قرآن کا پیغام (پارہ:۱۴)
مفتی ڈاکٹر ندیم احمد انصاری
(استاذ و مفتی الفلاح انٹرنیشنل فاؤنڈیشن، ممبئی)
قرآن مجید کا چودھواں پارہ ﴿رُبَمَا﴾ ایک کائناتی شاہ کار ہے، یہ انسانی نظامِ زندگی کا مکمل نقشہ پیش کرتا ہے۔ یہ دو اہم مکّی سورتوں؛سورۃ الحجراور سورۃ النحل پر مشتمل ہے۔ یہ پارہ خالقِ کائنات کی صناعی کے نمونے پیش کرتا اور انسان کو اخلاقی و سماجی اصول عطا کرتا ہے۔
سورۃ الحِجر
حفاظتِ قرآن کا آفاقی معجزہ: سورۃ الحجر کا آغاز حروفِ مقطعات ﴿الۗرٰ ۣ ﴾ سے ہوتا ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب کفارِ مکہ اسلام کا مذاق اڑا رہے تھے اور حضرت نبی کریم ﷺ کو معاذ اللہ مجنوں تک کہہ رہے تھے۔ اس پارے کی ایک عظیم الشان آیت یہ ہے:﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾ حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ چوںکہ یہ آخری پیغام ہے، اس لیے اس کی حفاظت کی ذمّےداری خود اللہ پر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی تہذیبیں مٹ گئیں، زبانیں بدل گئیں، لیکن قرآن مجید کا ایک ایک شوشہ آج بھی وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے تھا۔ یہ آیت مسلمانوں کو ذہنی سکون عطا کرتی ہے کہ باطل چاہے کتنی ہی طاقت کیوں نہ جمع کر لے، وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو ہرگز ہرگز مٹا نہیں سکتا۔
انسانی تخلیق اور نفسیاتی جنگ: اللہ تعالیٰ نے انسانی مادۂ تخلیق (مٹی) اور جنات کے مادۂ تخلیق (آگ) کا تقابل کیا ہے۔ جب ابلیس نے سجدے سے انکار کیا تو اس نے اپنی برتری کی دلیل مادّے پر رکھی۔ یہ گویا کائنات کا پہلا نسلی تعصب [Racism] تھا۔ اس کی پاداش میں شیطان جب بارگاہِ رب العزت سے نکالا گیا تو کہنے لگا :﴿رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ ﴾ یا رب ! چوںکہ تو نے مجھے گم راہ کیا ہے، اس لیے اب میں قسم کھاتا ہوں کہ ان انسانوں کے لیے دنیا میں دل کشی پیدا کروں گا اور ان سب کو گم راہ کر کے رہوں گا۔ یہ انسانی نفسیات کی وہ کم زوری ہے جہاں برائی کو گلیمرائز [Glamorize] کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں مخلص بندوں کو شیطان کے تسلط سے آزاد قرار دے کر یہ واضح کر دیا کہ تقویٰ وہ ڈھال ہے جو شیطانی وسوسوں سے بچا سکتی ہے۔
سورۃ النحل
کائنات کی تسخیر اور نعمتوں کا شکر: اس سورت کا نام ’النحل‘ (شہد کی مکھی) رکھنا اللہ تعالیٰ کے اس الہامی نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک چھوٹی سی مخلوق میں رکھا گیا ہے۔ اس سورت کونعمتوں کا انسائیکلوپیڈیا [Encyclopedia] کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد انسان کو کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اس کے اصل مالک تک پہنچانا ہے۔سورت کے درمیانی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حیوانات کی زندگی سے ایک نہایت گہرا سبق دیا ہے جسے خالص دودھ کی مثال سے واضح کیا گیا ہے: ﴿وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ﴾ کہ ہم تمھیں چوپایوں کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان سے نکال کر ایسا خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے نہایت خوش گوار اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ گندگی اور نامساعد حالات کے درمیان بھی پاکیزہ رزق پیدا کرنے پر قادر ہے۔اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کی تخلیق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نہ صرف سواری اور زینت کا ذریعہ ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ وہ کچھ بھی پیدا کرتا ہے جسے تم (ابھی) نہیں جانتے۔ یہ جملہ جدید دور کی ایجادات اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کی طرف ایک اشارہ ہے کہ انسانی ترقی کے تمام راستے دراصل اللہ ہی کی تخلیقی صلاحیتوں کا ظہور ہیں۔ پارے کے آخر میں انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو پاکر ظالم اور ناشکرا نہ بنے۔ ایک مثالی معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی ضروریات کے لیے فطرت کو مسخر تو کرے لیکن اس کے اصل خالق کی بندگی سے غافل نہ ہو۔ یہ توازن ہی انسان کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتا ہے۔
شہد کی مکھی- ایک زندہ معجزہ: شہد کی مکھی کا پہاڑوں میں گھر بنانا، میلوں دور جا کر رس چوسنا اور پھر ایسا شہد تیار کرنا جس میں انسانوں کے لیے ’شفا‘ ہے، جدید بائیولوجی کے لیے بھی حیرت کا باعث ہے۔ قرآن مجید نے اسے فکروتدبّر کرنے والوں کے لیے نشانی قرار دیا ہے۔ نیز شہد کی مکھی کا سماجی نظام [Social Structure] ہمیں اتحاد، نظم و ضبط اور محنت کا درس دیتا ہے۔
سماجی و اخلاقی ضابطۂ حیات:اس پارے کا دوسرا نصف حصہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے قوانین پر مبنی ہے۔سورۂ نحل کی آیت نمبر۹۰؍ قرآن مجید کی جامع ترین آیات میں سے ہے۔ اسی لیے ہر جمعے کے خطبے میں اسے پڑھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کا، احسان کا، اور رشتے داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی، برائی اور ظلم سے روکتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔
حیاتِ طیبہ کا تصور: اللہ تعالیٰ نے سورۂ نحل کی آیت ۹۷؍ میں ایک بہت بڑا وعدہ فرمایا ہے:﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ﴾ جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیںگے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔ یہاں حیاتِ طیبہ سے مراد صرف مال و دولت نہیں بلکہ وہ قلبی سکون اور اطمینان ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔ یہ آیت صنفی عدل [Gender Equality]کی بہترین مثال ہے کہ اجر کے معاملے میں مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔
دعوت و تبلیغ کے اصول:پارے کے اختتام پر سورۂ نحل کی آیت ۱۲۵؍ میں اللہ تعالیٰ نے داعیانِ حق کو دعوت کا وہ طریقہ سکھایا ہے جس سے دلوں کو فتح کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد فرمایا: ﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ﴾ اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ، اور اگر بحث کی نوبت آئے تو ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ یقیناً تمھارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راہِ راست پر قایم ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اگر کوئی تمھارے ساتھ برائی کرے تو تم صبر کرو اور اگر بدلہ لینا ہو تو صرف اتنا ہی لو جتنا تم پر ظلم ہوا، لیکن صبر کرنا سب سے بہتر ہے۔ آخر میں فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ﴾ یقین رکھو کہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔ اس میں تمام ذہنی دباؤ [Stress] کا علاج دے دیا گیا۔
حاصلِ کلام :چودھواں پارہ ہمیں ایک ایسے انسان کی شکل میں ڈھالتا ہے جو کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی عاجزی کے ساتھ کرتا ہے اور معاشرے میں ایک مصلح [Reformer] کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پارہ انسان کو غفلت سے نکال کر حقیقت کی طرف لاتا ہے۔






