرو۔ (کنزالعمال) اسلام نے میاں بیوی کے درمیان بھی ذاتی حالات اور پرائیویسی کا لحاظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سفر سے واپسی پر اچانک بغیر بتائے گھر میں داخل نہ ہوا جائے۔حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ رات کو (اچانک) گھر میں سفر سے واپس آنا ناپسند فرماتے تھے۔ (بخاری) ایک روایت میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تمھیں گھر سے جا کر ایک مدت گذر گئی ہو تو اچانک رات کو گھر میں نہ آیا کرو۔(بخاری) حکمت یہ ہے کہ عورت کو سنبھلنے،سنورنے اور خود کو تیار کرنے کا موقع مل سکے، اور شوہر کے سامنے اس کی کوئی ایسی حالت یا خامی نہ آئے جو ناگواری کا باعث بنے۔ جب سفر سے واپسی پر سرپرائز یا اچانک چھاپہ مارنے کی نیت سے روکا گیا ہے، تو عام زندگی میں بھی ایک دوسرے پر حاکمانہ انداز میں نظر رکھنا، اسٹاک کرنا، جاسوسی کرنا اور پکڑنے کے چکر میں رہنا اسلامی مزاج کے موافق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عیوب چھپانے اور رازوں کی حفاظت کی فضیلت
اگر کسی موڑ پر شریکِ حیات کی کوئی خامی یا غلطی سامنے آ بھی جائے تو اسلام کا حکم یہ ہے کہ اسے سرِعام رُسوا کرنے کے بجائے چھپایا جائے اور تنہائی میں اس کی اصلاح کی جائے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا کوئی عیب دیکھا، پھر اسے چھپایا، تو وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے کسی زندہ دفن کی جانے والی بچّی کو نئی زندگی دی۔(ابوداود) حضرت ابنِ عباسؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی عیب پوشی فرمائیںگے اور جس نے مسلمان کی پردہ دری کی، اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائیں گے، اس طرح کہ گھر بیٹھے اسے رسوا فرما دیںگے۔ (ابن ماجہ)حضرت ابوسعید خدریؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے برا اللہ کے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے قیامت کے دن وہ آدمی ہوگا جو اپنی عورت کے پاس جائے اور بیوی اس کے پاس آئے اور وہ آپس میں تعلق قائم کریں،پھر وہ اس کے راز کو فاش کر دے۔(مسلم)
عملی نکات اور موجودہ دور کے تقاضے
قرآن و حدیث کی مذکورہ بالا واضح ہدایات سے ہم درجِ ذیل اصلاحی اور عملی نکات اخذ کر سکتے ہیں: جدید دور میں بغیر کسی شرعی و معقول وجہ کے ایک دوسرے کے فون، چیٹس اور میسجز کو چیک کرنا ’تجسس‘ کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ عمل رشتوں سے اعتماد کو ختم کر دیتا ہے،اگر دل میں کوئی وسوسہ یا شک پیدا ہو جائے تو چھان بین کرنے کے بجائےنرمی کے ساتھ آپسی گفتگو سے معاملے کو صاف کرلینا چاہیے، کیوںکہ شک کی بنیاد پر کی جانے والی چھان بین تباہی لاتی ہے۔ازدواجی تعلق میں یکجائیت کے باوجود ہر ایک انسان کی ایک مستقل ذات اور عزتِ نفس ہوتی ہے، اور ایک دوسرے پر ہر وقت نظر رکھنے سے گھٹن پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے ایسا نہ کیا جائے۔آپس کے اختلافات، غلطیوں یا خامیوں کا تذکرہ اپنے والدین، سسرال یا دوستوں کے سامنے کرنا رشتے کی بنیادیں کھوکھلی کر سکتا ہے، لباس کی طرح اندر کی بات کو اندر ہی رہنے دینا چاہیے،اگر کوئی خامی یا غلطی سامنے آ بھی جائے تو طعنے دینے اور ذلیل کرنے کے بجائے پیار، حکمت اور تنہائی میں نصیحت کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسلامی تعلیمات کا مقصد گھروں کو امن، سکون اور تحفظ کا گہوارہ بنانا ہے، میاں بیوی کا ایک دوسرے کی پرائیویسی میں دخل انداز ہونا، تجسس کرنا اور عیوب کی تلاش میں رہنا شیطانی وسوسوں کو دعوت دیتا ہے، انھیں ایک دوسرے کا محافظ، رازدار اور پردہ پوش بن کر رہنا چاہیے تاکہ ازدواجی زندگی میں شک کی جگہ محبت، سکون اور اللہ کی رحمت نازل ہو۔






