Home Dept of Islamic Studies Articles میقات کے بارے میں جامع رہنمائی

میقات کے بارے میں جامع رہنمائی

ڈاکٹر مفتی ندیم احمد انصاری

اسلامی عبادات میں حج و عمرہ وہ سعادتیں ہیں جن کے لیے قدم قدم پر شرعی احکام کی پابندی ضروری ہے۔ ان احکام میں ’میقات‘ یعنی احرام باندھنے کی جگہ کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ میقات ان حدود کو کہتے ہیں جنھیں پار کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے احرام باندھنا لازم ہو جاتا ہے۔ بعض زائرین معلومات کی کمی کے باعث میقات کے مسائل میں غلطی کر بیٹھتے ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات ان پردَم واجب ہو جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں جامعیت کے ساتھ مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کے لیے میقات کے اہم مسائل اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ان کی حدود کو بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر زائر اس مقدس سفر کو شرعی تقاضوں کے مطابق مکمل کر سکے۔ حج وعمرہ پر جانے والے کے لیے میقات کے مسائل سے آگاہی بے حد ضروری ہے۔ شرعی حدود اور احرام کے مقامات کا لحاظ رکھنا عبادت کی روح ہے۔ ان تفصیلات کا مقصد یہی ہے کہ زائرین کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غیر ارادی غلطی سے بچ سکیں اور ان کی یہ عظیم عبادت سنتِ نبوی کے مطابق ادا ہو کر بارگاہِ الٰہی میں قبولیت حاصل کر سکے۔

آفاقی کون ہے؟

وہ شخص ’آفاقی‘ ہے جس کا گھر مواقیت کے حلقے سے باہر ہو،ان میں اہلِ مدینہ اور وہاں سے گزرنے والوں کےلیے ذوالحلیفہ، اہلِ شام اور جو اس طرف سے آئے؛ جیسے اہلِ مصراور اہلِ مغرب ان کے لیےجحفہ میقات ہے۔ آج کل وہ لوگ جحفہ سے تھوڑا پہلے رابغ سے احرام باندھتے ہیں۔ اہلِ نجد کے لیے قرن المنازل میقات ہے، آج کل اس کو ’السیل‘ کہا جاتا ہے۔ یمن ، تہامہ اور ہندوستان والوں کے لیے ’یلملم‘ میقات ہے۔ اہلِ عراق اور تمام مشرقی لوگوں کے لیے ’ذاتِ عرق‘ میقات ہے۔وَالآْفَاقِيُّ: هُوَ مَنْ مَنْزِلُهُ خَارِجَ مِنْطَقَةِ الْمَوَاقِيتِ، وَمَوَاقِيتُ الآْفَاقِيِّ هِيَ: ذُو الْحُلَيْفَةِ لِأهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ مَرَّ بِهَا، وَالْجُحْفَةُ لِأهْلِ الشَّامِ وَمَنْ جَاءَ مِنْ قِبَلِهَا كَأَهْلِ مِصْرَ وَالْمَغْرِبِ، وَيُحْرِمُونَ الْآنَ مِنْ رَابِغٍ قَبْلَ الْجُحْفَةِ بِقَلِيلٍ، وَقَرْنُ الْمَنَازِلِ وَيُسَمَّى الْآنَ السَّيْلُ لِأهْلِ نَجْدٍ، وَيَلَمْلَمُ لِأهْلِ الْيَمَنِ وَتِهَامَةَ وَالْهِنْدِ، وَذَاتُ عِرْقٍ لِأهْلِ الْعِرَاقِ وَسَائِرِ أَهْلِ الْمَشْرِقِ. [الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]

جدّہ سے ایک گھنٹے پہلے احرام باندھ لیں

آج کل ہندوستان، پاکستان اور ممالکِ مشرقیہ سے آنے والوں کے لیے راستے دو ہیں؛ ایک ہوائی، دوسرا بحری۔ ہوائی جہازوں کا راستہ عموماً خشکی کے اوپر سے بہ راہ قرن المنازل ہوتا ہے، ہوائی جہاز قرن المنازل اور ذاتِ عرق دونوں میقاتوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے اول حل میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر جدہ پہنچتے ہیں ، اس لیے ہوائی سفر میں تو قرن المنازل کے اوپر آنے سے پہلے پہلے احرام باندھنا لازم اور واجب ہے، اور چوں کہ ہوائی جہازوں میں اس کا پتا چلنا تقریباً ناممکن ہے کہ کس وقت اور کب یہ جہاز قرن المنازل کے اوپر سے گزرےگا ، اس لیے اہلِ ہندوستان اور پاکستان کے لیے تو احتیاط اس میں ہے کہ ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے وقت ہی (یا کم از کم جدّہ آنے سے قریب ایک گھنٹے پہلے) احرام باندھ لیں، اگر بغیر احرام باندھے ہوئے ہوائی جہاز کے ذریعے جدہ پہنچ گئے تو ان کے ذمّے دم یعنی ایک بکرے کی قربانی واجب ہو جائے گی، اور گناہ اس کے علاوہ ہو گا۔[جواہر الفقہ]

میقاتی کا میقات

مواقیت یا اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے یا میقات سے مکّے تک کے رہنے والے ’میقاتی‘ ہیں، یہ لوگ جہاں سے عمرہ شروع کریں وہیں سے احرام باندھیںگے(یعنی اگر کوئی میقاتی ہو جومیقات یا اس کے آس پاس رہتا ہو یاوہاں قیام پذیر ہو یا میقات اور حرم کے درمیان علاقے میں رہتا ہو، وہ جہاں سے عمرے کے لیے روانہ ہو گا، وہیںسے احرام باندھ لے گا)، البتہ حنفیہ نے کہا ہے کہ ان کے لیے میقات پوراحلّ ہے۔وَالْمِيقَاتِيُّ: هُوَ مَنْ كَانَ فِي مَنَاطِقِ الْمَوَاقِيتِ أَوْ مَا يُحَاذِيهَا أَوْ مَا دُونَهَا إِلَى مَكَّةَ. وَهَؤُلاَءِ مِيقَاتُهُمْ مِنْ حَيْثُ أَنْشَئُوا الْعُمْرَةَ وَأَحْرَمُوا بِهَا، إِلاَّ أَنَّ الْحَنَفِيَّةَ قَالُوا: مِيقَاتُهُمُ الْحِلُّ كُلُّهُ.[الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]

مکّی کا میقات

حرمِ مکّی کے علاقوں میں رہنے والا اور وہ شخص جو مکّے یا حرم میں مقیم ہو ’حرمی‘ ہے، عمرے کے احرام کے لیے ان کا میقات حلّ ہے، لہٰذا عمرے کے لیے ان کا حرم سے حلّ کی طرف نکلنا ضروری ہے، اگر چہ وہ حرم سے حلّ کی طرف ایک قدم ہی نکلے۔وَالْحَرَمِيُّ وَهُوَ الْمُقِيمُ بِمِنْطَقَةِ الْحَرَمِ وَالْمَكِّيُّ وَمَنْ كَانَ نَازِلاً بِمَكَّةَ أَوِ الْحَرَمِ، هَؤُلاَءِ مِيقَاتُهُمْ لِلْإحْرَامِ بِالْعُمْرَةِ الْحِلُّ، فَلاَ بُدَّ أَنْ يَخْرُجُوا لِلْعُمْرَةِ عَنِ الْحَرَمِ إِلَى الْحِلِّ وَلَوْ بِخُطْوَةٍ وَاحِدَةٍ يَتَجَاوَزُونَ بِهَا الْحَرَمَ إِلَى الْحِلِّ. [الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]

احرام کے بغیر میقات سے گزرنا

آفاقی کا ارادہ اگر حج یا عمرے یا قران کا ہو اور وہ میقات پر پہنچ جائے تو اس کے لیے احرام کے بغیر وہاںسے آگے بڑھنا بالاجماع حرام ہے۔وَأَمَّا الْإجْمَاعُ فَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِذَا انْتَهَى الآْفَاقِيُّ إِلَى الْمِيقَاتِ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَةَ أَوِ الْقِرَانَ حَرُمَ عَلَيْهِ مُجَاوَزَتُهُ غَيْرَ مُحْرِمٍ بِالْإجْمَاعِ. [الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]

میقات کا بیان حدیث شریف میں

حضرت ابنِ عباسؓنے بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے اہلِ مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہلِ شام کے لیے جحفہ، اہلِ نجد کے لیے قرنِ منازل اور اہلِ یمن کے لیے یلملم کو مقرر کیا، یہ ان کے لیے میقات ہے، اور ان کے لیے جو دوسرے مقامات سے حج اور عمرےکے ارادے سے آئیں، اور جو ان مواقیت کے اندر رہنے والا ہے وہ وہیں سے احرام باندھے جہاں سے چلا ہے یہاں تک کہ اہلِ مکہ مکّے ہی سے احرام باندھ لیں۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ”. [بخاری]

کون کہاں سے احرام باندھے؟

آفاقی میقات سے احرام باندھےگا؛ حج کا بھی اور عمرے کا بھی۔ حج اور عمرے کا احرام ایک طرح کا ہوتا ہے صرف نیت کا فرق ہے، اور حلّی اپنے گھر سے یا حرم میں داخل ہونے سے پہلے احرام باندھےگا۔ اور حرمی خواہ حقیقی حرمی ہو یا حکمی ؛حج کا احرام حرم سے باندھے گا؛ چاہے گھر سے باندھے، چاہے مسجدِ حرام سے، اور عمرے کا احرام حرم سے نکل کر حلّ سے باندھے گا۔جو مکّے کا باشندہ ہے وہ حقیقی حرمی ہے اور جو باہر سے مکّے میں آیا ہے اور اس نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ہے وہ حکماً حرمی ہے، وہ عمرے کا احرام حرم سے نکل کر حلّ سے باندھےگا۔ [تحفۃ القاری]

اہلِ مکہ کے لیے احرام باندھنے کا افضل مقام

جو شخص مکہ مکرمہ میں مقیم ہو وہ حدودِ حرم سے نکل کر حلّ کے کسی بھی مقام سے عمرے کا احرام باندھ سکتا ہے، حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک افضل یہ ہے کہ وہ تنعیم (مسجدِ عائشہؓ) جا کر عمرے کا احرام باندھ کر آئے،راجح یہی ہے، اس لیے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرؓ کو حکم دیا تھا کہ حضرت عائشہؓکو تنعیم سے عمرہ کرائیں، لہٰذا یہ افضل ہوگا، اس لیے کہ قول کی دلالت فعل کی دلالت سے مقدّم ہوتی ہے۔ اخْتَلَفَ الْفُقَهَاءُ فِي أَيِّ الْحِلِّ أَفْضَلُ لِلإْحْرَامِ بِالْعُمْرَةِ لِمَنْ كَانَ بِمَكَّةَ أَوِ الْحَرَمِ. فَعِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ وَهُوَ الْمَذْهَبُ عِنْدَ الْحَنَابِلَةِ أَنَّ الإْحْرَامَ مِنَ التَّنْعِيمِ أَفْضَلُ؛ لأِنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُعْمِرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ،فَهُوَ أَفْضَلُ تَقْدِيمًا لِدَلاَلَةِ الْقَوْلِ عَلَى دَلاَلَةِ الْفِعْلِ. [الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ]

دوسرے عمرے کا احرام کہاں سے باندھے؟

آفاقی ایک عمرہ مکمل کرکے تمام ارکان سے فارغ ہونےکے بعد حدودِ حرم میں رہے تو وہ مکّی کے حکم میں ہوگا اور وہ حلّ میں (حدودِ حرم سے باہر اور میقات کے اندر) کسی بھی جگہ جاکر عمرے کا احرام باندھ کر دوسرا عمرہ کرسکتا ہے، لیکن تنعیم (مسجدِ عائشہؓ) جاکر احرام باندھنا افضل اور بہتر ہے۔والمیقات لمن بمکة یعني من بداخل الحرم للحج الحرم وللعمرة الحل؛ لیتحقق نوع سفر، والتنعیم أفضل. وفي الشامية: والمراد بالمکي من کان داخل الحرم سواء کان بمکة أولا، وسواء کان من أهلها أو لا.[شامی]
اللہ تعالیٰ تمام زائرین کو صحیح مسائل کے ساتھ باادب حاضری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(کالم نگار مشہور عالمِ دین، تقریباً پچاس کتابوں کے مصنف اور الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی کے صدر و مفتی ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here